🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
قربانیوں کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ رَجُلا مِنْ بَنِي شَيْبَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا ذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَضَاحِي، أَوْ مَاذَا نَهَى عَنْهُ؟، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ لا تُجْزِئُ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ضَلَعُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لا تُنْقِي، قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ أَوْ فِي الْقَرْنِ أَوْ فِي الأُذُنِ نَقْصٌ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلا تُحَرِّمْهُ عَلَى أحَدٍ" .
عبید بن فیروز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سی قربانی نا پسند کیا کرتے تھے؟ یا کیسی قربانی سے منع کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار طرح کے جانور کفایت نہیں کرتے: وہ کانا جانور، جس کا کانا پن واضح ہو وہ لنگڑا، جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو وہ بیمار جس کا بیمار ہونا واضح ہو وہ لاغر جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔ میں نے کہا: میں تو دانت، سینگ اور کان میں نقص کو بھی نا پسند کرتا ہوں، تو انہوں (سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: جو آپ کو نا پسند ہے، اسے چھوڑ دیں لیکن کسی پر حرام قرار نہ دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/284، سنن أبي داود: 2802، سنن النسائي: 4374، سنن الترمذي: 1497، سنن ابن ماجه: 3144، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2912) امام ابن حبان رحمہ اللہ (5919، 5922) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/467، 468) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عبيد بن فيروز الشيباني، أبو الضحاك
Newعبيد بن فيروز الشيباني ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن إنسان الدمشقي، أبو عمرو، أبو عمر
Newسليمان بن إنسان الدمشقي ← عبيد بن فيروز الشيباني
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن إنسان الدمشقي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة مأمون
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة