مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
119. في البكر والثيب ما يصنع بهما إذا فجرا؟
باکرہ اور شیبہ کے بیان میں کہ ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا جب وہ دونوں بدکاری کریں؟
ترقیم عوامۃ: 29380 ترقیم الشثری: -- 30703
٣٠٧٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد الله ابن عبد الله عن ابي هريرة وزيد بن خالد وشبل انهم قالوا: كنا عند النبي ﷺ، فقام رجل فقال: انشدك (الله) (١) الا قضيت بيننا بكتاب الله، فقال خصمه -وكان افقه منه-: اقض بيننا بكتاب الله وائذن لي حتى اقول، قال:"قل" قال: إن ابني كان عسيفا (على هذا) (٢) وإنه زنى بامراته فافتديت منه بمائة (شاة) (٣) وخادم، فسالت رجالا من اهل العلم فاخبرت ان على ابني جلد مائة وتغريب عام، وان على امراة هذا الرجم فقال النبي ﷺ:"والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، المائة شاة والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا ⦗٤٩٩⦘ انيس على امراة هذا فإن اعترفت فارجمها" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط]: (شهادة).
(٤) صحيح؛ وهم سفيان في ذكر شبل فيه، أخرجه أحمد (١٧٠٤٢)، والترمذي (١٤٣٣)، وابن ماجه (٢٥٤٩)، والنسائي ٨/ ٢٤١، والشافعي في السنن (٥٣١)، والحميدي (٨١١)، وابن الجارود (٨١١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١١٣)، والطحاوي ٣/ ١٣٤، والبيهقي ٨/ ٢٢٢، والطبراني (٥١٩٢)، وأصله عند البخاري (٦٨٢٧)، ومسلم (١٦٩٧).
حضرت عبید اللہ بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ حضرت زید بن خالد اور حضرت شبل ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا: کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر کہنے لگا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فلہار فرمائیں گے۔ اتنے میں اس کے مد مقابل نے بھی کہا! اور وہ پہلے والے سے زیادہ سمجھدار تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں کچھ کہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو، اس نے کہا بیشک میرا بیٹا اس کا خدمت گار تھا اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا پس میں نے اس کو سو بکریاں اور ایک خادم فدیہ دے کر اپنے بچے کو چھڑا لیا پھر میں نے علماء سے اس بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ بیشک میرے بیٹے پر سو کوڑوں کی اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی سزا ہوگی اور اس عورت پر رجم کی سزا جاری ہوگی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور بالضرور تمہارے بیٹے پر سو کوڑوں اور ایک سال جلا وطنی کی سزا جاری ہوگی اور اے انیس! اس عورت کے پاس جاؤ، پس اگر وہ اعتراف کرلے تو اس کو سنگسار کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30703، ترقيم محمد عوامة 29380)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30703 in Urdu