🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
198. من رخص في البكاء على الميت
بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12253 ترقیم الشثری: -- 12502
١٢٥٠٢ - حدثنا شبابة بن سوار ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت (عن) (١) انس قال: قال رسول الله ﷺ:"ولد لي الليلة غلام فسميته باسم ابي: إبراهيم"، قال: ثم (دفعه) (٢) إلى ام سيف -امراة قين بالمدينة يقال له ابو سيف- فانطلق ⦗٢٥٩⦘ رسول الله ﷺ وانطلقت معه فصادفنا ابا سيف ينفخ في كيره وقد امتلا البيت دخانا، فاسرعت المشي بين يدي النبي ﷺ حتى انتهى إلى ابي سيف (فقلت) (٣) : يا ابا سيف امسك امسك جاء رسول الله ﷺ. فامسك، فدعا رسول الله ﷺ بالصبي فضمه إليه، وقال: ما شاء الله ان يقول، قال انس: فلقد رايته يكيد بنفسه قال: فدمعت (عينا) (٤) النبي ﷺ فقال رسول الله ﷺ:"تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول إلا ما يرضي ربنا وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (بن).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (رفعه).
(٣) في [أ، ب، ص]: (فقال).
(٤) في [أ، ب، ص]: (عين).
(٥) صحيح، أخرجه البخاري (١٣٠٣)، ومسلم (٢٣١٥).

حدثنا شبابة بن سوار ، ثنا سليمان بن المغيرة ، عن ثابت ، عن انس ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ولد لي الليلة غلام فسميته باسم ابي إبراهيم قال: ثم رفعه إلى ام سيف امراة قين بالمدينة يقال له ابو سيف، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وانطلقت معه فصادفنا ابا سيف ينفخ في كيره وقد امتلا البيت دخانا فاسرعت المشي بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم حتى انتهي إلى ابي سيف، فقلت يا ابا سيف: امسك امسك جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فامسك، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصبي فضمه إليه وقال ما شاء الله ان يقول، قال انس: فلقد رايته يكيد بنفسه قال: فدمعت عينا النبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" تدمع العين , ويحزن القلب , ولا نقول إلا ما يرضي ربنا، وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون"
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات میرا بیٹا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے والد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔ پھر آپ نے اس کو ام سیف کے پاس دودھ پلانے کے لیے بھیج دیا جو مدینہ کے ابو سیف لوہار کی بیوی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، ہم اچانک ابو سیف کے پاس پہنچے جو اپیا دھونکنی میں پھونک مار رہا تھا جس کی وجہ سے سارے گھر میں دھواں بھرا ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیز چل کر ابو سیف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا: اے ابو سیف رک جا رک جا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے کو بلایا اور اس کو سینے سے لگایا اور کہا جو اللہ نے چاہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان (ابراہیم) کو دیکھا کہ وہ نزع کی تکلیف میں مبتلا ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھیں بہہ رہی ہیں اور دل غمگین ہے اور ہم بات نہیں کریں گے مگر جس سے ہمارا رب راضی ہو اور اے ابراہیم! ہم تیری وجہ سے بہت غمگین اور مغموم ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12502]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12502، ترقيم محمد عوامة 12253)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12502 in Urdu