مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
108. في تشميت العاطس، من قال: لا يشمت حتى يحمد الله
چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
ترقیم عوامۃ: 26496 ترقیم الشثری: -- 27653
٢٧٦٥٣ - حدثنا قاسم بن مالك المزني عن عاصم بن كليب عن ابي بردة قال: دخلت على ابي موسى وهو في بيت بنت الفضل، فعطست فلم (يشمتني) (١) وعطست فشمتها؟ (فرجعت إلى امي فاخبرتها، فلما جاءها قالت: عطس عندك ابني فلم تشمته، وعطست فشمتها) (٢) ، قال: إن ابنك عطس ولم يحمد الله فلم اشمته، وعطست وحمدت الله فشمتها، وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا عطس احدكم فحمد الله فشمتوه وإذا لم يحمد الله فلا تشمتوه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (تشمتني).
(٢) سقط ما بين القوسين من: [أ، جـ، ح، ط].
(٣) صحيح؛ قاسم وعاصم ثقتان على الصحيح؛ أخرجه مسلم (٢٩٩٢)، وأحمد (١٩٦٩٦).
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ بنت فضل کے گھر میں تھے، پس مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے یرحمک اللہ نہیں کہا اور بنت فضل کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ میں اپنی والدہ کے پاس واپس آیا اور میں نے انہیں اس بارے میں بتایا جب وہ آپ کی خد مت میں آئیں تو کہا: بیشک میرے بیٹے کو آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس کو تو یرحمک اللہ نہیں کہا، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ آپ نے فرمایا: تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ نہیں کہا، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ کے ذریعہ جواب دیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو تم اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دو اور جب وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ مت کہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27653]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27653، ترقيم محمد عوامة 26496)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 27653 in Urdu