مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من حرم المسكر وقال: هو حرام ونهى عنه
جو لوگ نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور اس سے منع کرتے ہیں
ترقیم عوامۃ: 24212 ترقیم الشثری: -- 25296
٢٥٢٩٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ملازم بن عمرو عن سراج بن عقبة عن عمته خالدة بنت طلق قالت: حدثني ابي، قال: كنا جلوسا عند نبي الله ﷺ (١) (فجاء) (٢) صحار عبد القيس، فقال: يا رسول الله ما ترى في شراب نصنعه، من ثمارنا (قال) (٣) : فاعرض عنه النبي ﷺ حتى مسالة ثلاث مرات، ثم قام بنا النبي ﷺ (٤) (فصلى) (٥) ، فلما قضى الصلاة، قال:"من السائل عن المسكر؟ يا ⦗٢٢٢⦘ (سائلا) (٦) عن المسكر لا تشربه ولا تسقه احدا من المسلمين، فوالذي نفس محمد بيده ما شربه قط رجل ابتغاء لذة سكره (فيسقيه) (٧) الله خمرا يوم القيامة (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: زيادة ﷺ.
(٢) في [أ، ح، ط]: (فخاصمنا).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) سقط من: [ز، ط].
(٥) في [ز]: (يصلي).
(٦) في [أ، ح، ز]: (سائل)، وفي [ط]: (سائله)، وفي [هـ]: (أيها السائل).
(٧) في [أ، جـ، ح، ز]: (يسقيه)، وفي [ط]: (لم يسقيه).
(٨) حسن؛ سراج وعمته صدوقان، أخرجه أحمد في الأشربة (٣٢)، والبخاري في التاريخ ٤/ ٢٠٥، وابن قانع ٢/ ٥٣، والطبراني (٨٢٥٩)، والضياء في المختارة ٨/ ١٨٥٧٨، وابن سعد ٥/ ٥٦٢ و ٧/ ٨٧.
حضرت خالدہ بنت طلق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہم لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو صحار عبد القیس آئے اور انہوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس مشروب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جسے ہم اپنے پھلوں سے تیار کرتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ بات سن کر رُخ مبارک ان سے پھیرلیا۔ یہاں تک کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین مرتبہ یہی سوال کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہمیں لے کر اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا: ”نشہ آور مشروب کے بارے میں پوچھنے والا کون ہے؟ اے نشہ آور چیز کے بارے میں سوال کرنے والے! تم اس مشروب کو نہ خود پیو اور نہ ہی کسی مسلمان کو پلاؤ۔ پس قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے کہ اس نے کبھی نشے کی لذت طلبی کے لئے شراب کو پیا ہو اور پھر بروز قیامت حق تعالیٰ اس کو شراب پلائیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25296، ترقيم محمد عوامة 24212)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25296 in Urdu