🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
مکاتب اور مدبر (غلاموں کی اقسام) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ، فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، قَالَتْ: فَقُلْتُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا فَكَلَّمَتْهُمْ فِي ذَلِكَ، فَأَبَوْا إِلا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلاءُ، فَأَتَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا بِالَّذِي قَالَ لَهَا أَهْلُهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَلا إِذًا، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ بِالَّذِي قَالُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلانُ وَلِيَ الْوَلاءُ، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا (لونڈی) میرے پاس آکر کہنے لگی: میرے مالکوں نے میرے ساتھ نو سالوں میں نو اوقیہ چاندی (ادا کرنے) کے عوض مکاتبت کی ہے، جسے میں ہر سال ایک اوقیہ کی صورت میں ادا کروں گی، چنانچہ میری مدد کیجیے۔ میں نے کہا: اگر آپ کا مالک یہ چاہے کہ میں ساری رقم اسے ایک ہی مرتبہ ادا کر کے آپ کو آزاد کر والوں اور آپ کے ولاء کی نسبت مجھے مل جائے، تو میں یہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ان سے اس بارے میں بات کی، تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور اپنے مالکوں کا جواب انہیں بتایا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تب میں قیمت ادا نہیں کروں گی۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور ان (مالکوں) کی بات آپ کو بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اسے خرید کر آزاد کر دیں اور ان سے ولاء کی شرط لگا لیں، کیوں کہ ولاء کا حقدار آزاد کرنے والا ہی ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: آپ میں سے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں، جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، خواہ سینکڑوں شرطیں ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کا فیصلہ ہی برحق ہے اور اللہ کی شرط ہی نہایت پختہ ہے، آپ میں سے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے: اے فلان! آزاد تو کر دے اور ولاء میری ہوگی ہاں لیں! ولاء اسی کی ہوتی ہے، جو آزاد کرتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2560، صحيح مسلم: 1504۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة