مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
20. في صدقة الغنم متى تجب فيها وكم فيها
بکریوں پر کب اور کتنی زکوٰۃ فرض ہے؟
ترقیم عوامۃ: 10057 ترقیم الشثری: -- 10229
١٠٢٢٩ - حدثنا عباد بن عوام عن سفيان بن حسين عن الزهري عن سالم عن ابن عمر (قال) (١) : قال: كتب رسول الله ﷺ كتاب الصدقة، فقرنه بسيفه، او قال بوصيته ولم يخرجه إلى عماله حتى قبض، ثم عمل به ابو بكر حتى هلك، وعمل به عمر في صدقة الغنم، في كل اربعين شاة شاة إلى عشرين ومائة، فإن زادت (فشاتان) (٢) إلى مائتين، (فإن) (٣) زادت (فثلاث) (٤) إلى ثلاثمائة، فإن زادت ففي كل مائة (شاة) (٥) شاة ليس فيها شيء حتى (تبلغ) (٦) المائة، ولا يفرق بين مجتمع ولا (يجمع) (٧) بين (مفترق) (٨) ، وما كان من خليطين فإنهما (يتراجعان) (٩) بالسوية (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ح، ك، ز، ص] زيادة: (قال).
(٢) في [ب]: (شاتان).
(٣) في [ص]: (زادت).
(٤) في [ب]: سقط.
(٥) في [ح]: سقط.
(٦) في [ص]: (بلغ).
(٧) في [هـ]: (يجتمع).
(٨) في [ص، ك]: (مفرق).
(٩) في [ص]: (يراجعان) وفي [ب]: (يتراجحان) وفي [ك]: (تتراجعان).
(١٠) ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، أخرجه أحمد (٤٦٣٢)، وأبو داود (١٥٦٨)، والترمذي (٦٢١)، وابن ماجه (١٧٩٨)، وابن خزيمة (٢٢٦٧)، والحاكم ١/ ٣٩٢، وأبو يعلى (٥٤٧٠)، والبيهقي ٤/ ٨٨، والدارمي ١/ ٣٨٢، وأبو عبيد في الأموال (٩٣٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٨٢٠) وابن عدي ٣/ ١١٣٦.
حدثنا عباد بن عوام ، عن سفيان بن حسين ، عن الزهري ، عن سالم ، عن ابن عمر ، قال: قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم كتاب الصدقة فقرنه بسيفه، او قال بوصيته، ولم يخرجه إلى عماله حتى قبض عمل به ابو بكر حتى هلك، وعمل به عمر: " في صدقة الغنم في كل اربعين شاة شاة إلى عشرين ومائة، فإن زادت فشاتان إلى مائتين، فإن زادت فثلاث إلى ثلاثمائة، فإن زادت ففي كل مائة شاة شاة ليس فيها شيء حتى تبلغ المائة، ولا يفرق بين مجتمع، ولا يجمع بين مفترق، وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بالسوية"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکامات لکھے اور ان کو اپنی تلوار کے ساتھ رکھ لیا اور اسکو زکوٰۃ وصول کرنے والوں کیلئے نہیں نکالا یہاں تک کہ آپ دار فانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صدیق اکبر اس پر عمل پیرا رہے یہاں کہ وہ دار فانی سے ہجرت کر گئے، اور آپ کے بعد پھر حضرت عمر اس پر عمل پیرا رہے۔ اس میں بکریوں کی زکوٰۃ سے متعلق تحریر تھا کہ چالیس بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے ایک سو بیس بکریوں تک، پھر اگر ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو اس پر دو بکریاں ہیں دو سو تک۔ پھر اگر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ پھر اگر اس پر ایک بکری زائد ہوجائے تو ہر سو بکریوں پہ ایک بکری ہے اور پھر کچھ نہیں ہے (درمیانی عدد پر) یہاں تک کہ پھر سو ہوجائیں۔ اور مجتمع کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا اور الگ الگ کو مجتمع نہیں کیا جائے گا، اور اگر دو شریک ہوں تو وہ بعد میں آپس میں ایک دوسرے سے برابر رجوع کرلیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10229]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10229، ترقيم محمد عوامة 10057)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 10229 in Urdu