مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
198. من رخص في البكاء على الميت
بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
ترقیم عوامۃ: 12250 ترقیم الشثری: -- 12499
١٢٤٩٩ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابي عثمان عن اسامة بن زيد قال: دمعت (عين) (١) رسول الله ﷺ حين اتي (بابنة) (٢) (زينب) (٣) ونفسها تقعقع كانها في شن قال: فبكى، قال: فقال له رجل: تبكي وقد نهيت عن البكاء؟ فقال:"إنما هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده وإنما يرحم الله من عباده الرحماء" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكررت في [ب].
(٢) في [أ، ص]: (ابنته).
(٣) سقط في [ص].
(٤) صحيح، أخرجه البخاري (٥٦٥٥) ومسلم (٩٢٣).
حدثنا ابو معاوية ، عن عاصم ، عن ابي عثمان ، عن اسامة بن زيد ، قال: دمعت عين رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اتي بابنة زينب , ونفسها تقعقع كانها في شن قال: فبكى قال: فقال له رجل: تبكي , وقد نهيت عن البكاء؟ فقال:" إنما هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده، وإنما يرحم الله من عباده الرحماء"
حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب حضرت زینب کی بیٹی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت زینب کا سانس اکھڑ رہا تھا، گویا کہ وہ بڑھاپے میں ہیں، یہ حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو پڑے، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ رو رہے ہیں حالانکہ آپ نے تو رونے سے منع کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو رحمت (کے آنسو) ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے، بیشک اللہ پاک اس پر رحم کرتا ہے جو اس کے بندوں پر رحم کرنے والا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12499]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12499، ترقيم محمد عوامة 12250)
ترقیم عوامۃ: 12251 ترقیم الشثری: -- 12500
١٢٥٠٠ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن ابي ليلى عن عطاء عن جابر قال: اخذ النبي ﷺ بيد عبد الرحمن بن عوف فخرج به إلى النخل فاتي بإبراهيم وهو يجود بنفسه (فوضع) (١) في حجره، فقال:"يا بني لا املك لك من الله شيئا"، وذرفت (عينه) (٢) فقال له عبد الرحمن: تبكي يا رسول الله او لم تنه عن البكاء؟ قال:"إنما نهيت عن النوح عن صوتين (احمقين) (٣) فاجرين صوت عند (نغمة) (٤) (لهو ولعب) (٥) (و) (٦) مزامير شيطان، وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب ⦗٢٥٨⦘ ورنة شيطان، إنما هذه رحمة ومن لا يرحم لا يرحم، يا إبراهيم لولا انه امر حق ووعد صدق وسبيل ماتيه، وإن (اخرانا) (٧) (سيلحق) (٨) اولانا، لحزنا (٩) عليك حزنا اشد من هذا، وانا بك لمحزونون، تبكي العين و (يحزن) (١٠) القلب ولا نقول ما يسخط الرب" (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (فوضعه).
(٢) في [ب]: (عينيه).
(٣) في [ص]: (أجمعين).
(٤) في [أ]: (لقمة).
(٥) في [ص]: (لعب ولهو).
(٦) سقطت الواو من [ب].
(٧) في [ص]: (لم خرانا).
(٨) في [ص]: (سنلحق)، وفي [ب]: (لستلحق)، وفي [أ]: (ستلحق)، وفي [هـ]: (لنلحق).
(٩) في [ص]: زيادة (و).
(١٠) في [ص]: (عوف).
(١١) ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى، أخرجه الترمذي (١٠٠٥)، وعبد بن حميد (١٠٠٤)، والطيالسي (١٦٨٤)، والبيهقي ٤/ ٦٩، والبغوي (١٥٣٠)، وبنحوه الحاكم ٤/ ٤٠، والطحاوي ٤/ ٢٩٣.
حدثنا علي بن هاشم ، عن ابن ابي ليلى ، عن عطاء ، عن جابر ، قال: اخذ النبي صلى الله عليه وسلم بيد عبد الرحمن بن عوف فخرج به إلى النخل، فاتي بإبراهيم وهو يجود بنفسه , فوضع في حجره , فقال:" يا بني، لا املك لك من الله شيئا , وذرفت عينه"، فقال له عبد الرحمن: تبكي يا رسول الله او لم تنه عن البكاء؟ قال:" إنما نهيت عن النوح، عن صوتين احمقين فاجرين: صوت عند نعمة لهو ولعب ومزامير شيطان، وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب ورنة شيطان، إنما هذه رحمة , ومن لا يرحم لا يرحم، يا إبراهيم لولا انه امر حق ووعد صدق وسبيل ماتية، وإن آخرنا سيلحق اولانا لحزنا عليك حزنا اشد من هذا، وإنا بك لمحزونون , تبكي العين , ويحزن القلب , ولا نقول ما يسخط الرب"
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور کھجور کے درختوں کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو لایا گیا وہ اس وقت قریب المرگ تھے، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بیٹے! میں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت عبد الرحمن نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے، دو فاجر اور احمق آوازوں سے: نغمہ کے وقت لھو ولعب کی آواز اور شیطان کی بانسری (کی آواز) اور مصیبت کی وقت کی آواز: چہروں کو نوچنا، گریبان چاک کرنا اور شیطان کی طرح زور سے چیخنا، بیشک یہ تو رحمت کے آنسو ہیں، اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اے ابراہیم اگر یہ امر حق نہ ہوتا، وعدہ سچا نہ ہوتا اور راستہ اور جہت انجانی نہ ہوتی اور ہمارے آخر والے عنقریب ہمارے پہلوں سے ملنے والے نہ ہوتے تو ہمارا غم تیرے بارے میں اس سے زیادہ ہوتا، اور ہم تیری وجہ سے البتہ غمگین ہیں آنیں ور روتی ہیں اور دل غمگین اور مغموم ہے اور ہم ایسی بات نہیں کریں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12500]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12500، ترقيم محمد عوامة 12251)
ترقیم عوامۃ: 12252 ترقیم الشثری: -- 12501
١٢٥٠١ - حدثنا وكيع ثنا هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة قال: ذكر لها حديث ابن عمر: ان الميت (ليعذب) (١) ببكاء الحي فقالت: وهل ابو عبد الرحمن كما وهل يوم قليب (بدر) (٢) إنما قال رسول الله ﷺ:"إنه ليعذب وإن اهله ليبكون عليه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (يعذب).
(٢) في [أ، ب]: (بدرًا).
(٣) صحيح، أخرجه البخاري (٣٩٧٨)، ومسلم (٩٣٢).
حدثنا وكيع ، ثنا هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة ، قال: ذكر لها حديث ابن عمر، ان الميت ليعذب ببكاء الحي، فقالت: وهل ابو عبد الرحمن كما وهل يوم قليب بدر، إنما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنه ليعذب , وإن اهله ليبكون عليه".
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بیان کی گئی کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا حضرت ابو عبد الرحمن کو اسی طرح غلطی ہوئی ہے جس طرح انہیں بدر کے کنویں کے مقتولوں کے بارے میں غلطی ہوئی تھی۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک میت کو عذاب دیا جا رہا ہوتا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12501]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12501، ترقيم محمد عوامة 12252)
ترقیم عوامۃ: 12253 ترقیم الشثری: -- 12502
١٢٥٠٢ - حدثنا شبابة بن سوار ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت (عن) (١) انس قال: قال رسول الله ﷺ:"ولد لي الليلة غلام فسميته باسم ابي: إبراهيم"، قال: ثم (دفعه) (٢) إلى ام سيف -امراة قين بالمدينة يقال له ابو سيف- فانطلق ⦗٢٥٩⦘ رسول الله ﷺ وانطلقت معه فصادفنا ابا سيف ينفخ في كيره وقد امتلا البيت دخانا، فاسرعت المشي بين يدي النبي ﷺ حتى انتهى إلى ابي سيف (فقلت) (٣) : يا ابا سيف امسك امسك جاء رسول الله ﷺ. فامسك، فدعا رسول الله ﷺ بالصبي فضمه إليه، وقال: ما شاء الله ان يقول، قال انس: فلقد رايته يكيد بنفسه قال: فدمعت (عينا) (٤) النبي ﷺ فقال رسول الله ﷺ:"تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول إلا ما يرضي ربنا وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (بن).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (رفعه).
(٣) في [أ، ب، ص]: (فقال).
(٤) في [أ، ب، ص]: (عين).
(٥) صحيح، أخرجه البخاري (١٣٠٣)، ومسلم (٢٣١٥).
حدثنا شبابة بن سوار ، ثنا سليمان بن المغيرة ، عن ثابت ، عن انس ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ولد لي الليلة غلام فسميته باسم ابي إبراهيم قال: ثم رفعه إلى ام سيف امراة قين بالمدينة يقال له ابو سيف، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وانطلقت معه فصادفنا ابا سيف ينفخ في كيره وقد امتلا البيت دخانا فاسرعت المشي بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم حتى انتهي إلى ابي سيف، فقلت يا ابا سيف: امسك امسك جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فامسك، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصبي فضمه إليه وقال ما شاء الله ان يقول، قال انس: فلقد رايته يكيد بنفسه قال: فدمعت عينا النبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" تدمع العين , ويحزن القلب , ولا نقول إلا ما يرضي ربنا، وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون"
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات میرا بیٹا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے والد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔ پھر آپ نے اس کو ام سیف کے پاس دودھ پلانے کے لیے بھیج دیا جو مدینہ کے ابو سیف لوہار کی بیوی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، ہم اچانک ابو سیف کے پاس پہنچے جو اپیا دھونکنی میں پھونک مار رہا تھا جس کی وجہ سے سارے گھر میں دھواں بھرا ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیز چل کر ابو سیف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا: اے ابو سیف رک جا رک جا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے کو بلایا اور اس کو سینے سے لگایا اور کہا جو اللہ نے چاہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان (ابراہیم) کو دیکھا کہ وہ نزع کی تکلیف میں مبتلا ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھیں بہہ رہی ہیں اور دل غمگین ہے اور ہم بات نہیں کریں گے مگر جس سے ہمارا رب راضی ہو اور اے ابراہیم! ہم تیری وجہ سے بہت غمگین اور مغموم ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12502]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12502، ترقيم محمد عوامة 12253)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 12481
(١٢٤٨١) [*] حدثنا عبيد الله بن موسى ثنا اسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر قال: رجع رسول الله ﷺ يوم احد فسمع نساء بني عبد الاشهل يبكين (على) (١) هلكاهن فقال:"لكن حمزة لا بواكي له"، فجئن نساء الانصار (يبكين) (٢) على حمزة فرقد فاستيقظ فقال:"يا ويحهن إنهن لهاهنا حتى الآن، مروهن فليرجعن ولا يبكين على هالك بعد اليوم" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في (ص).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (فبكين).
(٣) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، أخرجه أحمد (٥٥٦٣)، وابن ماجه (١٥٩١)، والحاكم ٣/ ١٩٤، وأبو يعلى (٣٥٧٦)، والطحاوي ٤/ ٢٩٣، والطبراني (٢٩٤٤)، وابن سعد ٣/ ١٧، والبيهقي ٤/ ٧٠.
[*] قال مُعِدُّ الكتاب للشاملة: كذا الرقم بالمطبوع، وهو غلط
حدثنا عبيد الله بن موسى ، ثنا اسامة بن زيد ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال: رجع رسول الله يوم احد فسمع نساء بني عبد الاشهل يبكين على هلكاهن فقال:" لكن حمزة لا بواكي له" فجئن نساء الانصار فبكين على حمزة، فرقد فاستيقظ فقال:" يا ويحهن، إنهن لهاهنا حتى الآن، مروهن فليرجعن ولا يبكين على هالك بعد اليوم"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري (1248، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 12255 ترقیم الشثری: -- 12503
١٢٥٠٣ - حدثنا الحسن بن موسى عن سعيد بن زيد قال: حدثني عطاء بن السائب ثنا عكرمة قال: كان ابن عباس يقول: احفظوا هذا الحديث، إن إحدى بنات النبي ﷺ كانت في الموت فوضعها رسول الله ﷺ على يديه ووضع (راسها) (١) ⦗٢٦٠⦘ على ثدييه وهي تسوق حتى (قبضت) (٢) ، فوضعها وهو يبكي، قال: فصاحت ام ايمن، فقال النبي ﷺ" [او لا اراك (تبكين) (٣) ] (٤) عند (رسول الله) (٥) ﷺ"، قالت: (و) (٦) لا ارى رسول الله ﷺ-يبكي قال:"إني لم ابك، ولكنها رحمة" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، أ]: (ثديها).
(٢) في [س]: (قضت).
(٣) في [هـ، ب، ف]: (تبكي).
(٤) في [ب]: (لا أراك)، وفي [ص]: (ألا أراك)، وفي [ز]: (لا راءك).
(٥) في [ص]: (النبي).
(٦) في [ص، ز]: (أو).
(٧) ضعيف؛ عطاء اختلط، أخرجه أحمد (٢٤٧٥)، وعبد بن حميد (٥٩٣)، والنسائي ٤/ ١٢، والبزار (٨٠٨/ كشف)، والترمذي في الشمائل (٣١٨).
حدثنا الحسن بن موسى ، عن سعيد بن زيد ، قال: حدثني عطاء بن السائب ، ثنا عكرمة ، قال: كان ابن عباس ، يقول: احفظوا هذا الحديث، إن إحدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم كانت في الموت فوضعها رسول الله صلى الله عليه وسلم على يديه ووضع راسها على ثدييه وهي تسوق حتى قبضت فوضعها وهو يبكي قال: فصاحت ام ايمن، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" لا اراك تبكين عند رسول الله صلى الله عليه وسلم" قالت: ولا ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم يبكي قال:" إني لم ابك ولكنها رحمة"
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس حدیث کو یاد کرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک بیٹی موت کے قریب تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور سینے سے لگایا، راوی کہتے ہیں کہ وہ قریب المرگ تھیں یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نیچے رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے، حضرت ام ایمن نے چیخنا شروع کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے روئے، حضرت ام ایمن نے فرمایا: کیا میں رسول اللہ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نہیں رو رہا یہ تو رحمت کے آنسو ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12503]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12503، ترقيم محمد عوامة 12255)