🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
118. في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟
زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29379 ترقیم الشثری: -- 30702
٣٠٧٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن زيد بن اسلم عن يزيد بن نعيم عن ابيه قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ ﷺ (١) فقال: يا رسول الله (٢) إني قد زنيت فاقم في كتاب الله، فاعرض عنه، ثم قال: إني قد زنيت فاقم في كتاب الله، فاعرض عنه، حتى ذكر اربع مرات، قال:"اذهبوا (٣) فارجموه"، فلما (مسته) (٤) (مس) (٥) الحجارة اشتد، (فخرج) (٦) عبد الله بن انيس -او ابن انس- من باديته، فرماه بوظيف جمل، فصرعه، فرماه الناس حتى قتلوه، فذكر (ذلك) (٧) للنبي ﷺ فراره (فقال) (٨) :" (فهلا) (٩) ⦗٤٩٨⦘ تركتموه (١٠) يتوب فيتوب الله عليه، يا [ (هزال او يا هزان) (١١) لو سترته بثوبك كان خيرا لك مما صنعت] (١٢) (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) زيادة في [ب]: ﷺ.
(٣) في [هـ]: زيادة (به)، وفي [ز، ر]: (اذهب).
(٤) في [ط]: (مسه).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [جـ]: (يخرج).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [أ، ب، ط]: (قال).
(٩) في [جـ، ك]: (هلا)، وفي [ب]: (أفلا).
(١٠) في [هـ]: زيادة (فلعله).
(١١) في [جـ]: (يا هزال أو يا هزان)، وفي [ط]: (يا هذا أو يا هران)، وفي [أ]: (يا هرانًا أو يا هران)، وفي [أ]: (يا مزال، أو يا هزال).
(١٢) بياض في: [ب].
(١٣) حسن؛ يزيد صدوق، أخرجه أحمد (٢١٨٩٢)، وأبو داود (٤٣٧٧)، والنسائي في الكبرى (٧٢٠٥)، والحاكم ٤/ ٣٦٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٩٣)، وابن قانع ٣/ ١٥٠، والبيهقي ٣/ ٣٣٠، وسبق ١٠/ ٧١ برقم [٣٠٦٨٢].

حضرت نعیم فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں آپ نے ان سے اعراض کیا انہوں نے پھر کہا: بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ان سے اعراض کیا یہاں تک انہوں نے چار مرتبہ ذکر کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لیجاؤ اور اسے سنگسار کردو پس جب ان کو پتھروں کی تکلیف بہت زیادہ محسوس ہوئی تو وہ دوڑے اتنے میں حضرت عبداللہ بن انیس یا ابن انس اپنے جنگل سے نکلے اور انہوں نے اس کو اونٹ کی پنڈلی مار کر ان کو نیچے گرادیا سو لوگوں نے ان کو پتھر مارے یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کے بھاگنے کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا کہ وہ توبہ کرلیتا اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے اے ھزال یایوں فرمایا: اے ھزان! اگر تو اپنے کپڑے سے اس کو چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا اس کام سے جو تو نے کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30702، ترقيم محمد عوامة 29379)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30702 in Urdu