🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. في الرجل يسحر ويسم فيعالج
اس آدمی کے بارے میں جس کو سحر یا زہر ہو جائے اور وہ علاج کروائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23983 ترقیم الشثری: -- 25062
٢٥٠٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (عثام) (١) بن علي عن الاعمش عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة (قالت) (٢) : من اصابه (بسرة) (٣) او سم او سحر فليات الفرات، فليستقبل الجرية، (فيغتمس) (٤) فيه سبع مرات (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (عنان)، وفي [ط، هـ]: (عفان).
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) في [جـ]: (سرة).
(٤) في [جـ]: (فيتغمس).
(٥) صحيح؛ عضده ما تقدم برقم [٢٥٠٥٨].

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ جس آدمی کو آسیب، جادو یا نہر چڑھ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ فرات دریا پر آئے اور پانی کے بہاؤ کے رُخ کرے اور دریا میں سات مرتبہ غوطہ لگائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25062]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25062، ترقيم محمد عوامة 23983)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23984 ترقیم الشثری: -- 25063
٢٥٠٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عق الاعمش عن يزيد بن (حيان) (١) عن زيد بن ارقم قال: سحر النبي ﷺ رجل من اليهود، فاشتكى النبي ﷺ لذلك اياما، (فاتاه جبريل) (٢) فقال: إن (رجلا) (٣) كذا من اليهود سحرك، عقد لك عقدا، فارسل إليها رسول الله ﷺ عليا، فاستخرجها، فجاء (به) (٤) ، فجعل كلما حل عقدة وجد لذلك خفة، (قال) (٥) : فقام النبي ﷺ كانما نشط من عقال، فما ذكر النبي ﷺ (٦) ذلك اليهودي ولا رآه في وجهه قط (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (حباب)، وفي [هـ]: (حبان).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [جـ]: (رجل).
(٤) في [هـ]: (بها).
(٥) في [جـ، ز]: زيادة (قال).
(٦) في [ز]: ﵇.
(٧) منقطع حكمًا؛ الأعمش مدلس، أخرجه أحمد (١٩٢٦٧)، والنسائي ٧/ ١١٢، والحاكم ٤/ ٣٦٠، وعبد بن حميد (٢٧١)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٩٣٥)، والطبراني (٥٠١٦)، وابن سعد ٢/ ١٩٩، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٨٩.

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک یہودی آدمی نے جادو کیا۔ جس کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چند دن تک شکایت رہی لیکن پھر حضرت جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ”یہود کے فلاں شخص نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس نے آپ کے لئے چند گرہیں لگائی ہیں“ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گرہوں (والے دھاگہ) کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ، اس کو نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان گرہوں میں سے کوئی گرہ کھولتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہلکا پن محسوس کرتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں کھڑے ہوئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بندش سے کھول دیا گیا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی آدمی سے اس بات کا کبھی ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی اس یہودی نے کبھی اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ سے پہچانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25063]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25063، ترقيم محمد عوامة 23984)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23985 ترقیم الشثری: -- 25064
٢٥٠٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن نمير (عن هشام) (١) عن ابيه عن عائشة قالت: سحر رسول الله ﷺ يهودي من يهود بني زريق يقال له: لبيد بن الاعصم، حتى كان رسول الله ﷺ (يخيل إليه) (٢) انه يفعل الشيء ولا يفعله، (قال) (٣) : حتى إذا كان ذات يوم او (٤) ذات ليلة دعا رسول الله ﷺ (ثم دعا) (٥) ثم قال:"يا عائشة، اشعرت ان الله قد افتاني فيما (٦) استفتيته فيه، جاءني رجلان فجلس احدهما عند راسي، والآخر عند رجلي، فقال الذي عند راسي للذي عند رجلي او الذي عند رجلي للذي عند راسي: ما وجع الرجل؟ (قال) (٧) : مطبوب (٨) ، قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الاعصم، قال: في اي شيء؟ قال: في مشط (ومشاطة) (٩) و (جف) (١٠) طلعة ذكر، قال: واين هو؟ قال: في بئر ذي (اروان) (١١) "، (قال) (١٢) : (فاتاها) (١٣) رسول الله ﷺ (١٤) في اناس من اصحابه، ثم ⦗١٣٦⦘ جاء فقال:"يا عائشة (كانما) (١٥) ماؤها نقاعة (الحناء) (١٦) ، ولكان نخلها رؤوس (الشياطين) (١) " (١٧) ، (قالت) (١٨) : فقلت: يا رسول الله (افلا) (١٩) (احرقته؟) (٢٠) فقال (٢١) :" (اما) (٢٢) انا فقد عافاني الله، وكرهت ان اثير على الناس منه (شرا) (٢٣) "، فامر بها فدفنت (٢٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: سقطت (عن هشام).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) زيادة (قال) في: [أ، ح، ز].
(٤) زاد في [هـ]: (كان).
(٥) تكررت الجملة في: [هـ].
(٦) زيادة (قد) في: [جـ].
(٧) في [أ، ح، ط]: (قالوا).
(٨) أي: مسحور.
(٩) المشاطة: الشعر الذي يسقط عند تسريح الرأس، وفي [أ، ح]: (وماشطة)، وفي [ط]: (وما مشطه).
(١٠) في [ز]: (حب)، وفي [ط]: (حف).
(١١) في [ط]: (ذروان)، وكذلك في: [أ، ح]، وفي [ز]: (أرواق).
(١٢) سقط من: [هـ]، وفي [ط]: (فإن).
(١٣) في [ط]: (فاياها)، وفي [ز]: (فأتاه)، وفي [ح]: (فأتاه).
(١٤) سقط من: [ز].
(١٥) في [جـ]: (كأن).
(١٦) في [ز]: (الجناء).
(١٧) في [جـ]: (الشيطان).
(١٨) سقط من: [هـ].
(١٩) في [أ، ح، ط، هـ]: (أفهلا).
(٢٠) في [جـ]: (أخرجته).
(٢١) في [جـ، ز]: (قال).
(٢٢) في [ح]: (من).
(٢٣) في [ح، ز]: (شيئًا)، وكذلك في: [أ] وفي [ط]: (شيء).
(٢٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٦٥)، ومسلم (٢١٨٩).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا۔ جس کا نام لبید بن اعصم تھا۔ (اس کا اثر) یہاں تک (تھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیال ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کرلیا ہے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ دن کا وقت تھا یا رات کا وقت تھا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی۔ پھر دوبارہ آواز دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اللہ تعالیٰ سے معلوم کی تھی؟ میرے پاس دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر اس آدمی نے جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس آدمی سے جو میرے قدموں کے پاس بیٹھا تھا۔ کہا: یا جو آدمی میرے قدموں کے پاس تھا اس نے میرے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا۔ اس آدمی کی تکلیف کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اس پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پھر پوچھا۔ اس پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ کس چیز میں جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا۔ کنگھی میں اور اس میں آنے والے بالوں میں اور نر کھجور کی جڑ سے بنے ہوئے برتن میں۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے کہا۔ بیئر ذی اروان میں“ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کے پاس اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے اور فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! گویا کہ اس کا پانی مہندی بھگویا ہوا پانی ہے اور اس کے کھجور تو گویا شیطانوں کے سر ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے ان چیزوں کو باہر کیوں نہ نکلوایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ“ کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے صحت بخش دی ہے اور میں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ میں اس کے ذریعہ سے لوگوں میں کوئی شر بھڑکاؤں۔“ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انہیں دفن کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25064]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25064، ترقيم محمد عوامة 23985)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23986 ترقیم الشثری: -- 25065
٢٥٠٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا (ليث) (١) بن سعد (عن سعيد بن ابي سعيد) (٢) عن ابي هريرة قال: لما فتحت خيبر (اهديت) (٣) (لرسول) (٤) الله ﷺ شاة فيها سم، فقال رسول الله ﷺ:"اجمعوا لي من كان هاهنا من اليهود"، فقال (لهم) (٥) رسول الله ﷺ (٦) :"هل جعلتم في هذه الشاة ⦗١٣٧⦘ (سما) (٧) ؟" قالوا: نعم قال:"ما حملكم على ذلك؟" قالوا: اردنا إن كنت كاذبا (ان) (٨) نستريح منك، وإن كنت نبيا لم يضرك (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (لبيد).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [ز]: (أهدى).
(٤) في [ط]: (رسول).
(٥) سقط من: [ز].
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [جـ، ز]: (سم).
(٨) في [جـ، ز]: زيادة (أن).
(٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٤٩)، وأحمد (٩٨٢٧).

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ ”یہاں جتنے یہودی ہں ان سب کو میرے پاس اکٹھا کرو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا۔ ”کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟“۔ انہوں نے جواب دیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”تمہیں اس کام پر کس چیز نے ابھارا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے یہ چاہا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمں آپ سے آرام مل جائے گا اور اگر آپ (واقعی) نبی ہوئے تو یہ بات (زہر ملانا) آپ کو نقصان نہیں دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25065]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25065، ترقيم محمد عوامة 23986)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23987 ترقیم الشثری: -- 25066
٢٥٠٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن ابن جريج عن عطاء، انه كان لا يرى باسا ان ياتي المؤخذ عن اهله والمسحور من يطلق (عنه) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (عليه).
حضرت عطاء کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے کہ جادو کیا ہو اشخص اور وہ شخص کو اہل خانہ کی طرف سے جادو کیا گیا ہو۔ یہ (دونوں) اس کے پاس جائیں جو اس کو ختم کر دے (سحر کو)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25066]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25066، ترقيم محمد عوامة 23987)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23988 ترقیم الشثری: -- 25067
٢٥٠٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش قال: سالت عطاء الخراساني عن المؤخذ (عن اهله) (١) والمسحور (ياتي) (٢) (من) (٣) (يطلق) (٤) عنه، قال: لا باس بذلك إذا اضطر إليه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ز، ط].
(٢) في [ط، هـ]: (نأتي).
(٣) في [جـ]: زيادة (من).
(٤) في [ط، هـ]: (نطلق).

حضرت اسماعیل بن عیاش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء خراسانی سے مسحور اور سحر میں گرفتار کے بارے میں پوچھا کہ اگر وہ کسی علاج کرنے والے کے پاس جائیں؟ حضرت عطاء نے فرمایا: جب آدمی اس درجہ مجبور ہوجائے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25067]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25067، ترقيم محمد عوامة 23988)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23989 ترقیم الشثری: -- 25068
٢٥٠٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: قلت له: رجل طب بسحر، (نحل) (١) عنه؟ قال: نعم، من استطاع ان ينفع اخاه فليفعل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (محل)، وفي [أ]: (يحل).
حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا۔ ایک آدمی ہے جس کو جادو کیا گیا ہے کیا اس کا علاج کیا جاسکتا ہے؟ سعید نے جواب دیا۔ ہاں۔ جو آدمی اپنے بھائی کو نفع دے سکے تو اسے نفع دینا چاہیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25068]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25068، ترقيم محمد عوامة 23989)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں