مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
10. ما ذكر من أمر داود ﵇ وتواضعه
سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی تواضع کا ذکر
ترقیم عوامۃ: 32549 ترقیم الشثری: -- 34053
٣٤٠٥٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: لما اصاب داود (الخطيئة) (١) ، وإنما كانت خطيئته انه لا ابصرها امر بها فعزلها فلم يقربها، فاتاه الخصمان (فتسورا) (٢) في المحراب، فلما (ابصرهما) (٣) قام إليهما فقال: اخرجا عني، ما جاء بكما إلي؟ (٤) فقالا: إنما (نكلمك) (٥) بكلام يسير، إن هذا اخي له تسع وتسعون نعجة، ولي نعجة واحدة وهو يريد ان ياخذها مني، (قال) (٦) : فقال داود ﵇ (٧) : والله (إنه) (٨) (احق ان) (٩) (يكسر) (١٠) منه من لدن (هذه إلى هذه) (١١) -يعنى من انفه إلى صدره، فقال الرجل: هذا داود قد فعله، فعرف داود ﵇ إنما يعنى بذلك، وعرف ذنبه فخر ساجدا اربعين يوما واربعين ليلة، وكانت خطيئته مكتوبة في يده، ينظر إليها لكيلا يغفل، حتى (نبت) (١٢) البقل حوله من دموعه ما غطى راسه، (فنادى) (١٣) بعد اربعين يوما: (قرح) (١٤) الجبين وجمدت ⦗٥٢٥⦘ العين، وداود ﵇ لم يرجع إليه في خطيئته شيء فنودي: اجائع فتطعم، ام عريان فتكسى، ام مظلوم فتنصر، قال: فنحب نحبة هاج ما يليه من البقل حين لم يذكر ذنبه فعند ذلك غفر له، فإذا كان يوم القيامة قال له ربه: كن امامي (فيقول: اي رب ذنبي ذنبي، فيقول: كن من خلفي) (١٥) ، (فيقول: اي رب ذنبي ذنبي) (١٦) ، فيقول له: خذ بقدمي فياخذ بقدمه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الحطيه) بدون نقاط.
(٢) في [جـ، هـ]: (فتسوروا).
(٣) في [أ، جـ]: (أبصرها).
(٤) في [م]: زيادة (قال).
(٥) في [ب]: (نكلماك).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [م].
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (إن).
(٩) في [أ، ب]: (أخوان).
(١٠) في [هـ]: (ينشر)، وفي [أ، ب]: (تكر).
(١١) في [ب]: (هذا إلى هذا).
(١٢) في [أ]: (ينبت).
(١٣) في [أ، ب، جـ، م]: (فبدا)، وانظر: ما سيأتي ١٣/ ٢٠٠ برقم [٣٦٩٦٥].
(١٤) في [أ، ب]: (فجرح)، وفي [م]: (فرح).
(١٥) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٦) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
مجاہد سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام سے غلطی ہوئی، اور ان کی غلطی یہ تھی کہ جب انہوں نے اس عورت کو دیکھا تو اس کو دور کردیا، اور اس کے قریب نہیں گئے چناچہ دو جھگڑنے والے آپ کے پاس آئے اور انہوں نے دیوار کو پھاندا، جب آپ نے ان کو دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاؤ، تم یہاں کس غرض سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے کہ ہم آپ سے تھوڑی سی بات کرنا چاہتے ہیں، میرے اس بھائی کی ننانوے مینڈھیاں ہیں اور میری ایک مینڈھی ہے اور یہ مجھ سے وہ ایک بھی لینا چاہتا ہے، حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ واللہ! یہ اس کا مستحق ہے کہ اس کا یہاں سے یہاں تک کا جسم توڑ دیا جائے، یعنی ناک سے سینے تک، وہ آدمی کہنے لگا کہ داؤد نے یہ کام کردیا۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کو معلوم ہوگیا کہ وہ اس سے کیا مراد لے رہا ہے، اور ان کو اپنے گناہ کا علم ہوگیا، چناچہ وہ چالیس دن رات سجدے میں رہے اور ان کا گناہ ان کے ہاتھ میں لکھا رہتا تاکہ کسی وقت بھول نہ جائیں، یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں کی وجہ سے ان کے گرد خود رو سبزیاں اگ گئیں، چناچہ انہوں نے چالیس دن کے بعد پکارا کہ پیشانی زخمی ہوگئی، اور آنکھ خشک ہوگئی اور داؤد کی غلطی کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہوا، چناچہ پکارا گیا کیا کوئی بھوکا ہے کہ اس کو کھانا کھلایا جائے؟ یا کوئی برہنہ ہے کہ اس کو پہنایا جائے؟ یا کوئی مظلوم ہے کہ اس کی مدد کی جائے؟ چناچہ آپ اتنا روئے کہ جس سے آپ کے قریب کی گھاس زرد ہوگئی، اس وقت اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا، جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے سامنے آؤ، وہ عرض کریں گے کہ میرا گناہ! اللہ فرمائیں گے کہ میرے پیچھے آؤ وہ کہیں گے کہ اے رب! میرا گناہ، اللہ ان سے فرمائیں گے کہ میرے قدم پکڑ لو، چناچہ وہ اللہ کے قدموں کو پکڑ لیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34053]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34053، ترقيم محمد عوامة 32549)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34053 in Urdu