🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. ما ذكر (مما) فضل (الله) به عيسى ﵇
وہ فضیلتیں جو اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32537 ترقیم الشثری: -- 34041
٣٤٠٤١ - حدثنا (ابو) (١) معاوية قال: ثنا الاعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما اراد الله ان يرفع عيسى ﵇ (٢) إلى السماء خرج (إلى) (٣) اصحابه وهم اثنا عشر رجلا، من (عين) (٤) (في) (٥) البيت وراسه يقطر ماء، فقال لهم: (اما) (٦) (إن) (٧) منكم من (سيكفر بي) (٨) (اثنتي عشرة) (٩) ⦗٥١٨⦘ مرة بعد (ان آمن بي) (١٠) ، ثم قال: ايكم سيلقى عليه شبهي فيقتل مكاني ويكون معي في درجتي، فقام شاب من (احدثهم) (١١) (١٢) فقال: انا، فقال عيسى: اجلس، ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال: انا، فقال (عيسى: اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال) (١٣) : انا، فقال: نعم، انت ذاك، قال: فالقي عليه شبه عيسى، قال: ورفع عيسى ﵇ (١٤) من (ووزنة) (١٥) كانت في البيت إلى السماء، قال: وجاء الطلب من اليهود فاخذوا (الشبيه) (١٦) فقتلوه ثم صلبوه، وكفر به بعضهم (اثنتي عشرة) (١٧) مرة بعد ان (آمن) (١٨) به، فتفرقوا ثلاث فرق، (قالت) (١٩) فرقة: كان فينا الله ما شاء، ثم صعد إلى السماء، وهؤلاء اليعقوبية، وقالت فرقة: كان فينا ابن الله (ما شاء) (٢٠) (٢١) ثم رفعه الله إليه، وهؤلاء (النسطورية) (٢٢) ، وقالت فرقة: كان فينا عبد الله ورسوله ما شاء الله، ثم وفعه الله إليه وهؤلاء المسلمون، فتظاهرت ⦗٥١٩⦘ الكافرتان على المسلمة فقاتلوها فقتلوها، فلم يزل الإسلام طامسا حتى بعث الله محمدا ﷺ فانزل الله عليه: ﴿فآمنت طائفة من بني إسرائيل﴾ - (٢٣) يعني الطائفة التي آمنت في (زمن) (٢٤) عيسى، ﴿وكفرت طائفة﴾ -يعني الطائفة التي (ظهرت) (٢٥) في (زمن) (٢٦) عيسى، ﴿فايدنا الذين آمنوا﴾ في (زمان) (٢٧) عيسى ﴿على عدوهم﴾ بإظهار محمد ﷺ دينهم على دين الكفار ﴿ (فاصبحوا) (٢٨) ظاهرين﴾ (٢٩) [الصف: ١٤] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [م]: (على).
(٤) في [هـ]: (غير).
(٥) في [هـ]: سقط.
(٦) في [أ، ب]: (ما).
(٧) في [أ، ب]: (أر).
(٨) في [أ، ب]: (ستلقوني).
(٩) في [أ، ب، جـ]: (اثنا عشر).
(١٠) في [أ، ب]: (أمرني).
(١١) في [ب]: (أهدهم)، وفي [أ]: (أحدهم).
(١٢) في [هـ]: زيادة (سنًا).
(١٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(١٤) سقط من: [م].
(١٥) في [أ، ب]: (رودنة).
(١٦) في [أ، ب]: (الشبه).
(١٧) في [أ، ب، جـ]: (اثنى عشر).
(١٨) في [أ، ب، جـ، م]: (أمر).
(١٩) في [ب]: (قال)، وفي [هـ]: (قال: فقال).
(٢٠) سقط من: [ب، جـ].
(٢١) في [ب، ط]: زيادة (اللَّه).
(٢٢) في [أ، ب]: (السطورية).
(٢٣) في [أ، ب، جـ]: زيادة (فأصبحوا).
(٢٤) في [م]: (زمان).
(٢٥) في [هـ]: (كفرت).
(٢٦) في [م]: (زمان).
(٢٧) في [أ، ب]: (زمن).
(٢٨) في [هـ]: (فأضجوا).
(٢٩) صحيح؛ المنهال ثقة.

سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو وہ اپنے حواریوں کے پاس تشریف لائے، جو اس وقت بارہ تھے، اور آپ کے سر سے اس وقت پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ نے فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ مجھ پر ایمان لانے کے بعد میرے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کریں گے، پھر آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کون اس کے لئے تیار ہے کہ اس پر میری شبییہ ڈالی جائے اور وہ میری جگہ قتل ہوجائے، اور وہ میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا، چناچہ ایک نوجوان کھڑا ہوا، اور کہنے لگا میں تیار ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر دوبارہ آپ نے سوال کیا تو وہ جوان پھر کھڑا ہوا، آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، آپ نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو وہ جوان کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں تیار ہوں، آپ نے فرمایا ٹھیک ہے تم ہی ہو، چناچہ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈال دی گئی۔ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھر کے ایک روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے، اور یہودیوں کی فوج آئی اور اس نے آپ کے ہم شکل کو گرفتار کر کے قتل کردیا، پھر اس کو سولی چڑھا دیا، اور ان میں سے ایک نے آپ کے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کیا، اس کے بعد ان کی تین جماعتیں ہوگئیں، چناچہ ایک جماعت کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ ایک عرصے تک ہمارے درمیان رہے پھر آسمان کی طرف چلے گئے، یہ یعقوبیہ ہیں، اور ایک جماعت کہنے لگی کہ اللہ کے بیٹے ہمارے درمیان تھے پھر اللہ نے ان کو اٹھا لیا، یہ نسطوریہ ہیں، اور ایک جماعت نے کہا کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ایک عرصہ ہمارے ساتھ رہے، پھر اللہ نے ان کو اٹھا لیا، یہ مسلمان ہیں، چناچہ کافر جماعتیں مسلمانوں پر غالب آگئیں، اور انہوں نے ان سے قتال کر کے ان کو قتل کردیا، اور اسلام مٹا رہا یہاں تک کہ اللہ نے محمد 5 کو مبعوث فرمایا اورا للہ نے آیت نازل فرمائی { فَآمَنَتْ طَائِفَۃٌ مِنْ بَنِی إسْرَائِیلَ } یعنی وہ جماعت ایمان لائی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھی، اور ایک جماعت نے کفر کیا، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھی، ‘ ‘ چناچہ ہم نے ایمان لانے والی جماعت کی مدد کی ”یعنی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایمان لائے تھے۔ ”ان کے دشمنوں پر محمد 5 کے دین کو کفار کے دین پر غالب کر کے“ اور وہ غالب ہوگئے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34041، ترقيم محمد عوامة 32537)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34041 in Urdu