مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
151. في الرجل (يتزوج) المرأة فيموت عنها ولم (يفرض) لها
نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
ترقیم عوامۃ: 17402 ترقیم الشثری: -- 18001
١٨٠٠١ - حدثنا ابن ابي زائدة عن داود عن الشعبي عن علقمة قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إن رجلا منا تزوج امراة ولم يفرض لها ولم (يجمعها) (١) حتى مات فقال ابن مسعود: ما سئلت عن شيء منذ فارقت النبي ﷺ اشد علي من هذا، سلوا غيري، فترددوا فيها شهرا (قال) (٢) فقال: من اسال وانتم (اجلة) (٣) اصحاب محمد بهذا البلد؟ فقال: ساقول فيها برايي فإن يكن صوابا فمن الله، وإن يكن خطا فمني و (من) (٤) الشيطان، ارى ان لها مهر نسائها (٥) لا وكس ولا شطط، ولها الميراث وعليها عدة المتوفى عنها زوجها، فقال ناس من (اشجع) (٦) : نشهد ان رسول الله ﷺ (٧) قضى مثل الذي قضيت في امراة منا يقال لها: (بروع) (٨) ابنة ⦗٤٦٤⦘ واشق قال (٩) : فما رايت ابن مسعود فرح بشيء ما فرح يومئذ به (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (يجامعها).
(٢) في [ز]: سقط (قال).
(٣) في [أ، ز]: (أحبه)، وفي [ط، ك]: (أخيه).
(٤) في [ك]: سقط (من).
(٥) في [هـ]: زيادة (و).
(٦) في [أ، ب]: (أسجع).
(٧) سقط من: [جـ، ك].
(٨) في [أ، ب]: (نزوع).
(٩) في [س، هـ]: زيادة (قال).
(١٠) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٤٦٣)، والنسائي ٦/ ١٢٢، وابن حبان (٤١٠١)، والحاكم ٢/ ١٨٠، والبيهقي ٧/ ٢٤٥، وعبد الرزاق (١٠٨٩٩)، وسعيد بن منصور (٩٣٠)، والطبراني ٢٠/ (٥٤٢)، وبنحوه أبو داود (٢١١٥)، وابن ماجه (١٨٩١).
حدثنا ابن ابي زائدة ، عن داود ، عن الشعبي ، عن علقمة ، قال: جاء رجل إلى ابن مسعود ، فقال: إن رجلا منا تزوج امراة ولم يفرض لها ولم يجامعها حتى مات، فقال ابن مسعود: ما سئلت عن شيء منذ فارقت النبي صلى الله عليه وسلم اشد علي من هذا , سلوا غيري، فترددوا فيها شهرا، قال: فقال: من اسال، وانتم اجلة اصحاب محمد بهذا البلد؟ فقال: ساقول فيها برايي، فإن يكن صوابا فمن الله وإن يكن خطا فمني ومن الشيطان، ارى" ان لها مهر نسائها لا وكس ولا شطط ولها الميراث وعليها عدة المتوفى عنها زوجها"، فقال ناس من اشجع:" نشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى مثل الذي قضيت في امراة منا يقال لها بروع ابنة واشق، قال: قال: فما رايت ابن مسعود فرح بشيء ما فرح يومئذ به"
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور اس کا مہر مقرر کرنے سے پہلے اور اس سے جماع کرنے سے پہلے انتقال کرگیا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور 5 کے وصال کے بعد اب تک مجھ سے اتنا مشکل سوال نہیں کیا گیا، تم کسی اور سے پوچھ لو، لوگ ایک ماہ ادھر ادھر سوال کرتے پھرتے رہے لیکن کسی نتیجہ پر نہ پہنچے۔ چناچہ وہ آدمی پھر حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ آپ اس شہر میں محمد 5 کے صحابہ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، آپ ہی بتا دیجئے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے بات کروں گا، اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسے اس کے خاندان کی عورت کے برابر مہر ملے گا نہ کم نہ زیادہ، اور اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر اس عورت کی عدت لازم ہوگی جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ سن کر بنو اشجع کے لوگ کہنے لگے کہ ہم گواہی دیتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جتنا خوش دیکھا اتنا خوش میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18001، ترقيم محمد عوامة 17402)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 18001 in Urdu