🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فيما يفتتح به الصلاة
نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 2414 ترقیم الشثری: -- 2420
٢٤٢٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا سويد بن عمرو الكلبي قال: نا عبد العزيز ابن ابي سلمة قال: انا الماجشون (عمي) (١) عن الاعرج عن عبيد الله بن ابي رافع عن علي قال: كان النبي ﷺ إذا افتتح الصلاة كبر، ثم قال:"وجهت وجهي للذي فطر السماوات والارض حنيفا وما انا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك امرت، وانا اول المسلمين. اللهم ⦗١١⦘ انت الملك لا إله إلا انت، (انت ربي) (٢) وانا عبدك ظلمت نفسي، واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا انت، واهدني لاحسن الاخلاق (فلا يهدي) (٣) لاحسنها إلا انت، واصرف عني سيئها (فلا) (٤) يصرف (عني) (٥) سيئها إلا انت، لبيك وسعديك والخير كله في يديك، انا بك وإليك، تباركت وتعاليت، استغفرك واتوب إليك" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [د]: ورد (ولا يهديني)، وفي [جـ، ك]: (لا يهدي).
(٤) في [أ، جـ، ك]: (لا يصرف).
(٥) زيادة: (عني) في [جـ، ك].
(٦) صحيح، أخرجه مسلم (٧٧١)، وأحمد (٧٢٩).

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا سويد بن عمرو الكلبي ، قال: نا عبد العزيز بن ابي سلمة ، قال: انا الماجشون عمي، عن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع ، عن علي ، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة كبر ثم قال:" وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا، وما انا من المشركين , إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا اول المسلمين , اللهم انت الملك لا إله إلا انت، انت ربي وانا عبدك، ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا انت , واهدني لاحسن الاخلاق فلا يهدي لاحسنها إلا انت واصرف عني سيئها فلا يصرف سيئها إلا انت لبيك وسعديك والخير كله في يديك انا بك وإليك تباركت وتعاليت استغفرك واتوب إليك"
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ کلمات ارشاد فرماتے: میں نے اپنا چہرہ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف پھیر لیا جس نے زمینوں اور آسمانوں کو وجود بخشا ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اسلام لانے والوں میں ابتداء کرنے والا ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے سارے گناہوں کو معاف فرما دے، یقینا تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا اچھے اخلاق کی ہدایت کوئی نہیں دے سکتا۔ مجھے برے اخلاق سے محفوظ فرما تیرے سوا مجھے برے اخلاق سے کوئی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ میں حاضر ہوں اور تیری خدمت میں حاضری کو سعادت سمجھ کر حاضر ہوں۔ ساری کی ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، میرا سہارا اور مرجع تو ہی ہے، تو بابرکت ہے اور تو بلند ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے دربار میں توبہ کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 2420]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2420، ترقيم محمد عوامة 2414)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 2420 in Urdu