🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
226. ما قالوا في الأولياء والأعمام: أيهم أحق بالولد؟
اولیاء اور چچوں میں سے بچے کا زیادہ حقدار کون ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19466 ترقیم الشثری: -- 20254
٢٠٢٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع بن الجراح عن موسى بن عبيدة عن محمد ابن كعب ان امراة من اهل البادية كانت عند رجل من بني عمها، (فمات) (١) عنها فتزوجها رجل من الانصار، فجاء بنو عم الجارية فقالوا: (ناخذ) (٢) ابنتنا، قالت: إني انشدكم الله ان تفرقوا بيني وبين ابنتي؛ فانا الحامل؛ وانا المرضع؛ وليس احد (اخير) (٣) (لقرب ابنتي) (٤) مني، (فابوا) (٥) ، (فقالت) (٦) : موعدكم رسول الله ﷺ ثم قال: خيرك رسول الله ﷺ فقولي: اختار الله والإيمان ودار المهاجرين والانصار فقال النبي:"والذي نفسي بيده! لا (تذهبون) (٧) بها (ما بقيت) (٨) عنقي في مكانها". وجاءوا إلى ابي بكر فقضى لهم بها فقال بلال: يا خليفة رسول الله، شهدت هؤلاء النفر وهذه المراة عند رسول الله ﷺ اختصموا، فقضى بها لامها، ⦗٤٦٢⦘ (فقال ابو بكر) (٩) : وانا والذي نفسي بيده! (لا يذهبون) (١٠) بها ما دامت عنقي في (مكانها) (١١) ، فدفعها إلى امها (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فغاب)، وفي [ز]: (فحاث).
(٢) في [خ]: (إنا آخذوا).
(٣) سقط من: [س، هـ].
(٤) في [س، هـ]: (أقرب لابنتي)، وفي [أ، ب]: (لا أقرب لابنتي).
(٥) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٦) في [هـ]: (فقال).
(٧) في [أ، ب]: (يذهبون).
(٨) في [أ]: (ما دامت).
(٩) سقط من: [أ].
(١٠) في [أ، ب، ط، ك]: (لا يذهبوا)، وفي [ز، ع]: (لا تذهبون).
(١١) في [ط]: (مكانكا).
(١٢) مرسل ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، ومحمد بن كعب تابعي، وأخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (١٦٨٣).

حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیہات کی ایک عورت اپنے چچا زاد کے گھر میں تھی۔ (اس خاوند سے اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی) اس کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو اس نے ایک انصاری مرد سے شادی کرلی۔ اس شادی کے بعد لڑکی کے چچا زاد آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو لے جائیں گے۔ اس عورت نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ تم میرے اور میری بیٹی کے درمیان میں نہ آؤ۔ میں نے اس کو پیٹ میں اٹھایا ہے اور میں نے اس کو دودھ پلایا ہے۔ مجھ سے بڑھ کر کوئی اس بچی کا استحقاق نہیں رکھتا۔ لوگوں نے اس کی بات کا انکار کیا تو اس نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور فیصلہ کرالو۔ پھر اس خاتون نے اپنی بچی سے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اختیار دیں تو تم کہنا کہ میں نے اللہ کو، ایمان کو، مہاجرین اور انصار کے گھر کو اختیار کرلیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم! جب تک میری جان ہے تم اسے نہیں لے جاسکتے۔ (حضور 5 کے وصال کے بعد) پھر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے بچی کا فیصلہ اس کے خاندان والوں کے حق میں کردیا۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! میری موجودگی میں یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، یہ عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کا فیصلہ عورت کے حق میں فرمایا تھا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میر ی جان ہے جب تک میں زندہ ہوں تم اس بچی کو نہیں لے جاسکتے۔ پھر آپ نے وہ بچی اس کی ماں کو دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20254، ترقيم محمد عوامة 19466)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 20254 in Urdu