المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
وراثت کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحَ مَكَّةَ: " لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ لَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا، وَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا تھا: دو ادیان کے پیروکار ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے عورت اپنے خاوند کی دیت اور مال کی وارث بنے گی اور خاوند بیوی کی دیت اور مال کا وارث بنے گا، جب تک ان میں سے کسی نے دوسرے کو قتل نہ کیا ہو، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو، تو وہ اس کی دیت اور مال میں سے کچھ بھی وارث نہیں بنے گا، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کیا ہو، تو وہ اس کے مال کا وارث تو بنے گا، دیت کا وارث نہیں بنے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/178، 195، سنن أبي داود: 2911، سنن ابن ماجه: 2731، سنن الدارقطنی: 4/7372، حسن بن صالح بجلی راوی ”حسن الحدیث“ ہے، اسے امام ابن شاہین رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔ عمر بن سعید طائی راوی بھی ثقہ ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي