مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
37. في الرجل يطلق ويقول: عنيت غير امرأتي
اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18280 ترقیم الشثری: -- 18943
١٨٩٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو معاوية عن عاصم عن السميط (١) (السدوسي) (٢) قال: خطبت امراة فقالوا: لا (نزوجك) (٣) حتى تطلق امراتك ثلاثا فقلت: قد طلقتها ثلاثا (قال) (٤) : فزوجوني ثم نظروا فإذا امراتي عندي (فقالوا) (٥) : اليس قد طلقت امراتك؟ قلت: (بلى) (٦) (كانت) (٧) تحتي (فلانة) (٨) ⦗١٥١⦘ (بنت) (٩) فلان فطلقتها، واما هذه (فلم) (١٠) اطلقها، (فاتيت) (١١) شقيق بن (مجزاة) (١٢) بن ثور وهو يريد الخروج إلى عثمان فقلت: سل امير المؤمنين عن هذه فساله فقال: نيته (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (بن عمير)، وفي [خ، ك]: زيادة (عن).
(٢) في [أ، ب، س، ط، ك]: (السروسي).
(٣) في [س، ك]: (تزوجك).
(٤) في [س]: (فقال).
(٥) في [أ، ب]: (قالوا).
(٦) في [أ، ب، س، ز، ط]: (بل).
(٧) في [س]: (كان).
(٨) في [س]: (فلاثية).
(٩) سقط من: [ك].
(١٠) في [س]: (لم).
(١١) في [جـ]: (وأتيت).
(١٢) في [س، هـ]: (محراة)، وفي المطالب العالية (١٦٩٦)، وتاريخ دمشق ٢٣/ ١٤٦، والتاريخ الكبير ٤/ ٢٤٦، والجرح والتعديل ٤/ ٣٧٢، والثقات ٤/ ٣٥٤، أنه شقيق ابن ثور، وانظر: سنن سعيد بن منصور ١/ (١٠١٧).
(١٣) حسن؛ شقيق صدوق.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو معاوية، عن عاصم، عن السميط بن عمير السدوسي، قال: " خطبت امراة , فقالوا: لا نزوجك حتى تطلق امراتك ثلاثا, فقلت: قد طلقتها ثلاثا، قال: فزوجوني , ثم نظروا فإذا امراتي عندي , فقالوا: اليس قد طلقت امراتك؟ , قلت: بلى كانت تحتي فلانة بنت فلان، فطلقتها , واما هذه فلم اطلقها، فاتيت شقيق بن مجزاة بن ثور وهو يريد الخروج إلى عثمان , فقلت: سل امير المؤمنين عن هذه فساله فقال:" نيته"
سمیط سدوسی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے مجھے کہا کہ جب تک تم اپنی بیوی کو طلاق نہ دو ہم نکاح نہیں کریں گے، میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں، انہوں نے میری شادی کرادی، شادی کے بعد انہوں نے دیکھا کہ میری بیوی تو میرے پاس ہے، انہوں نے کہا کہ تم نے اپنے بیوی کو طلاق نہیں دی تھی؟ میں نے کہا کہ دی تھی۔ میرے نکاح میں فلانہ بنت فلاں تھی میں نے اس کو طلاق دی تھی اس کو نہیں دی تھی۔ پھر میں شقیق بن مجزاۃ کے پاس آیا وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کا ارادہ کررہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ امیر المومنین سے اس بارے میں سوال کرنا، انہوں نے سوال کیا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18943]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18943، ترقيم محمد عوامة 18280)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 18943 in Urdu