🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. في الرجل يسحر ويسم فيعالج
اس آدمی کے بارے میں جس کو سحر یا زہر ہو جائے اور وہ علاج کروائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23985 ترقیم الشثری: -- 25064
٢٥٠٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن نمير (عن هشام) (١) عن ابيه عن عائشة قالت: سحر رسول الله ﷺ يهودي من يهود بني زريق يقال له: لبيد بن الاعصم، حتى كان رسول الله ﷺ (يخيل إليه) (٢) انه يفعل الشيء ولا يفعله، (قال) (٣) : حتى إذا كان ذات يوم او (٤) ذات ليلة دعا رسول الله ﷺ (ثم دعا) (٥) ثم قال:"يا عائشة، اشعرت ان الله قد افتاني فيما (٦) استفتيته فيه، جاءني رجلان فجلس احدهما عند راسي، والآخر عند رجلي، فقال الذي عند راسي للذي عند رجلي او الذي عند رجلي للذي عند راسي: ما وجع الرجل؟ (قال) (٧) : مطبوب (٨) ، قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الاعصم، قال: في اي شيء؟ قال: في مشط (ومشاطة) (٩) و (جف) (١٠) طلعة ذكر، قال: واين هو؟ قال: في بئر ذي (اروان) (١١) "، (قال) (١٢) : (فاتاها) (١٣) رسول الله ﷺ (١٤) في اناس من اصحابه، ثم ⦗١٣٦⦘ جاء فقال:"يا عائشة (كانما) (١٥) ماؤها نقاعة (الحناء) (١٦) ، ولكان نخلها رؤوس (الشياطين) (١) " (١٧) ، (قالت) (١٨) : فقلت: يا رسول الله (افلا) (١٩) (احرقته؟) (٢٠) فقال (٢١) :" (اما) (٢٢) انا فقد عافاني الله، وكرهت ان اثير على الناس منه (شرا) (٢٣) "، فامر بها فدفنت (٢٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: سقطت (عن هشام).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) زيادة (قال) في: [أ، ح، ز].
(٤) زاد في [هـ]: (كان).
(٥) تكررت الجملة في: [هـ].
(٦) زيادة (قد) في: [جـ].
(٧) في [أ، ح، ط]: (قالوا).
(٨) أي: مسحور.
(٩) المشاطة: الشعر الذي يسقط عند تسريح الرأس، وفي [أ، ح]: (وماشطة)، وفي [ط]: (وما مشطه).
(١٠) في [ز]: (حب)، وفي [ط]: (حف).
(١١) في [ط]: (ذروان)، وكذلك في: [أ، ح]، وفي [ز]: (أرواق).
(١٢) سقط من: [هـ]، وفي [ط]: (فإن).
(١٣) في [ط]: (فاياها)، وفي [ز]: (فأتاه)، وفي [ح]: (فأتاه).
(١٤) سقط من: [ز].
(١٥) في [جـ]: (كأن).
(١٦) في [ز]: (الجناء).
(١٧) في [جـ]: (الشيطان).
(١٨) سقط من: [هـ].
(١٩) في [أ، ح، ط، هـ]: (أفهلا).
(٢٠) في [جـ]: (أخرجته).
(٢١) في [جـ، ز]: (قال).
(٢٢) في [ح]: (من).
(٢٣) في [ح، ز]: (شيئًا)، وكذلك في: [أ] وفي [ط]: (شيء).
(٢٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٦٥)، ومسلم (٢١٨٩).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا۔ جس کا نام لبید بن اعصم تھا۔ (اس کا اثر) یہاں تک (تھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیال ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کرلیا ہے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ دن کا وقت تھا یا رات کا وقت تھا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی۔ پھر دوبارہ آواز دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اللہ تعالیٰ سے معلوم کی تھی؟ میرے پاس دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر اس آدمی نے جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس آدمی سے جو میرے قدموں کے پاس بیٹھا تھا۔ کہا: یا جو آدمی میرے قدموں کے پاس تھا اس نے میرے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا۔ اس آدمی کی تکلیف کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اس پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پھر پوچھا۔ اس پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ کس چیز میں جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا۔ کنگھی میں اور اس میں آنے والے بالوں میں اور نر کھجور کی جڑ سے بنے ہوئے برتن میں۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے کہا۔ بیئر ذی اروان میں“ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کے پاس اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے اور فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! گویا کہ اس کا پانی مہندی بھگویا ہوا پانی ہے اور اس کے کھجور تو گویا شیطانوں کے سر ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے ان چیزوں کو باہر کیوں نہ نکلوایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ“ کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے صحت بخش دی ہے اور میں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ میں اس کے ذریعہ سے لوگوں میں کوئی شر بھڑکاؤں۔“ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انہیں دفن کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25064]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25064، ترقيم محمد عوامة 23985)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25064 in Urdu