المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نذروں (منتوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَأَنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْضُوا اللَّهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میری بہن فوت ہو چکی ہے، انہوں نے حج کی نذر مانی تھی (تو میں کیا کروں)، فرمایا: اگر ان پر قرض ہوتا، تو کیا آپ اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: اللہ تعالیٰ کا بھی (حق) ادا کریں، کیوں کہ وہ ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6696۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي