مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
70. في درء الحدود بالشبهات
شکوک و شبہات کی بنیاد پر سزائیں ختم کرنے کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 29085 ترقیم الشثری: -- 30395
٣٠٣٩٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا هشيم عن منصور عن الحارث عن إبراهيم قال: قال عمر بن الخطاب: (لان) (١) اعطل الحدود بالشبهات احب إلي من ان اقيمها (في الشبهات) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (لئن).
(٢) في [ط، هـ]: (بالشبهات).
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عمر.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا: میں حدود کو شکوک و شبہات کی وجہ سے معطل کردوں یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ان سزاؤں کو شبہات میں قائم کردوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30395]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30395، ترقيم محمد عوامة 29085)
ترقیم عوامۃ: 29086 ترقیم الشثری: -- 30396
٣٠٣٩٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن إسحاق بن ابي فروة عن عمرو بن شعيب عن ابيه ان معاذا وعبد الله بن مسعود وعقبة بن عامر قالوا: إذا اشتبه عليك الحد (فادراه) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (فادرأوه).
(٢) ضعيف جدًا؛ إسحاق متروك.
حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ، حضرت ابن مسعود اور حضرت عقبہ بن عامر ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا: جب تم پر حد مشتبہ ہوجائے تو اس کو زائل کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30396]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30396، ترقيم محمد عوامة 29086)
ترقیم عوامۃ: 29087 ترقیم الشثری: -- 30397
٣٠٣٩٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب ان امراة زنت فقال عمر: اراها كانت تصلي من الليل فخشعت فركعت فسجدت، فاتاها غاو من الغواة (فتجثمها) (١) فارسل عمر إليها فقالت كما قال عمر، فخلى سبيلها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: (فجثمها)، وفي [ط، هـ]: (فتحتمها).
(٢) صحيح.
حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے زنا کیا اس پر حضرت عمر نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ رات کو نماز پڑھ رہی تھی پس وہ ڈر گئی سو اس نے رکوع کیا پھر وہ سجدہ میں چلی گئی۔ اتنے میں گمراہوں میں سے ایک گمراہ شخص آیا ہوگا اور وہ اس کے اوپر چڑھ گیا ہوگا۔ حضرت عمر نے اس عورت کی طرف قاصد بھیجا تو اس عورت نے وہی بات کہی جو حضرت عمر نے بیان کی تھی۔ آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30397]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30397، ترقيم محمد عوامة 29087)
ترقیم عوامۃ: 29088 ترقیم الشثری: -- 30398
٣٠٣٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الاعمش عن إبراهيم قال: كانوا يقولون: ادراوا الحدود عن (عباد) (١) الله ما استطعتم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (عبد).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ فرمایا کرتے تھے: سزاؤں کو اللہ رب العزت کے بندوں سے اپنی طاقت کے بقدر زائل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30398]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30398، ترقيم محمد عوامة 29088)
ترقیم عوامۃ: 29089 ترقیم الشثری: -- 30399
٣٠٣٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن برد عن الزهري قال: (ادفعوا الحدود) (١) بكل شبهة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) بياض في: [م].
حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا: ہر شبہ کی وجہ سے سزاؤں کو دور کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30399]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30399، ترقيم محمد عوامة 29089)
ترقیم عوامۃ: 29090 ترقیم الشثری: -- 30400
٣٠٤٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن ابي وائل عن عبد الله قال: ادراوا القتل والجلد عن المسلمين ما استطعتم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ عاصم ضعيف في أبي وائل.
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا: قتل اور کوڑے کو مسلمانوں سے اپنی طاقت کے بقدر زائل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30400، ترقيم محمد عوامة 29090)
ترقیم عوامۃ: 29091 ترقیم الشثری: -- 30401
٣٠٤٠١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن إبراهيم قال: قال (١) : اطردوا (المعترفين) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عمر) نقلًا عن سنن البيهقي (٨/ ٢٧٦).
(٢) في [أ، ب، ط]: (المقترفين).
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا: اعتراف کرنے والوں سے سزاؤں کو دور کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30401]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30401، ترقيم محمد عوامة 29091)
ترقیم عوامۃ: 29092 ترقیم الشثری: -- 30402
٣٠٤٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن ابيه قال: قال ابو موسى: اتيت وانا باليمن امراة حبلى فسالتها فقالت: ما تسال عن امراة ⦗٤٢٥⦘ حبلى ثيب من غير بعل، اما والله ما (خاللت) (١) خليلا، ولا (خادنت) (٢) خدنا منذ (اسلمت) (٣) ، ولكن بينا انا نائمة بفناء بيتي -والله- ما ايقظني إلا رجل (رفصني) (٤) والقى في بطني مثل الشهاب، ثم نظرت إليه (مقفيا) (٥) ما ادري من هو من خلق الله، فكتبت فيها إلى عمر، فكتب عمر: (وافني) (٦) بها وبناس من قومها، قال: فوافيناه (بالموسم) (٧) فقال شبه الغضبان: لعلك قد سبقتني بشيء من امر المراة؟ قال: قلت: لا، وهي معي، وناس من قومها. فسالها فاخبرته كما اخبرتني، ثم سال قومها فاثنوا خيرا، قال: فقال عمر: شابة تهامية (نومة) (٨) ، قد كان يفعل (فمارها) (٩) وكساها، واوصى (بها قومها) (١٠) خيرا (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (خالت).
(٢) في [جـ، ك]: (خادثت).
(٣) بياض في: [م].
(٤) الرفص: الضرب بالرجل، كما في شرح النووي لمسلم (١٨/ ٥٤)، وعمدة القاري (٨/ ١٧٠)، ومشارق الأنوار (١/ ٢٩٤)، وفي [ط، هـ]: (رفعني)، وفي المحلى (٨/ ٢٥١): (ركبني)، وفي أخبار القضاة (١٥/ ١٠١): (رقصني).
(٥) في [ط، هـ]: (مقفى).
(٦) في [ط، هـ]: (ائتني).
(٧) في [جـ، ك، م]: (بالموسى).
(٨) أي: ثقيلة النوم، وفي [أ، هـ]: (قد نومت).
(٩) أي: أعطاها الميسرة، وفي [هـ]: (قمارهما).
(١٠) في [جـ، ك، م]: (قومها بها).
(١١) حسن؛ كليب صدوق.
حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ارشاد فرمایا: میں یمن میں تھا کہ میرے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی میں نے اس سے اس بارے میں سوال کیا؟ تو اس نے کہا: کیا آپ ایسی حاملہ عورت کے متعلق پوچھ رہے ہیں جو خاوند کے علاوہ سے ثیبہ کی گئی ہے؟ اللہ کی قسم! جب سے میں اسلام لائی ہوں نہ میں نے کسی کو دوست بنایا اور نہ ہی کسی کو ہمنشین بنایا ہے لیکن ایک دن میں اپنے گھر کے صحن میں سوئی ہوئی تھی۔ اللہ کی قسم! مجھے بیدار نہیں کیا گیا مگر ایک آدمی نے اس نے مجھے ہلکے سے اٹھایا اور اس نے میرے پیٹ میں ستارے جیسی چیز ڈال دی پھر میں نے اسے دور کرتے ہوئے اس کی طرف غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا؟ آپ فرماتے ہیں: میں نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا: تو حضرت عمر نے جواب لکھا: اس عورت کو اور اس کی قوم کے چند لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ آپ فرماتے ہیں: ہم لوگ موسم حج میں ان کے پاس آئے حضرت عمر نے غصہ کی سی حالت میں فرمایا: شاید کہ تم اس عورت کے معاملہ میں مجھ پر کچھ سبقت لے گئے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، وہ عورت اور اس کی قوم کے چند لوگ میرے ساتھ ہیں۔ پھر آپ نے اس عورت سے سوال کیا، تو اس نے آپ کو بھی ویسے ہی بات بتلائی جیسے اس نے مجھے بتلائی تھی۔ پھر آپ نے اس کی قوم سے اس کے متعلق پوچھا: تو ان لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی اس پر حضرت عمر نے فرمایا: تِھَامیۃ کی جوان عورت بہت سونے والی ہے کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے پس آپ نے اسے خوراک دی اور اسے کپڑے پہنائے اور اس کی قوم کو اس کے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30402]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30402، ترقيم محمد عوامة 29092)
ترقیم عوامۃ: 29093 ترقیم الشثری: -- 30403
٣٠٤٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال: بينما نحن بمنى مع عمر إذا امراة ضخمة على ⦗٤٢٦⦘ حمارة تبكي، قد كاد الناس ان يقتلوها من الزحام، يقولون: زنيت، فلما انتهت إلى عمر قال: ما يبكيك؟ إن (المراة) (١) ربما استكرهت، فقالت: كنت امراة ثقيلة الراس، وكان الله يرزقني من صلاة الليل، فصليت ليلة ثم نمت، فوالله ما ايقظني إلا الرجل قد ركبني، (فنظرت) (٢) إليه مقفيا، ما ادري (من) (٣) هو من خلق الله، فقال عمر: لو قتلت هذه خشيت على الاخشبين النار، ثم كتب إلى الامصار الا تقتل نفس دونه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (امرأة).
(٢) في [هـ]: (فرأيت).
(٣) في [جـ]: (ما).
(٤) صحيح.
حضرت نزال بن سبرہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم منی میں حضرت عمر کے ساتھ تھے ایک بھاری بھر کم عورت گدھے پر رو رہی تھی۔ قریب تھا کہ لوگ رش سے اس کو مار دیتے۔ وہ کہہ رہے تھے: تو نے زنا کیا ہے۔ پس جب وہ حضرت عمر کے پاس پہنچی آپ نے پوچھا: کس بات نے تجھے رلایا؟ بیشک کبھی کبھار عورت کو بدکاری پر مجبور بھی کردیا جاتا ہے! اس عورت نے کہا: میں بہت زیادہ سونے والی عورت ہوں اور اللہ رب العزت مجھے رات کی نماز کی توفیق عطا فرماتے تھے پس میں نے ایک رات نماز پڑھی پھر میں سو گئی اللہ کی قسم! مجھے بیدار نہیں کیا مگر اس آدمی نے تحقیق جو مجھ پر سوار ہوچکا تھا۔ میں نے اس کو دور کرتے ہوئے غور سے دیکھا میں نہیں جانتی کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سے کون تھا؟ اس پر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: اگر میں اس کو قتل کردوں تو مجھے جہنم کی سختی کا خوف ہے پھر آپ نے شہروں میں خط لکھ دیا: کہ کسی جان کو بغیر وجہ کے قتل نہ کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30403]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30403، ترقيم محمد عوامة 29093)
ترقیم عوامۃ: 29094 ترقیم الشثری: -- 30404
٣٠٤٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن يزيد بن (زياد البصري) (١) عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: ادراوا الحدود عن (المسلمين ما) (٢) استطعتم، فإذا وجدتم للمسلم مخرجا فخلوا سبيله، فإن الإمام (إن يخطئ) (٣) في العفو خير من ان يخطئ في العقوبة (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) بياض في: [م].
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (إذا أخطأ).
(٤) في [هـ] زيادة: (تم بحمد اللَّه ﷾ الجزء التاسع، ويليه إن شاء اللَّه الجزء العاشر وأوله باب: [من قال لا حد على من أتى بهيمة] من كتاب الحدود.
(٥) ضعيف جدًا؛ لحال يزيد بن زياد، وروي مرفوعًا عند الترمذي (١٤٢٤)، والحاكم ٤/ ٣٨٤، والبيهقي ٨/ ٢٣٨، وقد سمى ابن عساكر يزيد بن زياد بالبصري.
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: سزاؤں کو مسلمانوں سے اپنی طاقت کے بقدر دور کرو پس جب تم مسلمانوں کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ پاؤ تو ان کو چھوڑ دو اس لیے کہ حاکم کا معافی میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30404]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30404، ترقيم محمد عوامة 29094)