مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
42. من كان يقول إذا اشتد عليك فاكسره بالماء
جو حضرات کہتے ہیں جب (کوئی مشروب) تمہیں سخت محسوس ہو تو تم اس کو پانی ملا کر توڑ ڈالو
ترقیم عوامۃ: 24691 ترقیم الشثری: -- 25787
٢٥٧٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن قرة العجلي عن عبد الملك بن القعقاع عن ابن عمر قال: كنا عند النبي ﷺ، فاتي بقدح فيه شراب، فقربه إلى فيه، ثم رده، [فقال (له) (١) بعض جلسائه: احرام هو يا رسول الله، قال: (ردوه) (٢) ] (٣) ، فردوه، ثم دعا بماء فصبه عليه ثم شربه فقال: انظروا هذه الاشربة، فإذا اغتلمت عليكم فاقطعوا (متونها) (٤) (٥) بالماء (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [جـ] زيادة: (فقال).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٤) في [أ، ح، ط]: (قوتها).
(٥) في [ز]: (قوة).
(٦) مجهول؛ لجهالة عبد الملك بن القعقاع، أخرجه النسائي في الكبرى (٥٢٠٤)، والطحاوي ٤/ ٢١٩، والدارقطني ٤/ ٢٦٢، والبيهقي ٨/ ٣٠٥، وابن أبي حاتم في المجروحين ٢/ ١٣٢، والمزي ٢٨/ ٤٢٦، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٩٨).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے منہ کے قریب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس رکھ دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض مجلس نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا یہ حرام ہے؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ ”اس مشروب کو واپس لاؤ۔“ چناچہ صحابہ نے وہ مشروب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا۔ اور پھر اس کو نوش فرما لیا۔ اور ارشاد فرمایا: ان مشروبات کو دیکھ لیا کرو۔ پس جب یہ تم پر سخت ہوجائیں تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ لیا کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25787]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25787، ترقيم محمد عوامة 24691)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25787 in Urdu