🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
154. فيما يحقن به الدم ويرفع به عن الرجل القتل
ان وجوہات کا بیان جن کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور آدمی سے قتل کی تخفیف ہو جاتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29548 ترقیم الشثری: -- 30883
٣٠٨٨٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال: لما ارتد من ارتد على عهد ابي بكر اراد ابو بكر ان يجاهدهم، فقال عمر: (اتقاتلهم) (١) وقد سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من شهد لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله، حرم (ماله) (٢) إلا بحق، (و) (٣) حسابهم على الله (تعالى) (٤) " فقال ابو بكر: (انا) (٥) (لا اقاتل) (٦) من فرق بين الصلاة والزكاة؟ والله لاقاتلن من فرق بينهما حتى اجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه وكان رشدا، فلما ظفر بمن ظفر به منهم قال: اختاروا مني خصلتين: إما (حرب) (٧) ⦗٣٥⦘ (مجلية) (٨) وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا انهم في الجنة وعلى قتلاكم انهم في النار، ففعلوا (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نقاتلهم).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (مالهم).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٥) في [جـ]: (إني).
(٦) في [جـ]: (أقاتل)، وفي [أ، ط، هـ]: (لأقاتل).
(٧) في [هـ]: (الحرب).
(٨) في [هـ]: (المجلية).
(٩) مرسل ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، وعبيد اللَّه لم يدرك الواقعة، وقد ورد الحديث بنحوه من طريق عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).

حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ارشاد فرمایا: جب مرتد ہوگئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم ان سے قتال کرو گے حالانکہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر کسی حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: بیشک میں قتال کروں گا اس شخص سے جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا، اللہ کی قسم! میں ضرور قتال کروں گا اس شخص سے جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا، یہاں تک کہ میں ان دونوں کو اکٹھا کر دوں۔ حضرت عمر فرماتے ہیں: سو ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اور وہ ہدایت پر تھے، پس جب وہ کامیاب ہوگئے ان لوگوں کی مدد سے جنہوں نے ان کے ساتھ کوشش کی تھی۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرلو: یا تو خوفناک جنگ یا پھر رسوا کردینے والا صلح کا منصوبہ۔ ان لوگوں نے کہا: اس خوفناک جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا۔ پس یہ رسوا کردینے والا منصوبہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم ہمارے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین پر گواہی دو کہ بیشک وہ جہنم میں ہیں۔ پس انہوں نے ایسا کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30883]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30883، ترقيم محمد عوامة 29548)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30883 in Urdu