🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا
وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31127 ترقیم الشثری: -- 32509
٣٢٥٠٩ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن (سلمة) (١) عن عاصم ابن بهدلة عن المسيب بن رافع عن خرشة بن الحر قال: قدمت المدينة فجلست إلى مشيخة في المسجد اصحاب رسول الله ﷺ، قال: فجاء شيخ متوكئ على عصى له، فقال: القوم من سره ان ينظر إلى رجل من اهل الجنة فلينظر إلى هذا، قال: فقام خلف سارية فصلى ركعتين، فقمت إليه فقلت له: قال بعض القوم: كذا وكذا، فقال: (٢) الجنة لله يدخلها من يشاء، (و) (٣) إني رايت على عهد ⦗٧٩⦘ رسول الله ﷺ رؤيا، رايت كان رجلا (ياتي) (٤) فقال لي: انطلق فذهبت معه فسلك (بي) (٥) في (منهج) (٦) عظيم، (فعرضت) (٧) (لي) (٨) طريق عن يساري فاردت ان اسلكها فقيل: إنك (لست) (٩) من اهلها، ثم عرضت لي طريق عن يميني فسلكتها حتى (١٠) انتهيت إلى (جبل) (١١) (مزلق) (١٢) ، فاخذ بيدي [ (فادخلني) (١٣) فإذا انا على ذروته فلم اتقار ولم اتماسك، وإذا عمود من حديد في ذروته حلقة من ذهب، فاخذ بيدي] (١٤) (فزجل بي) (١٥) (حتى) (١٦) (اخذت) (١٧) بالعروة فقال: استمسك، فقلت: نعم، فضرب العمود برجله (فاستمسكت) (١٨) بالعروة، فقصصتها على رسول الله ﷺ فقال:"رايت خيرا، اما (المنهج) (١٩) العظيم فالمحشر، واما ⦗٨٠⦘ (الطريق) (٢٠) التي (عرض) (٢١) عن يسارك فطريق (اهل) (٢٢) النار ولست من اهلها، واما (الطريق) (٢٣) التي عرضت عن يمينك فطريق اهل الجنة، واما (الجبل) (٢٤) الزلق فمنزل الشهداء، واما العروة التي استمسكت بها فعروة الإسلام، فاستمسك بها حتى تموت" قال: فانا ارجو ان اكون من اهل الجنة، (قال) (٢٥) : فإذا (هو) (٢٦) عبد الله بن سلام (٢٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مسلمة).
(٢) في [هـ]: زيادة (الحمد للَّه).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [هـ]: (أتاني)، وفي [ب]: (يأتيني).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) في [أ، ب، ط]: (نهج).
(٧) في [أ، ب، ط]: (فعرض).
(٨) في جميع النسخ سوى [هـ]: (له).
(٩) في [ك]: (ليس).
(١٠) في [هـ]: زيادة (إذا).
(١١) في [أ، ب، جـ، ط]: (رجل).
(١٢) في [هـ]: (زلق).
(١٣) في [هـ]: (فرجل بي).
(١٤) سقط من: [أ، ب، ط].
(١٥) في [أ، ب، ط]: (فأدخلني)، وفي [ب، ك]: (فدخل بي)، وانظر: سنن النسائي (٧٦٣٣)، وسنن ابن ماجه (٣٩٢٠)، ومسند عبد بن حميد (٤٩٧).
(١٦) سقط من: [هـ].
(١٧) في [ك]: (آخذه).
(١٨) في [أ، ب، جـ، ك]: (واستمسكت)، وفي [ط]: (واستمسك).
(١٩) في [ك]: (النهج).
(٢٠) في [أ، ب، ط]: (الطارق).
(٢١) في [هـ]: (عرضت).
(٢٢) سقط من: [ط، هـ].
(٢٣) في [هـ]: (الطرق).
(٢٤) في [أ]: (خبل).
(٢٥) سقط من: [ك].
(٢٦) في [ب]: (هي).
(٢٧) صحيح؛ عاصم ثقة في غير زر وشقيق، وأخرجه مسلم (٢٤٨٤)، وأحمد (٢٣٧٩٠)، وأصله عند البخاري (٧٠١٤).

حضرت خرشہ بن حرّ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور میں مسجد میں کچھ عمر رسیدہ لوگوں کے پاس بیٹھ گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے، فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ لاٹھی ٹیکتے ہوئے تشریف لائے، لوگوں نے کہا جس کو خواہش ہو کہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے وہ ان کو دیکھ لے، راوی فرماتے ہیں کہ وہ ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور دو رکعتیں پڑھیں، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ بعض لوگ اس طرح کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ جنت میں تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے داخل فرمائیں گے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ چلیے، میں اس کے ساتھ چل دیا، وہ مجھے ایک بڑے راستہ کی طرف لے گیا، میرے بائیں جانب ایک اور راستہ پھیل گیا، میں نے چاہا کہ اس راستے پر چلوں تو کہا گیا کہ تو اس راستے والوں میں سے نہیں ہے، پھر میرے دائیں جانب ایک راستہ پھیل گیا، میں اس راستے پر چل پڑا یہاں تک کہ میں ایک چکنے پہاڑ پر پہنچا، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے چڑھایا، یہاں تک کہ میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا لیکن میں ٹھہر نہیں پا رہا تھا اور میرے پاؤں نہیں جم رہے تھے، اس اثناء میں میں نے لوہے کا ایک ستون دیکھا جس کے بالائی حصّے پر سونے کا ایک دائرہ تھا، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دھکیلا یہاں تک کہ میں نے کڑے کو پکڑ لیا، اس نے کہا مضبوطی سے اس کو تھام لو، میں نے کہا ٹھیک ہے، اس نے ستون کو پاؤں سے ٹھوکر دی اور میں نے کڑے کو مضبوطی سے تھام لیا، میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا، آپ نے فرمایا تم نے بھلائی کی چیز دیکھی ہے، بڑا راستہ تو میدانِ حشر ہے، اور وہ راستہ جو تمہارے بائیں جانب پھیلا وہ اہل جہنم کا راستہ ہے اور تم ان میں سے نہیں ہو، اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب پھیلا وہ اہل جنت کا راستہ ہے، اور چکنا پہاڑ شہداء کا مقام ہے، اور وہ کڑا جس کو تم نے تھاما تھا وہ اسلام کا کڑا ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے، وہ بزرگ صحابی فرمانے لگے مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا، راوی فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ وہ صحابی عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32509]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32509، ترقيم محمد عوامة 31127)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32509 in Urdu