🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر في فضل الجهاد والحث (عليه)
جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19834 ترقیم الشثری: -- 20638
٢٠٦٣٨ - حدثنا وكيع نا هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: لما اتى ابو عبيدة الشام (حصر) (١) هو واصحابه (واصابهم) (٢) جهد شديد، قال: فكتب إلى عمر، فكتب إليه عمر: (سلام) (٣) (عليك) (٤) ، اما بعد: فإنه لم (تكن) (٥) شدة إلا جعل الله بعدها مخرجا، (و) (٦) لن يغلب عسر (يسرين) (٧) ، (وكتب) (٨) إليه: ﴿ياايها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا الله لعلكم تفلحون﴾ [آل عمران: ٢٠٠] ، قال: فكتب إليه ابو عبيدة سلام! اما بعد فإن الله ﵎ قال: ﴿اعلموا انما الحياة الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر بينكم وتكاثر في الاموال والاولاد﴾ [الحديد: ٢٠] ، إلى آخر الآية، قال: فخرج عمر بكتاب ⦗٩٥⦘ ابي (عبيدة) (٩) (فقراه) (١٠) على الناس فقال: يا اهل المدينة! (إنما) (١١) كتب ابو عبيدة يعرض بكم، ويحثكم على الجهاد، قال زيد: فقال ابي: (فإني) (١٢) (لقائم) (١٣) في السوق إذ (اقبل) (١٤) قوم مبيضين، قد اطلعوا (١٥) (من الثنية) (١٦) ، (فيهم) (١٧) حذيفة بن اليمان (يبشرون) (١٨) الناس قال: فخرجت اشتد حتى دخلت على عمر فقلت: يا امير المؤمنين! ابشر بنصر الله والفتح! فقال عمر: الله اكبر، رب (قائل: لو كان) (١٩) خالد بن الوليد (٢٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (حضر).
(٢) في [س، ك]: (وأصحابهم).
(٣) في [ب]: (مسلم).
(٤) سقط من: [أ، ب، ز، ط، ك، هـ].
(٥) في [أ، ب، س]: (يكن).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [ط]: (سعرين).
(٨) في [جـ]: (فكتب).
(٩) في [ط]: فراغ.
(١٠) في [أ، ب، ط]: (فقرأ).
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [أ، س، ط، هـ]: (إني)، وفي [جـ]: (إني).
(١٣) في [ب]: (لقاسم).
(١٤) في [ب]: (قيل).
(١٥) في [ز]: زيادة (في).
(١٦) سقط من: [س].
(١٧) في [جـ]: (منهم).
(١٨) في [س]: (يشرون).
(١٩) في [س، هـ]: (قاتل)، وفي [أ، ب]: (قائل).
(٢٠) حسن؛ هشام بن سعد صدوق.

حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ شام آئے تو ان کا اور ان کے ساتھیوں کا محاصرہ کرلیا گیا۔ اس وقت وہ شدید تکلیف کا شکار ہوئے۔ انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں مدد کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط کا جواب ان الفاظ کے ساتھ دیا: ”اما بعد! اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل کے بعد آسانی رکھی ہے، ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آسکتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت بھی لکھ بھیجی: اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو۔ (آل عمران: آخری آیت) حضر ت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ آیت لکھ بھیجی:: جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشا، زینت، باہمی تفاخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی حرص ہی تو ہے۔ (الحدید: ٢٠) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا یہ خط لوگوں کو پڑھ کر سنایا پھر فرمایا کہ اے مدینہ کے لوگو! ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تمہیں جہاد کی دعوت دے رہے ہیں۔ حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ سفید لباس والے کچھ لوگ گھاٹی سے نیچے اترے ہوئے نظر آئے، ان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ لوگوں کو فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں خوشی سے سرشار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور میں نے کہا اے امیر المؤمنین! فتح کی خوشخبری ہو! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا کہ کاش خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی فتح کی خوشخبری دینے والا بھی آجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجهاد/حدیث: 20638]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20638، ترقيم محمد عوامة 19834)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 20638 in Urdu