🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. في درء الحدود بالشبهات
شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29092 ترقیم الشثری: -- 30402
٣٠٤٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن ابيه قال: قال ابو موسى: اتيت وانا باليمن امراة حبلى فسالتها فقالت: ما تسال عن امراة ⦗٤٢٥⦘ حبلى ثيب من غير بعل، اما والله ما (خاللت) (١) خليلا، ولا (خادنت) (٢) خدنا منذ (اسلمت) (٣) ، ولكن بينا انا نائمة بفناء بيتي -والله- ما ايقظني إلا رجل (رفصني) (٤) والقى في بطني مثل الشهاب، ثم نظرت إليه (مقفيا) (٥) ما ادري من هو من خلق الله، فكتبت فيها إلى عمر، فكتب عمر: (وافني) (٦) بها وبناس من قومها، قال: فوافيناه (بالموسم) (٧) فقال شبه الغضبان: لعلك قد سبقتني بشيء من امر المراة؟ قال: قلت: لا، وهي معي، وناس من قومها. فسالها فاخبرته كما اخبرتني، ثم سال قومها فاثنوا خيرا، قال: فقال عمر: شابة تهامية (نومة) (٨) ، قد كان يفعل (فمارها) (٩) وكساها، واوصى (بها قومها) (١٠) خيرا (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (خالت).
(٢) في [جـ، ك]: (خادثت).
(٣) بياض في: [م].
(٤) الرفص: الضرب بالرجل، كما في شرح النووي لمسلم (١٨/ ٥٤)، وعمدة القاري (٨/ ١٧٠)، ومشارق الأنوار (١/ ٢٩٤)، وفي [ط، هـ]: (رفعني)، وفي المحلى (٨/ ٢٥١): (ركبني)، وفي أخبار القضاة (١٥/ ١٠١): (رقصني).
(٥) في [ط، هـ]: (مقفى).
(٦) في [ط، هـ]: (ائتني).
(٧) في [جـ، ك، م]: (بالموسى).
(٨) أي: ثقيلة النوم، وفي [أ، هـ]: (قد نومت).
(٩) أي: أعطاها الميسرة، وفي [هـ]: (قمارهما).
(١٠) في [جـ، ك، م]: (قومها بها).
(١١) حسن؛ كليب صدوق.

حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ارشاد فرمایا: میں یمن میں تھا کہ میرے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی میں نے اس سے اس بارے میں سوال کیا؟ تو اس نے کہا: کیا آپ ایسی حاملہ عورت کے متعلق پوچھ رہے ہیں جو خاوند کے علاوہ سے ثیبہ کی گئی ہے؟ اللہ کی قسم! جب سے میں اسلام لائی ہوں نہ میں نے کسی کو دوست بنایا اور نہ ہی کسی کو ہمنشین بنایا ہے لیکن ایک دن میں اپنے گھر کے صحن میں سوئی ہوئی تھی۔ اللہ کی قسم! مجھے بیدار نہیں کیا گیا مگر ایک آدمی نے اس نے مجھے ہلکے سے اٹھایا اور اس نے میرے پیٹ میں ستارے جیسی چیز ڈال دی پھر میں نے اسے دور کرتے ہوئے اس کی طرف غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا؟ آپ فرماتے ہیں: میں نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا: تو حضرت عمر نے جواب لکھا: اس عورت کو اور اس کی قوم کے چند لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ آپ فرماتے ہیں: ہم لوگ موسم حج میں ان کے پاس آئے حضرت عمر نے غصہ کی سی حالت میں فرمایا: شاید کہ تم اس عورت کے معاملہ میں مجھ پر کچھ سبقت لے گئے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، وہ عورت اور اس کی قوم کے چند لوگ میرے ساتھ ہیں۔ پھر آپ نے اس عورت سے سوال کیا، تو اس نے آپ کو بھی ویسے ہی بات بتلائی جیسے اس نے مجھے بتلائی تھی۔ پھر آپ نے اس کی قوم سے اس کے متعلق پوچھا: تو ان لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی اس پر حضرت عمر نے فرمایا: تِھَامیۃ کی جوان عورت بہت سونے والی ہے کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے پس آپ نے اسے خوراک دی اور اسے کپڑے پہنائے اور اس کی قوم کو اس کے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30402]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30402، ترقيم محمد عوامة 29092)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30402 in Urdu