مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
154. فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل
ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
ترقیم عوامۃ: 29546 ترقیم الشثری: -- 30881
٣٠٨٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا ليث بن (١) سعد عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن (عبيد الله) (٢) بن عدي بن الخيار عن المقداد انه اخبره انه قال: يا رسول الله ارايت إن لقيت رجلا من الكفار فقاتلني فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها، ثم لاذ مني بشجرة فقال: اسلمت لله: اقتله يا رسول الله (٣) بعد ان قالها؟ فقال رسول الله ﷺ:"لا تقتله"، فقلت: يا رسول الله، قطع يدي ثم قال (ذلك بعد) (٤) ان قطعها فاقتله؟ قال:"لا تقتله (وإن قتلته) (٥) فإنه بمنزلتك قبل ان تقتله، وانت بمنزلته قبل ان يقول: الكلمة التي قال" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، ك]: زيادة (سوار قال: حدثنا ليث بن سعد).
(٢) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٣) زيادة في [ك]: (قطع يدي).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (بعد ذلك).
(٥) سقط من: [أ، ط، ح، هـ].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٦٥)، ومسلم (٩٥).
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ اگر میں کفار کے کسی آدمی سے ملوں پس وہ مجھ سے قتال کرے اور میرے ایک ہاتھ کو تلوار کی ضرب سے کاٹ دے۔ پھر وہ شخص درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگنے لگے اور کہے کہ میں اللہ کے لیے اسلام لایا، یا رسول اللہ! کیا میں یہ کلمہ پڑھنے کے بعد اس کو قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے قتل مت کرو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس نے میرا ہاتھ کاٹا پھر اس نے یہ کاٹنے کے بعد یہ کلمہ پڑھا ہو پھر میں اسے قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے قتل مت کرو، اور اگر تم نے اسے قتل کردیا تو بیشک تمہارے درجہ میں ہوجائے گا جیسا کہ تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کے درجہ میں ہو جاؤ گے جیسا کہ وہ اس کلمہ کو کہنے سے پہلے تھا جو کلمہ اس نے پڑھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30881]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30881، ترقيم محمد عوامة 29546)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30881 in Urdu