مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من حرم المسكر وقال: هو حرام ونهى عنه
جو لوگ نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور اس سے منع کرتے ہیں
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 25289
٢٥٢٨٩ - (حدثنا ابو بكر (١) عبد الله بن محمد بن ابي شيبة قال) (٢) : حدثنا علي ابن مسهر عن الشيباني عن ابي بردة عن ابيه قال: بعثه النبي ﷺ إلى اليمن، فساله عن اشربة (تصنع) (٣) بها: البتع و (المزر) (٤) (و) (٥) الذرة، فقال: كل مسكر حرام (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: زيادة (قال: حدثنا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ط]: (يضع)، وفي [أ، ح، هـ]: (يصنع).
(٤) في [أ، ح، ط]: (الرز).
(٥) في [هـ]: (من).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٤٣)، ومسلم (١٧٣٣).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25289، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 24207 ترقیم الشثری: -- 25290
٢٥٢٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن ابي سلمة عن (١) عائشة (٢) (تبلغ) (٣) به النبي ﷺ (قال) (٤) :"كل شراب اسكر فهو حرام" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ط]: (يبلغ).
(٢) في [أ، ح، ط]: زياد (أبي).
(٣) في [ح، ط]: (يبلغ).
(٤) ساقط من: [أ، جـ، ح، ط].
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٢)، ومسلم (٢٠٠١).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ اس روایت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچاتی ہیں۔ ”ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25290]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25290، ترقيم محمد عوامة 24207)
ترقیم عوامۃ: 24208 ترقیم الشثری: -- 25291
٢٥٢٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ليث عن نافع عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال:"كل مسكر حرام" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ ليث ضعيف، والخبر أخرجه مسلم (٢٠٠٣)، وأحمد (٤٦٤٥).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ حضر ت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25291]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25291، ترقيم محمد عوامة 24208)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 25292
٢٥٢٩٢ - قال: (وقال ابن عمر: كل مسكر خمر) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) ضعيف؛ ليث ضعيف.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25292، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 24209 ترقیم الشثری: -- 25293
٢٥٢٩٣ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) (إسماعيل) (٢) بن علية عن ليث عن ابي عثمان عن القاسم بن محمد عن عائشة عن النبي ﷺ قال:"كل مسكر حرام" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٢) ساقط من: [جـ].
(٣) ضعيف؛ ليث ضعيف، أخرجه إسحاق (٩٥١)، والدارقطني (٤/ ٢٠٤)، والبيهقي ٨/ ٢٩٦، والطبراني في الأوسط (١٦٥٦)، وأصله في البخاري (٢٤٢)، ومسلم (٢٠٠١).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25293، ترقيم محمد عوامة 24209)
ترقیم عوامۃ: 24210 ترقیم الشثری: -- 25294
٢٥٢٩٤ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا قبيصة عن سفيان عن علي بن بذيمة عن قيس بن حبتر عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال:"كل مسكر حرام"] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ح، هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٤٧٧)، وأبو داود (٣٦٩٦)، وابن حبان (٥٣٦٥)، والطحاوي ٤/ ٢٢٣، وأبو يعلى (٢٧٢٩)، والدارقطني ٣/ ٧، والطبراني (١٢٥٩٨)، والبيهقي ٨/ ٣٠٣، وابن النجار في ذيل بغدادي ١٧/ ٢٤.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25294، ترقيم محمد عوامة 24210)
ترقیم عوامۃ: 24211 ترقیم الشثری: -- 25295
٢٥٢٩٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن يزيد (بن) (١) ابي حبيب عن مرثد بن عبد الله اليزني عن (ديلم) (٢) الحميري قال: سالت رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله إنا بارض باردة، (نعالج) (٣) (بها) (٤) ⦗٢٢١⦘ عملا شديدا، وإنا نتخذ شرابا من هذا القمح نتقوى به على اعمالنا، (و) (٥) على برد (بلادنا) (٦) ، قال:"هل يسكر؟" قلت: نعم، (قال) (٧) :" (فاجتنبوه) (٨) "، [قال: ثم (جئته) (٩) من بين يديه فقلت له مثل ذلك، فقال:"هل يسكر؟" قلت: نعم، قال:"فاجتنبوه"] (١٠) ، قلت: إن الناس غير تاركيه قال:"فإن لم يتركوه فاقتلوهم" (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [ح]: (ويلم).
(٣) في [ط]: (نفالج).
(٤) في [ز]: (فيها).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط].
(٦) في [ز]: (ديارنا).
(٧) سقط من: [ح].
(٨) في [أ]: (فاجتنبوا).
(٩) في [ح]: (حبيته).
(١٠) سقط من [ز]: ما بين المعكوفين.
(١١) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، وأخرجه أحمد (١٠٨٣٥)، وأبو داود (٣٦٨٣)، والبخاري في التاريخ (٧/ ١٣٦)، وابن سعد (٥/ ٥٣٣)، والطبراني (٤٢٠٦)، والبيهقي (٨/ ٢٩٢)، وابن أبى عاصم في الآحاد (٢٦٨٣).
حضرت دیلم حِمْیَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم ایک ٹھنڈے علاقہ میں رہتے ہیں اور وہاں ہم سخت کام کرتے ہیں اور ہم گیہوں سے ایک قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں جس کو پی کر ہم اپنے اعمال اور اپنے علاقوں کی ٹھنڈک پر تقویت حاصل کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پس تم اس سے بچو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (واپس) آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی ہی بات (دوبارہ) کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ مشروب نشہ آور ہوتا ہے۔“؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم اس سے اجتناب کرو۔“ میں نے عرض کیا۔ لوگ تو اس مشروب کو چھوڑنے والے نہیں ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگ اس مشروب کو نہ چھوڑیں تو تم ان سے قتال کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25295]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25295، ترقيم محمد عوامة 24211)
ترقیم عوامۃ: 24212 ترقیم الشثری: -- 25296
٢٥٢٩٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ملازم بن عمرو عن سراج بن عقبة عن عمته خالدة بنت طلق قالت: حدثني ابي، قال: كنا جلوسا عند نبي الله ﷺ (١) (فجاء) (٢) صحار عبد القيس، فقال: يا رسول الله ما ترى في شراب نصنعه، من ثمارنا (قال) (٣) : فاعرض عنه النبي ﷺ حتى مسالة ثلاث مرات، ثم قام بنا النبي ﷺ (٤) (فصلى) (٥) ، فلما قضى الصلاة، قال:"من السائل عن المسكر؟ يا ⦗٢٢٢⦘ (سائلا) (٦) عن المسكر لا تشربه ولا تسقه احدا من المسلمين، فوالذي نفس محمد بيده ما شربه قط رجل ابتغاء لذة سكره (فيسقيه) (٧) الله خمرا يوم القيامة (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: زيادة ﷺ.
(٢) في [أ، ح، ط]: (فخاصمنا).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) سقط من: [ز، ط].
(٥) في [ز]: (يصلي).
(٦) في [أ، ح، ز]: (سائل)، وفي [ط]: (سائله)، وفي [هـ]: (أيها السائل).
(٧) في [أ، جـ، ح، ز]: (يسقيه)، وفي [ط]: (لم يسقيه).
(٨) حسن؛ سراج وعمته صدوقان، أخرجه أحمد في الأشربة (٣٢)، والبخاري في التاريخ ٤/ ٢٠٥، وابن قانع ٢/ ٥٣، والطبراني (٨٢٥٩)، والضياء في المختارة ٨/ ١٨٥٧٨، وابن سعد ٥/ ٥٦٢ و ٧/ ٨٧.
حضرت خالدہ بنت طلق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہم لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو صحار عبد القیس آئے اور انہوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس مشروب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جسے ہم اپنے پھلوں سے تیار کرتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ بات سن کر رُخ مبارک ان سے پھیرلیا۔ یہاں تک کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین مرتبہ یہی سوال کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہمیں لے کر اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا: ”نشہ آور مشروب کے بارے میں پوچھنے والا کون ہے؟ اے نشہ آور چیز کے بارے میں سوال کرنے والے! تم اس مشروب کو نہ خود پیو اور نہ ہی کسی مسلمان کو پلاؤ۔ پس قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے کہ اس نے کبھی نشے کی لذت طلبی کے لئے شراب کو پیا ہو اور پھر بروز قیامت حق تعالیٰ اس کو شراب پلائیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25296، ترقيم محمد عوامة 24212)
ترقیم عوامۃ: 24213 ترقیم الشثری: -- 25297
٢٥٢٩٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"كل مسكر حرام" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٥٣٩)، والنسائي (٨/ ٢٩٧)، وابن ماجه (٣٤٠١)، والطحاوي (١/ ٢١٥)، ووكيع في أخبار القضاة (٣/ ٤٣)، وابن الجارود (٨٥٨)، وأبو يعلى (٥٩٤٤)، وابن حبان (٥٤٠٨)، والبغوي (٣٠٢٧).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور (مشروب) حرام ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25297]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25297، ترقيم محمد عوامة 24213)
ترقیم عوامۃ: 24214 ترقیم الشثری: -- 25298
٢٥٢٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن ابان بن عبد الله البجلي عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال: قال نبي الله ﷺ:"كل مسكر حرام" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبان صدوق على الأظهر، وشعيب صدوق، أخرجه أحمد (٦٤٧٨)، والدارقطني ٤/ ٢٥٤، والطبراني في الأوسط (٦١٠٣)، وفي مسند الشاميين (٦٠٤)، وابن عدي ١/ ٣٨٧، وابن عساكر ٥٣/ ٣، والسهمي في تاريخ جرجان ١/ ٣٢٧، وبنحوه أخرجه أبو داود (٣٦٨٥).
حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25298، ترقيم محمد عوامة 24214)