المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
مکاتب اور مدبر (غلاموں کی اقسام) کا بیان
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ إِذَا قُتِلَ أَنْ يُؤَدَّى بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةُ الْحُرِّ" ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لا يُقَامُ عَلَى الْمُكَاتَبِ إِلا حَدُّ الْمَمْلُوكِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے: مکاتب (وہ غلام جس کا مالک سے معاہدہ ہو چکا ہو کہ وہ اتنی رقم مالک کو ادا کر کے آزاد ہو جائے گا) کو اگر قتل کر دیا جائے، تو جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہے، اتنی دیت آزاد کی ادا کی جائے گی (اور جتنا غلام ہے اتنی غلام کی دیت ادا کی جائے گی) ابن عباس یہ فرماتے ہیں: مکاتب پر غلام والی حد لگائی جائے گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 1/260، سنن أبي داود: 4581، سنن النسائي: 4814۔ یحیی بن ابی کثیر مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي