مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
70. في درء الحدود بالشبهات
شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 29093 ترقیم الشثری: -- 30403
٣٠٤٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال: بينما نحن بمنى مع عمر إذا امراة ضخمة على ⦗٤٢٦⦘ حمارة تبكي، قد كاد الناس ان يقتلوها من الزحام، يقولون: زنيت، فلما انتهت إلى عمر قال: ما يبكيك؟ إن (المراة) (١) ربما استكرهت، فقالت: كنت امراة ثقيلة الراس، وكان الله يرزقني من صلاة الليل، فصليت ليلة ثم نمت، فوالله ما ايقظني إلا الرجل قد ركبني، (فنظرت) (٢) إليه مقفيا، ما ادري (من) (٣) هو من خلق الله، فقال عمر: لو قتلت هذه خشيت على الاخشبين النار، ثم كتب إلى الامصار الا تقتل نفس دونه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (امرأة).
(٢) في [هـ]: (فرأيت).
(٣) في [جـ]: (ما).
(٤) صحيح.
حضرت نزال بن سبرہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم منی میں حضرت عمر کے ساتھ تھے ایک بھاری بھر کم عورت گدھے پر رو رہی تھی۔ قریب تھا کہ لوگ رش سے اس کو مار دیتے۔ وہ کہہ رہے تھے: تو نے زنا کیا ہے۔ پس جب وہ حضرت عمر کے پاس پہنچی آپ نے پوچھا: کس بات نے تجھے رلایا؟ بیشک کبھی کبھار عورت کو بدکاری پر مجبور بھی کردیا جاتا ہے! اس عورت نے کہا: میں بہت زیادہ سونے والی عورت ہوں اور اللہ رب العزت مجھے رات کی نماز کی توفیق عطا فرماتے تھے پس میں نے ایک رات نماز پڑھی پھر میں سو گئی اللہ کی قسم! مجھے بیدار نہیں کیا مگر اس آدمی نے تحقیق جو مجھ پر سوار ہوچکا تھا۔ میں نے اس کو دور کرتے ہوئے غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا؟ اس پر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: اگر میں اس کو قتل کردوں تو مجھے جہنم کی سختی کا خوف ہے پھر آپ نے شہروں میں خط لکھ دیا: کہ کسی جان کو بغیر وجہ کے قتل نہ کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30403]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30403، ترقيم محمد عوامة 29093)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30403 in Urdu