🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31271 ترقیم الشثری: -- 32657
٣٢٦٥٧ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن عمر بن جاوان عن الاحنف ابن قيس قال: قدمنا المدينة ونحن نريد الحج، قال الاحنف: فانطلقت فاتيت طلحة والزبير فقلت: (ما) (١) تامرانني به وترضيانه لي، فإني ما ارى هذا إلا مقتولا -يعني عثمان، قالا: نامرك بعلي، قلت: تامرانني به وترضيانه لي؟ قالا: نعم، ثم انطلقت حاجا حتى قدمت مكة، فبينا نحن بها إذ اتانا قتل عثمان، وبها عائشة ام المؤمنين، فلقيتها فقلت: (من) (٢) (تامرينني) (٣) به ان ابايع، قالت: علي، ⦗١٣٦⦘ قلت: (اتامريني) (٤) به (وترضينه) (٥) قالت: نعم، فمررت على علي بالمدينة فبايعته، ثم رجعت إلى البصرة وانا ارى ان الامر قد استقام، فبينا انا كذلك (إذ) (٦) اتاني آت فقال: هذه عائشة ام المؤمنين وطلحة والزبير قد نزلوا جانب (الخريبة) (٧) قال: فقلت: ما جاء بهم؟ قالوا: ارسلوا إليك يستنصرونك على دم عثمان، قتل مظلوما، قال: فاتاني افظع امر (٨) اتاني قط، قال: قلت: إن خذلان هؤلاء ومعهم ام المؤمنين وحواري رسول الله ﷺ لشديد، وإن (قتالي) (٩) ابن عم رسول الله ﷺ (وامروني ببيعته) (١٠) - لشديد، قال: فلما اتيتهم قالوا: جئنا نستنصرك على دم عثمان، قتل مظلوما، قال: قلت: يا ام المؤمنين انشدك (الله) (١١) اقلت (لك) (١٢) : (من) (١٣) تامريني؟ فقلت: علي، (فقلت) (١٤) : (١٥) (تامريني) (١٦) به وترضينه لي؟ قالت: نعم، ولكنه بدل، فقلت: يا زبير يا حواري رسول الله ﷺ، يا ⦗١٣٧⦘ طلحة نشدتكما بالله اقلت لكما: من (تامراني) (١٧) به، فقلتما: عليا، فقلت: تامراني به وترضيانه لي، فقلتما: نعم، فقالا: نعم، ولكنه بدل، قال: قلت: لا اقاتلكم ومعكم ام المؤمنين وحواري رسول الله ﷺ، ولا اقاتل ابن عم رسول الله ﷺ امرتموني ببيعته، اختاروا مني (إحدى) (١٨) ثلاث خصال: إما ان تفتحوا لي باب الجسر فالحق بارض الاعاجم حتى يقضي الله من امره ما قضى، او الحق بمكة فاكون بها حتى يقضي الله من امره ما قضى، (او اعتزل) (١٩) فاكون قريبا، فقالوا: نرسل إليك، فائتمروا فقالوا: نفتح له باب الجسر فليلحق به (المفارق) (٢٠) والخاذل، او يلحق بمكة (فيتعجسكم) (٢١) في قريش (ويخبرهم) (٢٢) باخباركم، ليس ذلك براي، اجعلوه هاهنا (قريبا) (٢٣) حيث تطؤن صماخه وينظرون إليه، فاعتزل بالجلحاء (من) (٢٤) البصرة، واعتزل معه زهاء ستة آلاف، ثم التقى القوم فكان اول قتيل طلحة وكعب بن سور معه المصحف، يذكر هؤلاء (و) (٢٥) هؤلاء حتى قتل بينهم، وبلغ الزبير (سفوان) (٢٦) من البصرة بمكان (القادسية) (٢٧) منكم، فلقيه ⦗١٣٨⦘ (النعر) (٢٨) : رجل من مجاشع، فقال: اين تذهب يا حواري رسول الله ﷺ، إلي فانت في ذمتي، لا يوصل إليك، فاقبل معه فاتى إنسان الاحنف فقال: هذا الزبير (قد) (٢٩) (لحق) (٣٠) (سفوان) (٣١) ، قال: فما (يامن؟) (٣٢) جمع بين المسلمين حتى ضرب بعضهم حواجب بعض بالسيوف، ثم لحق (ببيته) (٣٣) واهله، قال: فسمعه عمير بن (جرموز) (٣٤) وغواة من غواة بني تميم وفضالة بن حابس ونفيع، فركبوا في طلبه فلقوه مع (النعر) (٣٥) فاتاه عمير بن (جرموز) (٣٦) من خلفه وهو على فرس له (ضعيفة) (٣٧) فطعنه طعنة خفيفة، وحمل عليه الزبير وهو على فرس له (ذو الخمار) (٣٨) حتى إذا ظن انه (نائله) (٣٩) (نادى) (٤٠) (صاحبيه) (٤١) يا نفيع يا فضالة ⦗١٣٩⦘ فحملوا عليه حتى قتلوه (٤٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (من).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (ما).
(٣) في [أ، ط]: (تأمريني).
(٤) في [ك]: (أتامري)، وفي [هـ]: (أتأمرين).
(٥) في [ط]: (ترضيه).
(٦) في [ط، هـ]: (إذا).
(٧) في [هـ]: (الحربية).
(٨) في [هـ]: زيادة (ما).
(٩) في [أ، هـ]: (قتال).
(١٠) في [أ، هـ]: (أمر وفي. . .).
(١١) في [هـ]: (باللَّه).
(١٢) زيادة (لك) من: [أ، ب، جـ، ك، م].
(١٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (ما).
(١٤) في [جـ، ك، م]: (قلن).
(١٥) زيادة في: [جـ، و]: (من).
(١٦) في [ك]: (تأمرني)، وفي [هـ]: (تأمرينني).
(١٧) في [م]: (تأمرانني).
(١٨) زيادة (إحدى) من: [أ، ب، جـ، ك، م].
(١٩) في [أ، ب، ط]: (إذا عن)، وفي [هـ]: (أو أعن لك).
(٢٠) في [أ، ط، هـ]: (المعارف).
(٢١) أي: يتتبع أخباركم، وفي [ط]: (فيتجلسكم)، وفي [هـ]: (فيتعجلكم).
(٢٢) في [ط، م]: (نخبركم).
(٢٣) في [أ، ب، ط]: (قريب).
(٢٤) في [ط]: (عن).
(٢٥) في [ط]: (أو).
(٢٦) في [هـ]: (صفوان).
(٢٧) في [أ، هـ]: (الفارسية).
(٢٨) في [هـ]: (النفر).
(٢٩) سقط من [ط]: (قد).
(٣٠) في [ك]: (لقي).
(٣١) في [هـ]: (صفوان).
(٣٢) في [ط]: (يأمر)، وفي [هـ]: فراغ.
(٣٣) في [أ، هـ]: (بنيه)، وفي [ط]: (بينه).
(٣٤) في [أ، جـ]: (جرمون)، وفي [ط]: (جرفوز).
(٣٥) في [هـ]: (النفر).
(٣٦) في [أ، جـ]: (جرمون)، وفي [ط]: (جرفوز).
(٣٧) في [أ، م]: (ضيفة).
(٣٨) في [هـ]: (ذو الحمار)، وفي (ك): (ذو الحماد).
(٣٩) في [أ، هـ]: (قاتله).
(٤٠) في [ط]: (نادو)، وفي [أ، ب]: (فإذا).
(٤١) في [أ، ط، هـ]: (صاحبه).
(٤٢) مجهول؛ لجهالة عمر بن جاوان، أخرجه أحمد (٥١١)، والنسائي (٦٤٣٣)، وابن خزيمة (٢٤٨٧)، وابن حبان (٦٩٢٠)، وابن سعد ٧/ ٩٢، والبخاري في الأوسط (٢٩٠)، والطيالسي (٨٢)، والبزار (٣٩٠)، والدارقطني ٤/ ١٩٥، وإسحاق كما في المطالب (٤٤٠١)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٠٣)، والضياء (٣٥٠)، والبيهقي ٦/ ١٦٧، وابن عساكر ١٨/ ٤١٥، وابن شبه (٤٤٤)، والمزني ١٣/ ٤٢٠، والخطابي في الغريب ٣/ ٣٩.

احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور ہم حج کے لئے جانا چاہتے تھے، کہتے ہیں میں چل کر طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ تم مجھے کس کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور کس کو میرے لیے پسند کرتے ہو؟ کیونکہ میرے خیال میں تو یہ صاحب یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہوجائیں گے، فرمانے لگے کہ ہم تمہیں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہیں، میں نے کہا کیا تم مجھے ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہو؟ فرمانے لگے جی ہاں! کہتے ہیں کہ پھر میں حج کو چلا گیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا، ہم وہیں تھے کہ ہمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پہنچی، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں میں ان سے ملا اور پوچھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم فرماتی ہیں؟ فرمانے لگیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا، میں نے کہا کیا آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم کرتی ہیں اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں؟ فرمانے لگیں جی ہاں! اس کے بعد میں مدینہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، پھر میں بصرہ چلا گیا اور میرا خیال تھا کہ معاملہ صاف ہوگیا ہے۔ اس دوران ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ خُریبہ کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں میں نے کہا وہ کس لیے تشریف لائے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ وہ آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بارے میں مدد لیں، کیونکہ ان کو ظلماً قتل کیا گیا ہے، کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں اتنا گھبرا گیا کہ اس سے پہلے اتنی گھبراہٹ مجھ پر نہیں آئی تھی، اور میں نے سوچا کہ میرا ان حضرات کو چھوڑ دینا جن کے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں نہایت سخت بات ہے، اور اسی طرح میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد سے قتال کرنا بعد ازاں کہ یہ حضرات مجھے ان کی بیعت کا حکم بھی فرما چکے ہیں بہت ہی مشکل کام ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس پہنچا تو وہ فرمانے لگے کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں اور ہم آپ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے خلاف مدد لینا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین! میں آپ کو اللہ عزوجل کی قسم دیتا ہوں آپ بتائیں کہ کیا میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ کی، اور پھر میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتی اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں! فرمانے لگیں ایسا ہی ہوا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ بدل گئے ہیں، پھر میں نے کہا اے زبیر! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری! اے طلحہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میں نے تمہیں کہا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تھا: علی رضی اللہ عنہ کی، میں نے پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتے اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں! کہنے لگے کیوں نہیں، ایسا ہی ہے، لیکن وہ بدل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں تمہارے ساتھ قتال نہیں کروں گا کیونکہ تمہارے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں، اور نہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد ہی سے لڑوں گا جن کی بیعت کا تم نے مجھے حکم دیا ہے۔ میری تین باتوں میں سے ایک قبول کرلو! یا تو میرے لیے پل کا راستہ کھول دو، میں عجمیوں کے علاقے میں چلا جاتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں فیصلہ فرمائیں، یا میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں اور وہیں رہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرما دیں، یا میں علیحدگی اختیار کر کے قریب ہی کہیں رہنے لگوں، فرمانے لگے کہ ہم مشورہ کرتے ہیں، پھر ہم آپ کے پاس پیغام بھیج دیں گے، چناچہ انہوں نے مشورہ کیا، اور فرمایا کہ اگر ہم اس کے لئے پل کا راستہ کھول دیتے ہیں تو جو شخص لشکر سے جدا ہونا چاہے گا یا ناکام اور پسپا ہوجائے گا وہ اس کے پاس چلا جائے گا، اور اگر اس کو مکہ مکرمہ بھیج دیا جائے تو قریش مکہ سے تمہاری خبریں لیتا رہے گا اور تمہاری خبریں انہیں پہنچاتا رہے گا، یہ کوئی درست فیصلہ نہیں ہے، اس کو یہیں قریب ہی رکھو جہاں تم اس کو اپنے لئے نرم گوش بھی رکھو گے اور اس کی نگرانی بھی کرسکو گے۔ چناچہ وہ بصرہ سے مقام ”جلحائ“ میں علیحدہ ہوگئے اور ان کے ساتھ چھ ہزار کے لگ بھگ آدمی بھی مل گئے، پھر ان کی مڈبھیڑ ہوئی تو سب سے پہلے قتل ہونے والے حضرت طلحہ اور کعب بن مسور تھے جن کے پاس قرآن کریم کا نسخہ تھا جو دونوں جماعتوں کو نصیحت کر رہے تھے یہاں تک کہ انہی جماعتوں کے درمیان شہید ہوگئے، اور حضرت زبیر بصرہ کے مقام پر سفوان میں پہنچ گئے، اتنا دور جتنا کہ تم سے مقام قادسیہ ہے، چناچہ ان کو قبیلہ مجاشع کا ایک نعر نامی آدمی ملا اور پوچھا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میرے ساتھ آئیے آپ میرے ضمان [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32657]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32657، ترقيم محمد عوامة 31271)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 32657 in Urdu