🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. من كان يقول إذا اشتد عليك فاكسره بالماء
جو حضرات کہتے ہیں جب (کوئی مشروب) تمہیں سخت محسوس ہو تو تم اس کو پانی ملا کر توڑ ڈالو
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24688 ترقیم الشثری: -- 25784
٢٥٧٨٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الاعمش عن إبراهيم عن همام بن الحارث قال: اتي عمر بنبيذ زبيب، فشرب منه، فقطب فدعا بماء فصبه عليه، ثم شرب (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ہمام بن حارث سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس کشمش کی نبیذ لائی گئی۔ پس آپ نے اس میں سے نوش فرمائی۔ پھر آپ نے اس میں آمیزش کی۔ چناچہ آپ نے پانی منگوایا اور اس کو نبیذ میں انڈیل دیا پھر نوش فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25784]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25784، ترقيم محمد عوامة 24688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24689 ترقیم الشثری: -- 25785
٢٥٧٨٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن (ابي) (١) عون قال: اتى عمر قوما من ثقيف قد حضر طعامهم (فقال: كلوا) (٢) الثريد قبل اللحم، فإنه يسد مكان (الخلل) (٣) ، وإذا اشتد نبيذكم فاكسروه بالماء، ولا تسقوه الاعراب (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (أبي).
(٢) في [ط]: (فأكلوا).
(٣) في [أ، ح، ط]: (الحلل).
(٤) منقطع، ابن عون لم يدرك عمر.

حضرت ابن عون سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر قبیلہ ثقیف کے کچھ لوگوں کے ہاں اس وقت تشریف لائے جب ان لوگوں کا کھانا حاضر تھا۔ پس آپ نے فرمایا: گوشت کھانے سے پہلے ثرید کھاؤ۔ کیونکہ یہ خلل کی جگہ کو پُر کرتی ہے اور جب تمہاری نبیذ سخت ہوجائے تو تم اس کو پانی کے ذریعہ سے توڑ دو اور یہ نبیذ دیہاتیوں کو نہ پلاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25785]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25785، ترقيم محمد عوامة 24689)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24690 ترقیم الشثری: -- 25786
٢٥٧٨٦ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (شعبة عن) (١) (شمسية) (٢) ⦗٣٥٢⦘ (قالت) (٣) : (سمعت) (٤) عائشة: تقول إن خشيت من نبيذك فاكسره بالماء] (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].
(٢) في [أ]: (سميسة)، وفي [ب، هـ]: (سمية).
(٣) في [جـ]: (قال).
(٤) سقط من [ح].
(٥) في [ط]: تكرر رقم [٢٥٧٨٦].
(٦) صحيح؛ وتقدم برقم [٢٥٣٧٩].

حضرت سمیہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سُنا۔ اگر تمہیں اپنی نبیذ سے خوف ہو تو تم اس کو پانی سے توڑ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25786]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25786، ترقيم محمد عوامة 24690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24691 ترقیم الشثری: -- 25787
٢٥٧٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن قرة العجلي عن عبد الملك بن القعقاع عن ابن عمر قال: كنا عند النبي ﷺ، فاتي بقدح فيه شراب، فقربه إلى فيه، ثم رده، [فقال (له) (١) بعض جلسائه: احرام هو يا رسول الله، قال: (ردوه) (٢) ] (٣) ، فردوه، ثم دعا بماء فصبه عليه ثم شربه فقال: انظروا هذه الاشربة، فإذا اغتلمت عليكم فاقطعوا (متونها) (٤) (٥) بالماء (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [جـ] زيادة: (فقال).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٤) في [أ، ح، ط]: (قوتها).
(٥) في [ز]: (قوة).
(٦) مجهول؛ لجهالة عبد الملك بن القعقاع، أخرجه النسائي في الكبرى (٥٢٠٤)، والطحاوي ٤/ ٢١٩، والدارقطني ٤/ ٢٦٢، والبيهقي ٨/ ٣٠٥، وابن أبي حاتم في المجروحين ٢/ ١٣٢، والمزي ٢٨/ ٤٢٦، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٩٨).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے منہ کے قریب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس رکھ دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض مجلس نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا یہ حرام ہے؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ اس مشروب کو واپس لاؤ۔ چناچہ صحابہ نے وہ مشروب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا۔ اور پھر اس کو نوش فرما لیا۔ اور ارشاد فرمایا: ان مشروبات کو دیکھ لیا کرو۔ پس جب یہ تم پر سخت ہوجائیں تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ لیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25787]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25787، ترقيم محمد عوامة 24691)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24692 ترقیم الشثری: -- 25788
٢٥٧٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى بن ابي (كثير) (١) عن سالم الدوسي انه سمع ابا هريرة يقول: من رابه من نبيذه فليشن عليه الماء، فيذهب حرامه ويبقى حلاله (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (كثر).
(٢) حسن؛ سالم الدوسي صدوق.

حضرت سالم دوسی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو کہتے سُنا۔ جس آدمی کو اس کی نبیذ شک میں ڈالے تو اس کو اس نبیذ پر پانی چھڑ ک لینا چاہیئے۔ پس اس کا حرام چلا جائے گا اور اس کا حلال باقی رہ جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25788]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25788، ترقيم محمد عوامة 24692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24693 ترقیم الشثری: -- 25789
٢٥٧٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن (ابي) (١) كثير الحنفي عن ابي هريرة قال: من رابه من شرابه شيء فليكسره بالماء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أبو).
(٢) صحيح؛ عكرمة ثقة في روايته عن غير يحيى بن أبي كثير.

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ جس شخص کو اس کا مشروب شک میں ڈالے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اس مشروب کو پانی سے پتلا کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25789]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25789، ترقيم محمد عوامة 24693)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24694 ترقیم الشثری: -- 25790
٢٥٧٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد الواحد بن ايمن عن ابيه عن نافع بن عبد الحارث قال: قال: عمر اشربوا هذا النبيذ في هذه الاسقية، (فإنه يقيم) (١) الصلب، ويهضم ما في البطن، وإنه (لن) (٢) يغلبكم ما وجدتم الماء (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ط]: (فإنها تقيم).
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (لم).
(٣) صحيح.

حضرت نافع بن عبد الحارث سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا ارشاد ہے۔ اس نبیذ کو ان اسقیہ یعنی برتنوں میں پی لو۔ کیونکہ یہ پشت کو سیدھی رکھتی ہے اور پیٹ میں موجود غذا کو ہضم کرتی ہے۔ اور جب تک تمہیں پانی ملتا ہو یہ مشروب تم پر غالب نہیں آئے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25790]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25790، ترقيم محمد عوامة 24694)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں