🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
314. من كان يأمر بتعليم المناسك
جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14914 ترقیم الشثری: -- 15326
١٥٣٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن (فضيل) (١) عن (عطاء) (٢) بن السائب عن (سالم) (٣) بن ابي الجعد عن ابن عباس قال: جاء اعرابي إلى النبي ﷺ فقال: السلام عليك يا غلام بني عبد المطلب فقال:"وعليك"، فقال: إني رجل من ⦗٣٩٨⦘ اخوالك من بني سعد بن بكر وإني رسول قومي إليك ووافدهم، وإني سائلك (فمشدد) (٤) (مسالتي) (٥) إياك (ومناشدك) (٦) (فمشيد) (٧) مناشدتي إياك، (قال:"خذ عليك) (٨) يا اخا بني سعد"، قال: فإنا وجدنا في كتابك وامرتنا رسلك ان (نحج) (٩) البيت العتيق، فانشدك اهو امرك بذلك؟ قال:"نعم" (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (فضي).
(٢) في [ز]: سقط (عطاء).
(٣) في [أ، ب، ن]: (عطاء).
(٤) في [أ، ب، ن]: (نشيدة)، وفي [جـ، ز]: (فمشيدة)، وفي [ن]: (فمنشد).
(٥) في [جـ]: (مسلتي).
(٦) في [جـ]: (ومنا تنفدك).
(٧) في [أ، ب، ص]: (فمنشدة)، وفي [ن]: (فمنشد)، وفي [جـ، ز]: (فمشيدة).
(٨) في [أ، ب]: (خذ عنا)، وفي [جـ، ص، ز]: (قال: خذ عتك).
(٩) في [ن]: (تحج).
(١٠) ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه ابن خزيمة (٢٣٨٣)، والبخاري في التاريخ ٨/ ٢٣٣، والطبراني في الأوسط (٢٧٠٧)، والدارمي (/١٧٢ (٦٥١)، والإسماعيلي في معجم شيوخه ٢/ ٦٨٥، والفاكهي (٧٧٣)، وابن عبد البر في التمهيد ١٦/ ١٧١، وبنحوه أخرجه أحمد (٢٣٨٠)، وأبو داود (٤٨٧)، وابن سعد ١/ ٢٩٩، وابن شبه ٢/ ٥٢١.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا محمد بن فضيل ، عن عطاء بن السائب ، عن سالم بن ابي الجعد ، عن ابن عباس ، قال: جاء اعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: السلام عليك يا غلام بني عبد المطلب , فقال:" وعليك , فقال: إني رجل من اخوالك من بني سعد بن بكر وإني رسول قومي إليك ووافدهم , وإني سائلك فمشدد مسالتي إياك , ومناشدك فمشدد مناشدتي إياك، قال: خذ عنك يا اخا بني سعد، قال: فإنا وجدنا في كتابك وامرتنا رسلك ان نحج البيت العتيق , فانشدك اهو امرك بذلك؟ قال: نعم"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ایک دیہاتی خدمت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے بنو عبد المطلب کے بیٹے! السلام علیکم، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں وعلیکم السلاام کہا۔ پھر اس اعرابی نے کہا کہ میں آپ کے ننہال یعنی قبیلہ بنو سعید سے ہوں (یہ قبیلہ حضور کا رضاعی ماموں تھے) اور میں اپنی قوم بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قسم دینے لگا ہوں اور سوال کرنے لگا ہوں، اس قسم اور سوال کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو دینا ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنی سعد کے بھائی تو خود سے سوال کرلے۔ (یعنی قرابت کی وجہ سے حضور نے اپنے اور اس شخص میں کوئی فرق نہ رکھا)۔ اس نے عرض کیا بیشک ہم نے آپ کی کتاب (مکتوب) میں پایا ہے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد نے حکم دیا ہے کہ ہم لوگ حج بیت اللہ کریں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15326]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15326، ترقيم محمد عوامة 14914)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 15326 in Urdu