🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. ما ذكر من أمر داود ﵇ وتواضعه
سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی تواضع کا ذکر
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32548 ترقیم الشثری: -- 34052
٣٤٠٥٢ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن ابيه قال: إن كان داود ﵇ (١) ليخطب الناس -وفي يده القفة من (الخوص) (٢) -، فإذا فرغ ناولها بعض من إلى جنبه يبيعها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [ب]: (الخوض).

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام لوگوں کو خطبہ دیتے تھے جبکہ ان کے ہاتھ میں پتوں کی بنی ہوئی ٹوکری ہوتی تھی، جب آپ فارغ ہوتے تو کسی قریب بیٹھنے والے کو دے دیتے تاکہ اس کو بیچ لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34052]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34052، ترقيم محمد عوامة 32548)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32549 ترقیم الشثری: -- 34053
٣٤٠٥٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: لما اصاب داود (الخطيئة) (١) ، وإنما كانت خطيئته انه لا ابصرها امر بها فعزلها فلم يقربها، فاتاه الخصمان (فتسورا) (٢) في المحراب، فلما (ابصرهما) (٣) قام إليهما فقال: اخرجا عني، ما جاء بكما إلي؟ (٤) فقالا: إنما (نكلمك) (٥) بكلام يسير، إن هذا اخي له تسع وتسعون نعجة، ولي نعجة واحدة وهو يريد ان ياخذها مني، (قال) (٦) : فقال داود ﵇ (٧) : والله (إنه) (٨) (احق ان) (٩) (يكسر) (١٠) منه من لدن (هذه إلى هذه) (١١) -يعنى من انفه إلى صدره، فقال الرجل: هذا داود قد فعله، فعرف داود ﵇ إنما يعنى بذلك، وعرف ذنبه فخر ساجدا اربعين يوما واربعين ليلة، وكانت خطيئته مكتوبة في يده، ينظر إليها لكيلا يغفل، حتى (نبت) (١٢) البقل حوله من دموعه ما غطى راسه، (فنادى) (١٣) بعد اربعين يوما: (قرح) (١٤) الجبين وجمدت ⦗٥٢٥⦘ العين، وداود ﵇ لم يرجع إليه في خطيئته شيء فنودي: اجائع فتطعم، ام عريان فتكسى، ام مظلوم فتنصر، قال: فنحب نحبة هاج ما يليه من البقل حين لم يذكر ذنبه فعند ذلك غفر له، فإذا كان يوم القيامة قال له ربه: كن امامي (فيقول: اي رب ذنبي ذنبي، فيقول: كن من خلفي) (١٥) ، (فيقول: اي رب ذنبي ذنبي) (١٦) ، فيقول له: خذ بقدمي فياخذ بقدمه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الحطيه) بدون نقاط.
(٢) في [جـ، هـ]: (فتسوروا).
(٣) في [أ، جـ]: (أبصرها).
(٤) في [م]: زيادة (قال).
(٥) في [ب]: (نكلماك).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [م].
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (إن).
(٩) في [أ، ب]: (أخوان).
(١٠) في [هـ]: (ينشر)، وفي [أ، ب]: (تكر).
(١١) في [ب]: (هذا إلى هذا).
(١٢) في [أ]: (ينبت).
(١٣) في [أ، ب، جـ، م]: (فبدا)، وانظر: ما سيأتي ١٣/ ٢٠٠ برقم [٣٦٩٦٥].
(١٤) في [أ، ب]: (فجرح)، وفي [م]: (فرح).
(١٥) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٦) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].

مجاہد سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام سے غلطی ہوئی، اور ان کی غلطی یہ تھی کہ جب انہوں نے اس عورت کو دیکھا تو اس کو دور کردیا، اور اس کے قریب نہیں گئے چناچہ دو جھگڑنے والے آپ کے پاس آئے اور انہوں نے دیوار کو پھاندا، جب آپ نے ان کو دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاؤ، تم یہاں کس غرض سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے کہ ہم آپ سے تھوڑی سی بات کرنا چاہتے ہیں، میرے اس بھائی کی ننانوے مینڈھیاں ہیں اور میری ایک مینڈھی ہے اور یہ مجھ سے وہ ایک بھی لینا چاہتا ہے، حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ واللہ! یہ اس کا مستحق ہے کہ اس کا یہاں سے یہاں تک کا جسم توڑ دیا جائے، یعنی ناک سے سینے تک، وہ آدمی کہنے لگا کہ داؤد نے یہ کام کردیا۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کو معلوم ہوگیا کہ وہ اس سے کیا مراد لے رہا ہے، اور ان کو اپنے گناہ کا علم ہوگیا، چناچہ وہ چالیس دن رات سجدے میں رہے اور ان کا گناہ ان کے ہاتھ میں لکھا رہتا تاکہ کسی وقت بھول نہ جائیں، یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں کی وجہ سے ان کے گرد خود رو سبزیاں اگ گئیں، چناچہ انہوں نے چالیس دن کے بعد پکارا کہ پیشانی زخمی ہوگئی، اور آنکھ خشک ہوگئی اور داؤد کی غلطی کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہوا، چناچہ پکارا گیا کیا کوئی بھوکا ہے کہ اس کو کھانا کھلایا جائے؟ یا کوئی برہنہ ہے کہ اس کو پہنایا جائے؟ یا کوئی مظلوم ہے کہ اس کی مدد کی جائے؟ چناچہ آپ اتنا روئے کہ جس سے آپ کے قریب کی گھاس زرد ہوگئی، اس وقت اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا، جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے سامنے آؤ، وہ عرض کریں گے کہ میرا گناہ! اللہ فرمائیں گے کہ میرے پیچھے آؤ وہ کہیں گے کہ اے رب! میرا گناہ، اللہ ان سے فرمائیں گے کہ میرے قدم پکڑ لو، چناچہ وہ اللہ کے قدموں کو پکڑ لیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34053]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34053، ترقيم محمد عوامة 32549)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32550 ترقیم الشثری: -- 34054
٣٤٠٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا (١) جعفر بن سليمان عن ثابت البناني قال: بلغنا ان داود نبي الله جزا الصلاة على بيوته على نسائه وولده، فلم (تكن تاتي) (٢) ساعة من الليل والنهار إلا وإنسان قائم من آل داود يصلي، فعمتهم هذه الآية: ﴿اعملوا آل داوود شكرا وقليل من عبادي الشكور﴾ [سبا: ١٣] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (يكن يأتي).

حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام نے اپنے گھر کی عورتوں اور اپنی اولاد پر نماز کو تقسیم فرما دیا تھا، چناچہ رات دن کی کوئی گھڑی ایسی نہ تھی کہ آل داؤد میں سے کوئی نہ کوئی شخص نماز نہ پڑھ رہا ہوتا، چناچہ ا ن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی { اعْمَلُوا آلَ دَاوُد شُکْرًا وَقَلِیلٌ مِنْ عِبَادِی الشَّکُورُ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34054]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34054، ترقيم محمد عوامة 32550)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32551 ترقیم الشثری: -- 34055
٣٤٠٥٥ - حدثنا عفان قال حدثنا معاوية بن عبد الكريم قال: حدثنا الحسن: ان داود النبي ﵇ (١) قال: إلهي لو (٢) ان لكل شعرة مني (لسانين) (٣) يسبحانك الليل والنهار ما قضينا نعمة من (نعمك) (٤) علي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﷺ.
(٢) في [أ، ب، هـ]: زيادة (كان).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [هـ]: (نعمتك).

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میرے ہر بال کو دو زبانیں بھی عطا کردی جائیں اور وہ دن رات آپ کی تسبیح بیان کرتی رہیں تب بھی میں آپ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کا حق بھی ادا نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34055]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34055، ترقيم محمد عوامة 32551)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32552 ترقیم الشثری: -- 34056
٣٤٠٥٦ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (علي) (١) (بن) (٢) الاقمر عن ابي الاحوص قال: دخل الخصمان على داود ﵇ (٣) وكل واحد منهما آخذ براس صاحبه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (أبي).
(٣) في [م]: ﷺ.

حضرت ابو الأحوص فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو جھگڑا کرنے والے آئے، اور ہر ایک نے دوسرے کا سر پکڑ رکھا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34056]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34056، ترقيم محمد عوامة 32552)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32553 ترقیم الشثری: -- 34057
٣٤٠٥٧ - حدثنا خلف بن خليفة عن ابي (هاشم) (١) عن سعيد بن جبير قال: إنما كانت فتنة داود النظر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م، هـ]: (هشام)، وسيأتي في كتاب الزهد، باب ما ذكر عن داود ١٣/ ٢٠٠ برقم [٣٦٩٦٧].
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی آزمائش ان کی نظر کا پڑنا تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34057]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34057، ترقيم محمد عوامة 32553)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32554 ترقیم الشثری: -- 34058
٣٤٠٥٨ - [حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة (١) عن عطاء بن السائب عن ابي (عبد الله) (٢) الجدلي قال: ما رفع داود ﵇ (٣) راسه إلى السماء حتى مات] (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ب]: (قال: حدثنا علي بن زيد عن الحسن عن الأحنف).
(٢) في [ب]: (عبيد اللَّه).
(٣) سقط من: [م].
(٤) سقط الخبر من: [أ].

عطاء بن سائب حضرت عبد اللہ بجلی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے موت تک آسمان کی طرف چہرہ نہیں اٹھایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34058]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34058، ترقيم محمد عوامة 32554)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32555 ترقیم الشثری: -- 34059
٣٤٠٥٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال حدثنا علي بن زيد عن الحسن عن الاحنف بن قيس عن النبي ﷺ ان داود ﵇ (١) قال: اي رب، إن بني إسرائيل يسالونك بإبراهيم وإسحاق ويعقوب فاجعلني يا رب لهم رابعا، فاوحى الله إليه (ان) (٢) : يا داود إن إبراهيم القي في النار في سبي فصبر، وتلك بلية لم ⦗٥٢٧⦘ (تنلك) (٣) و [إن إسحاق بذل (مهجة) (٤) نفسه (في سبيي) (٥) فصبر (٦) (فتلك) (٧) بلية لم تنلك و] (٨) إن يعقوب اخذت حبيبه حتى ابيضت عيناه فصبر وتلك بلية (لم تنلك) (٩) (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (النبي ﷺ).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (نبلك).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [هـ]: (ليذبح).
(٦) في [هـ]: زيادة (من أجلي).
(٧) في [م]: (وتلك).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، جـ].
(٩) في [أ، ب]: (لم نبلك).
(١٠) ضعيف مرسل؛ علي بن زيد ضعيف، والأحنف ليس صحابيًا، أخرجه ابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٢/ ٤٨٨، والثعلبي في التفسير ٨/ ١٥١، والبزار (١٣٠٧)، وابن جرير في التفسير ٢٣/ ٨١، والدولابي ٢/ ٥٨٧، وابن عدي ٢/ ٢٩٩.

حضرت احنف بن قیس نبی 5 سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ اے رب! بنی اسرائیل آپ سے حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب۔ کے واسطے سے دعائیں کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے ان میں سے چوتھا بنادیجئے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ابراہیم کو میری وجہ سے آگ میں ڈالا گیا اور انہوں نے صبر کیا اور تمہیں ایسی آزمائش نہیں آئی، اور اسحاق نے میرے لیے اپنی جان قربان کی، اور صبر کیا، اور یہ آزمائش بھی تم پر نہیں آئی، اور میں نے یعقوب کے محبوب کو لے لیا یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں، انہوں نے بھی صبر کیا، اور یہ آزمائش بھی تم پر نہیں آئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34059]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34059، ترقيم محمد عوامة 32555)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32556 ترقیم الشثری: -- 34060
٣٤٠٦٠ - قال علي بن زيد: وحدثني خليفة عن ابن عباس ان داود حدث نفسه إن ابتلي ان يعتصم، فقيل له: إنك ستبتلى وتعلم اليوم الذي تبتلى فيه فخذ حذرك، فقيل له: هذا اليوم الذي تبتلى فيه، فاخذ الزبور فوضعه في حجره، واغلق باب المحراب، واقعد منصفا على الباب، وقال: لا تاذن لاحد علي اليوم، فبينما هو يقرا الزبور إذ جاء طائر مذهب كاحسن ما يكون الطير، فيه من كل لون فجعل يدرج بين يديه فدنا منه، فامكن ان ياخذه فتناوله بيده لياخذه (فاستوفزه) (١) من خلفه، فاطبق الزبور وقام إليه لياخذه، فطار فوقع على كوة المحراب، فدنا منه ايضا لياخذه فوقع على (خص) (٢) فاشرف عليه لينظر اين وقع، فإذا هو بالمراة ⦗٥٢٨⦘ عند (بركتها) (٣) تغتسل من المحيض، فلما رات ظله حركت راسها فغطت جسدها بشعرها، فقال داود للمنصف: اذهب فقل لفلانة تجيء، فاتاها فقال (لها) (٤) : إن نبي الله يدعوك، فقالت: ما لي ولنبي الله؟ إن كانت له حاجة فلياتني اما انا فلا آتيه، فاتاه المنصف فاخبره بقولها، فاتاها واغلقت الباب دونه، فقالت: مالك يا داود؟ اما تعلم انه من فعل هذا رجمتموها، ووعظته فرجع، وكان زوجها غازيا في سبيل الله فكتب داود ﵇ (٥) إلى امير (المغزى) (٦) : انظر اوريا فاجعله في حملة التابوت، (وكان حملة التابوت إما ان يفتح عليهم وإما ان يقتلوا، فقدمه في حملة التابوت) (٧) فقتل، فلما انقضت عدتها خطبها فاشترطت عليه: إن ولدت كلاما ان يجعله الخليفة من بعده، واشهدت عليه خمسين من بني إسرائيل وكتبت عليه بذلك كتابا، فما شعر بفتنته انه فتن حتى ولدت سليمان وشب، فتسور (الملكان) (٨) عليه المحراب، فكان من شانهما ما قص الله (٩) وخر داود ساجدا فغفر الله له (وتاب) (١٠) ، وتاب الله عليه، فطلقها (وجفا) (١١) سليمان وابعده. ⦗٥٢٩⦘ فبينما هو (معه) (١٢) في مسيرله وهو في ناحية القوم إذ اتى على غلمان (له) (١٣) يلعبون، فجعلوا يقولون: يا لادين يا لادين، فوقف داود فقال: ما شان هذا يسمى لادين؟ فقال سليمان وهو في ناحية القوم: اما انه لو سالني عن (هذه) (١٤) لاخبرته (بامره) (١٥) ، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه (فقال) (١٦) : ما شان هذا الغلام سمي لادين؟ فقال: ساعلم لك علم ذلك، فسال سليمان عن ابيه: كيف كان امره؟ فقيل (له) (١٧) : إن اباه كان في سفر له مع اصحاب له، وكان كثير المال فارادوا قتله، فاوصاهم فقال: إني تركت امراتي حبلى، فإن ولدت غلاما فقولوا لها: تسميه لادين، فبعث سليمان إلى اصحابه، فجاؤا فخلا باحدهم فلم يزل حتى اقر، وخلا بالآخرين فلم يزل بهم حتى اقروا كلهم، فرفعهم إلى داود فقتلهم، فعطف عليه بعض العطف. وكانت امراة عابدة من بني إسرائيل وكانت تبتلت، وكانت لها جاريتان (جميلتان) (١٨) وقد (تبتلت) (١٩) المراة لا تريد الرجال، فقالت إحدى الجاريتين للاخرى: قد طال علينا هذا البلاء، اما هذه فلا تريد الرجال، (ولا نزال) (٢٠) بشر ما ⦗٥٣٠⦘ كنا لها، فلو انا فضحناها فرجمت، فصرنا إلى الوجال، فاخذتا ماء البيض فاتتاها وهي ساجدة فكشفتا عنها ثوبها، ونضحتا في دبرها ماء البيض وصرختا: إنها قد بغت، وكان من زنا (فيهم) (٢١) حده الرجم، فرفعت إلى داود ﵇ (٢٢) وماء البيض في ثيابها فاراد رجمها، فقال سليمان: اما انه لو سالني (لانباته) (٢٣) ، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه فقال: ما شان هذه؟ ما امرها؟ فقال: ائتوني بنار فإنه إن كان ماء الرجال تفرق، وإن كان ماء البيض اجتمع، فاتي بنار فوضعها عليه فاجتمع فدرا عنها (الرجم) (٢٤) ، وعطف عليه بعض العطف واحبه. ثم كان بعد ذلك اصحاب الحرث واصحاب (الشاء) (٢٥) ، فقضى داود ﵇ (٢٦) لاصحاب الحرث بالغنم، فخرجوا وخرجت الوعاء معهم الكلاب، فقال سليمان: كيف قضى بينكم؟ فاخبروه، فقال: لو وليت امرهم لقضيت بينهم بغير هذا القضاء، فقيل لداود: إن سليمان يقول: كذا وكذا، فدعاه فقال: كيف تقضي؟ فقال: ادفع الغنم إلى اصحاب الحرث هذا العام، (فيكون) (٢٧) لهم اولادها (وسلاها) (٢٨) والبانها ومنافعها (لهم العام) (٢٩) ، ويبذر هؤلاء مثل حرثهم، فإذا بلغ ⦗٥٣١⦘ الحرث الذي كان عليه اخذ هؤلاء الحرث ودفع هؤلاء (إلى هؤلاء) (٣٠) الغنم، قال: فعطف عليه (٣١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (فاستوفز).
(٢) بيت من خشب، وفي [هـ]: (حصن).
(٣) في [جـ]: (تركتها).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [م].
(٦) في [أ، جـ]: (المغزا)، وفي (ب): (المغز).
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٨) في [هـ]: (المكان).
(٩) زيادة في [أ، ب]: ﷿.
(١٠) في [هـ]: (وأناب).
(١١) في [جـ]: (فجفا).
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) سقط من: [م].
(١٤) في [جـ، م]: (هذا).
(١٥) في [أ، ب]: (بأمرها).
(١٦) في [هـ]: (وقال).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [أ، ب]: (عميلتان).
(١٩) في [جـ]: (سلت).
(٢٠) في [أ، ب]: (ولا تزال).
(٢١) في [أ، ب، هـ]: (منهم).
(٢٢) سقط من: [م].
(٢٣) في [ب]: (أنبأته).
(٢٤) في [أ، ب]: (الحد).
(٢٥) في [هـ]: (الشياه).
(٢٦) سقط من: [م].
(٢٧) في [أ، ب]: (فتكون).
(٢٨) أي: السمن، وفي [أ، ب]: (ونسلها).
(٢٩) سقط من: [هـ].
(٣٠) سقط من: [أ].
(٣١) مجهول، خليفة مجهول وانظر: المغني للذهبي ١/ ٢١٤، وميزان الاعتدال ٢/ ٤٥٨، ولسان الميزان ٢/ ٤٥٩.

خلیفہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر وہ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو محفوظ رہیں گے، ان سے کہا گیا کہ تم عنقریب آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، اور تمہیں اس دن کا علم ہوجائے گا جس میں تمہیں آزمائش میں ڈالا جائے گا، اس لیے احتیاط رکھو، چناچہ ان سے کہا گیا کہ آج تمہیں آزمایا جائے گا، چناچہ آپ نے زبور پکڑی اور اپنی بغل میں لی اور محراب کا دروازہ بند کردیا اور دروازے پر خادم کو بٹھایا اور فرمایا کہ آج کسی کو مت آنے دینا۔ (٢) چناچہ آپ زبور پڑھ رہے تھے کہ ایک خوبصورت پرندہ آیا جس میں مختلف رنگ تھے، اور وہ آپ کے پاس آنے لگا، اور قریب ہوگیا، اور آپ کو اسے اٹھانے کی قدرت ہوگئی، آپ نے اس کو ہاتھ میں لینے کا ارادہ کیا تو وہ کود کر آپ کے پیچھے چلا گیا، چناچہ آپ نے زبور بند کی اور اس کو پکڑنے کے لیے اٹھے، لیکن وہ اڑ کر محراب کے روشن دان پر بیٹھ گیا، آپ اس کے قریب ہوئے تو وہ ایک گھونسلے میں داخل ہوگیا، آپ نے اس کو جھانکا تاکہ اس کو دیکھیں کہ کہاں گیا ہے اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے حوض کے پاس حیض کا غسل کر رہی تھی، جب اس نے آپ کا سایہ دیکھا تو اپنے سر کو حرکت دی اور اپنے جسم کو اپنے بالوں سے چھپالیا حضرت داؤد علیہ السلام نے خادم سے کہا کہ جاؤ اور فلاں عورت سے کہو کہ میرے پاس آئے، اس نے جا کر اس عورت سے کہا کہ اللہ کے نبی تمہیں بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی کہ اللہ کے نبی سے مجھ کو کیا کام؟ اگر انہیں کوئی ضرورت ہے تو میرے پاس آجائیں، میں تو ان کے پاس نہیں جاتی، خادم آپ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی بات بتائی، آپ اس کے پاس گئے تو اس نے دروازہ بند کرلیا اور کہنے لگی داؤد علیہ السلام تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ جو ایسا کرتا ہے تم اس کو سنگسار کرتے ہو؟ اور اس نے آپ کو نصیحت کی تو آپ واپس لوٹ گئے۔ (٣) اور اس عورت کا شوہر اللہ کے راستے میں مجاہد تھا، چناچہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جہاد کے امیر کو حکم دیا کہ اوریا کو حملۃ التابوت میں شامل کردو، اور حملۃ التابوت وہ فوج تھی جن کو یا فتح حاصل ہوتی یا و ہ قتل ہوجاتے تھے، چناچہ اس نے اس کو حملۃ التابوت میں شامل کر کے آگے بھیج دیا، اور وہ قتل ہوگیا، جب اس عورت کی عدت ختم ہوئی تو آپ نے اس کو پیغام دیا، اس نے شرط لگائی کہ اگر اس کا لڑکا ہوا تو اس کو اپنے بعد خلیفہ بنائیں گے، اور اس پر بنی اسرائیل کے پچاس لوگوں کو گواہ بنایا، اور اس پر ایک تحریر لکھی، چناچہ آپ کو اپنی آزمائش کا احساس ہی نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جنا اور وہ جوان ہوگئے، پھر دو فرشتے ان کے پاس محراب پھلانگ کر آئے اور ان کا قصہ اللہ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے، اور داؤد علیہ السلام سجدے میں گرگئے، چناچہ اللہ نے ان کی مغفرت فرما دی اور ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (٤) چناچہ انہوں نے اس کو طلاق دے دی اور سلیمان علیہ السلام کو دور کردیا، چناچہ اس دوران ایک مرتبہ آپ ایک میدان سے گزر رہے تھے کہ اپنے لڑکوں کے پاس پہنچے جو کہہ رہے تھے، اے لادین! اے لادین! حضرت داؤد علیہ السلام ٹھہر گئے اور پوچھا کہ اس کا نام لادین کیوں رکھا گیا ہے؟ سلیمان علیہ السلام جو ایک کونے میں تھے کہنے لگے کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں ان کو بتادوں گا، داؤد علیہ السلام سے کہا گیا کہ سلیمان اس طرح کہہ رہے ہیں، آپ نے ان کو بلایا اور کہا کہ اس لڑکے کا نام لادین کیوں رکھا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں، حضرت سلیمان نے اس سے اس کے والد کے قصّے کے بارے میں پوچھا، تو ان کو بتایا گیا کہ اس کے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفر پر گئے تھے، اور وہ بہت مالدار تھے، لوگوں نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ان کو وصیت کی کہ میں نے اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑا ہے، اگر وہ لڑکا جنے گا تو اس سے کہنا کہ اس کا نام لادین رکھے، چناچہ حضرت سلیمان نے اس کے ساتھیوں کو بلایا، وہ آئے تو انہوں نے ان میں سے ایک کے ساتھ خلوت کی، اور اس سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اقرار کرلیا، اور دوسروں کے ساتھ خلوت کی تو ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ سب نے اقرار کرلیا، چناچہ انہوں نے ان کو حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیج دیا اور انہوں نے ان کو قتل کردیا، چناچہ آپ اس کے بعد ان پر کچھ مہربان ہوگئے۔ (٥) اور بنی اسرائیل میں ایک عابدہ عورت تھی اور وہ رہبانیت اختیار کیے ہوئے تھی، اس کی دو خوبصورت باندیاں تھیں، اور وہ عورت مردوں سے کوئی تعلق نہ رکھتی تھی، چناچہ ان میں سے ایک باندی نے دوسری سے کہا کہ ہم پر یہ مصیبت لمبی ہوگئی ہے، یہ تو مردوں کو چاہتی نہیں، اور ہم جب تک اس کے پاس رہیں گی بری حالت میں رہیں گی، کیا اچھا ہو اگر ہم اس کو رسوا کردیں اور اس کو سنگسار کردیا جائے اور ہم مردوں کے پاس پہنچ جائیں، چناچہ انہوں نے انڈے کا پانی لیا اور اس کے پاس آئیں [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34060]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34060، ترقيم محمد عوامة 32556)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34061
٣٤٠٦١ - قال حماد: وسمعت ثابتا يقول: هو اوريا.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34061، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں