🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
154. فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل
ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29547 ترقیم الشثری: -- 30882
٣٠٨٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: جاء ابو العالية إلي وإلى صاحب لي (فقال) (١) : هلما فإنكما اشب مني (و) (٢) اوعى للحديث مني، فانطلقنا حتى اتينا بشر بن عاصم الليثي (فقال) (٣) [ابو العالية: حدث هذين حديثك، فقال: حدثنا عقبة بن مالك الليثي] (٤) (فقال) (٥) : بعث النبي ﷺ (٦) سرية فاغارت على القوم (فشذ) (٧) رجل من القوم فاتبعه رجل من السرية معه سيف شاهر، فقال الشاذ من القوم: إني مسلم، فلم ينظر (فيما قال) (٨) ، فضربه فقتله، فنمى الحديث إلى النبي ﷺ فقال النبي ﵇ (٩) قولا شديدا، فبلغ القاتل (١٠) ، فبينما النبي ﷺ يخطب إذ قال القاتل: والله يا نبي الله، ما قال الذي قال إلا تعوذا من القتل، فاعرض النبي ﷺ (عنه) (١١) وعمن يليه من الناس، وفعل ذلك مرتين كل ذلك يعرض عنه النبي ﷺ بوجهه، فلم يصبر ان قال الثالثة مثل ذلك، (واقبل النبي) (١٢) ﵇ ⦗٣٤⦘ بوجهه تعرف (المساءة) (١٣) في وجهه فقال:"إن الله ابى علي فيمن قتل مؤمنا -ثلاث مرات- يقول ذلك" (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (قال).
(٢) في [ط، هـ]: (أو)
(٣) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٤) سقط ما بين المعقوفتين من: [ط، هـ].
(٥) في [أ، ب، هـ]: (قال).
(٦) في [أ، ب، ك]: ﵇.
(٧) في [جـ، ك]: (فشد).
(٨) في [ط]: (فيمال قال).
(٩) في [جـ]: ﷺ، وسقط من: [أ، ب، ك].
(١٠) في [ب]: (همهم)
(١١) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) في [ط]: (الساءة).
(١٤) حسن؛ بشر بن عاصم الليثي صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٤٩٠)، والنسائي في الكبرى (٨٥٩٣)، وابن حبان (٥٩٧٢)، والحاكم ١/ ١٨، وابن سعد ٧/ ٤٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٤٢)، وأبو يعلى (٦٨٢٩)، والطحاوي ٣/ ٢٠٨، والطبراني ١٢/ (٩٨٠)، والبيهقي ٩/ ١١٦، والخطيب في المتفق (٢٧٣)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٤٥، وابن قانع ٢/ ٢٧٥، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٥٩، والمزي ٢٠/ ٢٢٠.

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ میرے اور میرے ایک ساتھی کے پاس آئے اور فرمانے لگے: آؤ، بیشک تم دونوں مجھ سے زیادہ نوجوان ہو، اور حدیث کو مجھ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہو۔ سو ہم لوگ گئے یہاں تک کہ ہم حضرت بشر بن عاصم لیثی کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابو العالیہ نے فرمایا: تو اپنی حدیث ان دونوں سے بیان کردو، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عقبہ بن مالک لیثی نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا جس نے قوم پر حملہ کردیا پس اس قوم سے ایک آدمی دوڑ لگا دی، تو لشکر کے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے پاس ننگی تلوار تھی، اس قوم سے دوڑنے والے شخص نے کہا: بیشک میں مسلمان ہوں۔ اس لشکر کے آدمی نے اس کی بات میں غور نہیں کیا اور اس کو وار کر کے قتل کردیا۔ پھر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اس وقت قاتل نے کہا: یا نبی اللہ! اللہ کی قسم! اس نے جو بھی بات کہی وہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا اور ان لوگوں سے بھی جو اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ایسا کیا، ہر بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا چہرہ پھیرلیا۔ پس اس سے صبر نہ ہوسکا تو اس نے تیری بار بھی یہی بات کی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کیا اس حال میں کہ ناراضگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم ہو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نے مجھ پر انکار کیا ہے اس شخص کے بارے میں جو مومن کو قتل کر دے۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30882]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30882، ترقيم محمد عوامة 29547)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30882 in Urdu