مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا
وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
ترقیم عوامۃ: 31126 ترقیم الشثری: -- 32508
٣٢٥٠٨ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا (عوف) (١) عن ابي رجاء قال: حدثنا سمرة بن جندب قال: كان رسول الله ﷺ (مما) (٢) يقول لاصحابه:"هل راى احد منكم رؤيا" فيقص عليه ما شاء الله ان يقص، فقال لنا ذات غداة:"إني اتاني الليلة آتيان او اثنان -الشك من هوذة- (فقالا) (٣) لي: انطلق، فانطلقت معهما، ⦗٧٥⦘ وإنا اتينا على رجل مضطجع وإذا آخر قائم عليه بصخرة (وإذا هو يهوي بالصخرة) (٤) لراسه فيثلغ (٥) راسه فيتدهده الحجر هاهنا فياخذه ولا يرجع إليه [حتى (يصح) (٦) راسه] (٧) كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به مثل المرة الاولى، قال: قلت لهما: سبحان الله ما هذا؟ فقالا لي: انطلق (٨) ، فانطلقنا حتى اتينا على رجل مستلق لقفاه فإذا آخر قائم عليه بكلوب من حديد وإذا هو ياتي احد شقي وجهه فيشرشر (شدقه إلى) (٩) قفاه وعينه إلى قفاه ومنخره إلى قفاه، ثم يتحول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ذلك فما يفرغ منه حتى (يصبح) (١٠) ذلك الجانب كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به كما (فعل) (١١) في المرة الاولى، فقلت لهما: سبحان الله ما هذا؟ قال: (قالا) (١٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى اتينا على مثل بناء التنور، قال: فاحسب انه قال: سمعنا فيه لغطا واصواتا، (فانطلقنا) (١٣) فإذا فيه رجال ونساء عراة، وإذا هم ياتيهم (لهب) (١٤) من اسفل منهم، فإذا اتاهم ذلك (اللهب) (١٥) ⦗٧٦⦘ ضوضوا، قال: قلت لهما: ما هؤلاء؟ قال: قالا لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا حتى اتينا على نهر حسبت انه قال: احمر مثل الدم، فإذا في النهر رجل يسبح، وإذا على شاطئ النهر رجل قد جمع عنده حجارة كثيرة، وإذا ذلك السابح يسبح ما (سبح) (١٦) ثم ياتي ذلك الذي قد جمع (١٧) الحجارة فيفغر له فاه فيلقمه حجرا فيذهب فيسبح ما (سبح) (١٨) ، ثم ياتي ذلك الذي كلما رجع فغر له فاه فالقمه الحجر، قال: قلت: ما هذا؟ (قال) (١٩) : (قالا) (٢٠) لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا فاتينا على رجل كريه المرآة كاكره ما انت راء رجلا مرآة وإذا هو عند نار يحثها ويسعى حولها، قال: قلت لهما: ما هذا؟ (قال) (٢١) : (قالا) (٢٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى اتينا على روضة (معتمة) (٢٣) فيها (من) (٢٤) كل نور الربيع، وإذا بين ظهراني الروضة رجل طويل لا اكاد ارى راسه طولا في السماء، وإذا حول الرجل (من اكثر) (٢٥) ولدان رايتهم قط، (واحسنه) (٢٦) قال: قلت لهما: ما هذا وما هولاء؟ قال: ⦗٧٧⦘ (قالا) (٢٧) لي: انطلق (انطلق) (٢٨) ، فانطلقنا فانتهينا إلى (درجة) (٢٩) عظيمة لم ار قط درجة اعظم منها ولا احسن، قال: (قالا) (٣٠) لي: ارق فيها، فارتقيتها فانتهينا إلى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة، قال: فاتينا باب المدينة فاستفتحناها ففتح لنا فدخلناها، فتلقانا فيها رجال شطر من خلقهم كاحسن ما انت راء، وشطر كاقبح ما انت راء، قال: (قالا) (٣١) لهم: اذهبوا فقعوا في ذلك النهر، قال: فإذا نهر معترض يجري كان ماءه (المحض) (٣٢) بالبياض قال: فذهبوا فوقعوا فيه ثم رجعوا إلينا وقد ذهب السوء عنهم وصاروا في احسن صورة، قال: (قالا) (٣٣) (لي) (٣٤) : هذه جنة عدن، وها هو ذاك منزلك، قال: [ (فسما) (٣٥) بصري صعدا فإذا قصر مثل الربابة البيضاء، قالا لي: هذاك منزلك، قال] (٣٦) : قلت لهما: بارك الله فيكما ذراني (فلادخله) (٣٧) ، قال: قالا لي: اما الآن فلا وانت داخله، قال: قلت لهما: إني قد رايت هذه الليلة عجبا فما هذا الذي رايت؟ قال: قالا: اما إنا سنخبرك، اما الرجل الاول الذي اتيت عليه يثلغ راسه بالحجر فإنه رجل ياخذ القرآن وينام عن الصلاة ⦗٧٨⦘ المكتوبة، واما الرجل الذي اتيت (عليه) (٣٨) يشرشر شدقه وعينه (٣٩) ومنخره إلى قفاه فإنه رجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الآفاق، واما الرجال والنساء العراة الذين في مثل التنور فإنهم الزناة والزواني، واما الرجل الذي يسبح في النهر ويلقم الحجارة فإنه آكل الربا، واما الرجل الذي عند النار كريه المرآة فإنه مالك خازن جهنم، واما الرجل الطويل الذي في الروضة فإنه إبراهيم، واما الولدان الذين حوله فكل مولود مات على الفطرة"، قال: فقال بعض المسلمين: يا رسول الله واولاد المشركين؟ قال [رسول الله ﷺ:"واولاد المشركين] (٤٠) واما القوم الذين شطر منهم كاقبح ما رايت وشطر كاحسن ما رايت فإنهم قوم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا فتجاوز الله عنهم" (٤١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (عون).
(٢) سقط في: [ب].
(٣) في [هـ]: (فقال).
(٤) في [ط]: سقطة.
(٥) في [هـ]: زيادة (بها).
(٦) في [أ، ب]: (يصلح).
(٧) سقط من: [ك].
(٨) في [هـ]: زيادة (انطلق) مكررة.
(٩) زيادة من: [هـ].
(١٠) في [أ، ب]: (يصح).
(١١) في [أ، ب، ط، هـ]: (يفعل).
(١٢) في [ط]: (قال).
(١٣) في [ك]: (فاطلعنا).
(١٤) في [هـ]: (لهيب).
(١٥) في [ط]: (اللهيب).
(١٦) في [ط، هـ]: (يسبح).
(١٧) في [ك]: زيادة (عنده)، وفي [جـ]: (هذه).
(١٨) في [ط، هـ]: (يسبح).
(١٩) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢٠) سقط من: [ب].
(٢١) سقط من: [جـ، ك].
(٢٢) في [ط]: (قال).
(٢٣) في [هـ]: (معشبة).
(٢٤) في [ط]: (عن).
(٢٥) في [ط]: (أكثر من).
(٢٦) في [أ، ط، هـ]: (وأحسبه).
(٢٧) في [ط]: (قال).
(٢٨) سقط في: [ب، جـ].
(٢٩) في [هـ]: (دوحة).
(٣٠) كذا في: [أ، ب]، وفي بقية النسخ: (قال).
(٣١) في [ط]: (قال).
(٣٢) أي: اللبن الخالص لا ماء معه، وفي [هـ]: (لمحض).
(٣٣) في [ط]: (قال).
(٣٤) سقط من: [ط].
(٣٥) في [هـ]: (فبينما).
(٣٦) سقط من: [جـ، ح، ط].
(٣٧) في [ط]: (فلأ دخل).
(٣٨) سقط من: [أ، ب، ط].
(٣٩) في [هـ]: زيادة (إلى قفاه).
(٤٠) زائدة من: [هـ].
(٤١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠٩٦)، ومسلم (٢٢٧٥)، وأحمد (٢٠٠٩٤).
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ پس آپ پر جو اللہ تعالیٰ چاہتا بیان کیا جاتا، ایک صبح آپ نے ہم سے فرمایا: بیشک میرے پاس آج رات دو آدمی آئے، ”راوی نے ”آتیان“ کا لفظ بیان کیا یا ”اثنان“ کا،“ ان دو آدمیوں نے مجھ سے کہا چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ ہم ایک آدمی کے پاس پہنچے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے سرہانے ایک چٹان اٹھائے کھڑا تھا، اچانک اس نے اس کے سر پر چٹان پھینک کر اس کا سر کچل دیا، پس پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا گیا، وہ آدمی جا کر اس پتھر کو اٹھاتا ہے اور ابھی اس لیٹے ہوئے آدمی کے پاس نہیں پہنچتا کہ اس کا سر پہلے کی طرح صحیح سلامت ہوجاتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ پہلے والا عمل دہراتا ہے، آپ فرماتے ہیں میں نے کہا سبحان اللہ! یہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے چلو۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس پہنچے جو گدّی کے بل لیٹا ہوا ہے، اور دوسرا آدمی اس کے قریب لوہے کا آنکڑا اٹھائے کھڑا ہے اور وہ اس لیٹے ہوئے آدمی کے ایک کلّے کے قریب آ کر اس کے کلّے کو گدّی تک چیر دیتا ہے اور اس کی آنکھ کو بھی گدّی تک چیردیتا ہے اور گلے کو بھی گدّی تک چیر دیتا ہے، پھر دوسری جانب آتا ہے اور اس کے ساتھ بھی یہی فعل کرتا ہے، وہ اس دوسرے سے کلّے سے فارغ نہیں ہوتا کہ پہلی جانب پہلے کی طرح صحیح و تندرست ہوجاتی ہے، پھر وہ دوسری مرتبہ وہی عمل کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا، میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا: سبحان اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ وہ مجھ سے کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک تنور جیسی عمارت کے پاس پہنچے، راوی فرماتے ہیں کہ غالباً آپ نے یہ فرمایا کہ ہم نے اس تنور میں شوروغل کی آوازیں سنیں، ہم نے اس عمارت میں جھانکا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں تھیں، اور نیچے سے آگ کے شعلے آتے ہیں، پس جب ان کے پاس آگ کے شعلے آتے ہیں تو وہ چیخ و پکار کرتے ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے کہا یہ کون لوگ ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہر پر پہنچے، راوی کہتے ہیں کہ غالباً آپ نے فرمایا: کہ وہ سرخ رنگ کی نہر تھی، خون جیسے رنگ کی، وہاں یہ دیکھا کہ نہر کے اندر ایک آدمی تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہے جس نے اپنے ارد گرد بہت سے پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں وہ تیرنے والا اپنی بساط کے مطابق تیرتا ہوا اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے جس نے اپنے گرد پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں اور اس کے سامنے پہنچ کر اپنا منہ کھولتا ہے چناچہ وہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا ہے، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ کیا ہے؟ وہ مجھ سے کہنے لگے آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہایت بد صورت شخص کے پاس پہنچے، ایسا بد صورت کہ کسی نے اس جیسا بدصورت نہیں دیکھا ہوگا، اور ہم نے دیکھا کہ اس کے پاس آگ ہے جس کو وہ بھڑکا رہا ہے اور اس کے گرد چکّر لگا رہا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلے چلیے۔ چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم پہنچے ایک باغ میں، جس کے اندر موسم بہار کے ہمہ اقسام کے پھول نکل رہے تھے، اور ہم نے باغ کے درمیان ایک لمبے قد کے آدمی کو دیکھا، میں آسمان کی طرف اس کے سر کی اونچائی کو ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں پا رہا تھا، اور میں نے دیکھا کہ اس آدمی کے گرد بہت زیادہ تعداد میں اور بہت خوب رو بچے تھے، آپ نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے کہا کہ یہ شخص کون ہے؟ اور یہ بچے کون ہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چلیے۔ الغرض ہم چلے اور ایک بڑی سیڑھی کے پاس پہنچے، میں نے اس سے پہلے اس سے بڑی اور اس سے اچھی سیڑھی نہیں دیکھی، آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس پر چڑھیے، میں اس پر چڑھا اور ہم ایک شہر میں پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا، آپ فرماتے ہیں کہ ہم شہر کے دروازے پر آئے، اور ہم نے دورازہ کھلوانا چاہا تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، چناچہ ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمیں کچھ لوگ ملے جن کے جسم کا ایک حصّہ نہایت خوبصورت اور دوسرا حصّہ نہایت بدصورت، آپ فرماتے ہیں کہ میرے دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں غوطہ لگاؤ میں نے دیکھا تو ایک نہر چل رہی تھی جس کا پانی انتہائی سفید تھا، آپ فرماتے ہیں کہ وہ گئے اور اس نہر میں کود گئے، پھر وہ ہمارے پاس ایسی حالت میں لوٹے کہ ان سے برائی جاتی رہی، اور وہ خوب صورت شکل میں بدل گئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں کہنے لگے یہ جنّتِ عدن ہے، اور یہ دیکھیے یہ آپ کا گھر ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میری نظر اوپر کی طرف پڑی تو میں نے دیکھا کہ سفید بادل جیسا ایک [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32508]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32508، ترقيم محمد عوامة 31126)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32508 in Urdu