المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جان بوجھ کر زخمی کرنے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: ثنا قُرَّةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: أَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ يَوْمُ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ هَذَا ذَا الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، أَلا لا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم نحر (دس ذوالحجہ) کو خطبہ دیا تو فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا (آج) یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کا خون اور مال آپ پر اسی طرح حرام کیا ہے، جس طرح آپ کا آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والا ہے اور یہ حرمت قیامت کے دن تک ہے، کیا میں نے (اللہ کا) پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اللہ! گواہ ہو جا۔ حاضر غائب کو یہ پیغام پہنچا دے، بسا اوقات وہ آدمی جسے بات پہنچائی جاتی ہے، سننے والے کی نسبت زیادہ یاد رکھتا ہے، سن لیں! میرے بعد آپ کا کافر بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 833]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1741، صحیح مسلم: 1679/31»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي، أبو بحر، أبو حاتم | ثقة | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥قرة بن خالد السدوسي، أبو خالد، أبو محمد قرة بن خالد السدوسي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ضابط | |
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر عبد الملك بن عمرو القيسي ← قرة بن خالد السدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← عبد الملك بن عمرو القيسي | ثقة حافظ جليل |
محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي