🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. ما ذكر من أمر داود ﵇ وتواضعه
سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی تواضع کا ذکر
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32556 ترقیم الشثری: -- 34060
٣٤٠٦٠ - قال علي بن زيد: وحدثني خليفة عن ابن عباس ان داود حدث نفسه إن ابتلي ان يعتصم، فقيل له: إنك ستبتلى وتعلم اليوم الذي تبتلى فيه فخذ حذرك، فقيل له: هذا اليوم الذي تبتلى فيه، فاخذ الزبور فوضعه في حجره، واغلق باب المحراب، واقعد منصفا على الباب، وقال: لا تاذن لاحد علي اليوم، فبينما هو يقرا الزبور إذ جاء طائر مذهب كاحسن ما يكون الطير، فيه من كل لون فجعل يدرج بين يديه فدنا منه، فامكن ان ياخذه فتناوله بيده لياخذه (فاستوفزه) (١) من خلفه، فاطبق الزبور وقام إليه لياخذه، فطار فوقع على كوة المحراب، فدنا منه ايضا لياخذه فوقع على (خص) (٢) فاشرف عليه لينظر اين وقع، فإذا هو بالمراة ⦗٥٢٨⦘ عند (بركتها) (٣) تغتسل من المحيض، فلما رات ظله حركت راسها فغطت جسدها بشعرها، فقال داود للمنصف: اذهب فقل لفلانة تجيء، فاتاها فقال (لها) (٤) : إن نبي الله يدعوك، فقالت: ما لي ولنبي الله؟ إن كانت له حاجة فلياتني اما انا فلا آتيه، فاتاه المنصف فاخبره بقولها، فاتاها واغلقت الباب دونه، فقالت: مالك يا داود؟ اما تعلم انه من فعل هذا رجمتموها، ووعظته فرجع، وكان زوجها غازيا في سبيل الله فكتب داود ﵇ (٥) إلى امير (المغزى) (٦) : انظر اوريا فاجعله في حملة التابوت، (وكان حملة التابوت إما ان يفتح عليهم وإما ان يقتلوا، فقدمه في حملة التابوت) (٧) فقتل، فلما انقضت عدتها خطبها فاشترطت عليه: إن ولدت كلاما ان يجعله الخليفة من بعده، واشهدت عليه خمسين من بني إسرائيل وكتبت عليه بذلك كتابا، فما شعر بفتنته انه فتن حتى ولدت سليمان وشب، فتسور (الملكان) (٨) عليه المحراب، فكان من شانهما ما قص الله (٩) وخر داود ساجدا فغفر الله له (وتاب) (١٠) ، وتاب الله عليه، فطلقها (وجفا) (١١) سليمان وابعده. ⦗٥٢٩⦘ فبينما هو (معه) (١٢) في مسيرله وهو في ناحية القوم إذ اتى على غلمان (له) (١٣) يلعبون، فجعلوا يقولون: يا لادين يا لادين، فوقف داود فقال: ما شان هذا يسمى لادين؟ فقال سليمان وهو في ناحية القوم: اما انه لو سالني عن (هذه) (١٤) لاخبرته (بامره) (١٥) ، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه (فقال) (١٦) : ما شان هذا الغلام سمي لادين؟ فقال: ساعلم لك علم ذلك، فسال سليمان عن ابيه: كيف كان امره؟ فقيل (له) (١٧) : إن اباه كان في سفر له مع اصحاب له، وكان كثير المال فارادوا قتله، فاوصاهم فقال: إني تركت امراتي حبلى، فإن ولدت غلاما فقولوا لها: تسميه لادين، فبعث سليمان إلى اصحابه، فجاؤا فخلا باحدهم فلم يزل حتى اقر، وخلا بالآخرين فلم يزل بهم حتى اقروا كلهم، فرفعهم إلى داود فقتلهم، فعطف عليه بعض العطف. وكانت امراة عابدة من بني إسرائيل وكانت تبتلت، وكانت لها جاريتان (جميلتان) (١٨) وقد (تبتلت) (١٩) المراة لا تريد الرجال، فقالت إحدى الجاريتين للاخرى: قد طال علينا هذا البلاء، اما هذه فلا تريد الرجال، (ولا نزال) (٢٠) بشر ما ⦗٥٣٠⦘ كنا لها، فلو انا فضحناها فرجمت، فصرنا إلى الوجال، فاخذتا ماء البيض فاتتاها وهي ساجدة فكشفتا عنها ثوبها، ونضحتا في دبرها ماء البيض وصرختا: إنها قد بغت، وكان من زنا (فيهم) (٢١) حده الرجم، فرفعت إلى داود ﵇ (٢٢) وماء البيض في ثيابها فاراد رجمها، فقال سليمان: اما انه لو سالني (لانباته) (٢٣) ، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه فقال: ما شان هذه؟ ما امرها؟ فقال: ائتوني بنار فإنه إن كان ماء الرجال تفرق، وإن كان ماء البيض اجتمع، فاتي بنار فوضعها عليه فاجتمع فدرا عنها (الرجم) (٢٤) ، وعطف عليه بعض العطف واحبه. ثم كان بعد ذلك اصحاب الحرث واصحاب (الشاء) (٢٥) ، فقضى داود ﵇ (٢٦) لاصحاب الحرث بالغنم، فخرجوا وخرجت الوعاء معهم الكلاب، فقال سليمان: كيف قضى بينكم؟ فاخبروه، فقال: لو وليت امرهم لقضيت بينهم بغير هذا القضاء، فقيل لداود: إن سليمان يقول: كذا وكذا، فدعاه فقال: كيف تقضي؟ فقال: ادفع الغنم إلى اصحاب الحرث هذا العام، (فيكون) (٢٧) لهم اولادها (وسلاها) (٢٨) والبانها ومنافعها (لهم العام) (٢٩) ، ويبذر هؤلاء مثل حرثهم، فإذا بلغ ⦗٥٣١⦘ الحرث الذي كان عليه اخذ هؤلاء الحرث ودفع هؤلاء (إلى هؤلاء) (٣٠) الغنم، قال: فعطف عليه (٣١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (فاستوفز).
(٢) بيت من خشب، وفي [هـ]: (حصن).
(٣) في [جـ]: (تركتها).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [م].
(٦) في [أ، جـ]: (المغزا)، وفي (ب): (المغز).
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٨) في [هـ]: (المكان).
(٩) زيادة في [أ، ب]: ﷿.
(١٠) في [هـ]: (وأناب).
(١١) في [جـ]: (فجفا).
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) سقط من: [م].
(١٤) في [جـ، م]: (هذا).
(١٥) في [أ، ب]: (بأمرها).
(١٦) في [هـ]: (وقال).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [أ، ب]: (عميلتان).
(١٩) في [جـ]: (سلت).
(٢٠) في [أ، ب]: (ولا تزال).
(٢١) في [أ، ب، هـ]: (منهم).
(٢٢) سقط من: [م].
(٢٣) في [ب]: (أنبأته).
(٢٤) في [أ، ب]: (الحد).
(٢٥) في [هـ]: (الشياه).
(٢٦) سقط من: [م].
(٢٧) في [أ، ب]: (فتكون).
(٢٨) أي: السمن، وفي [أ، ب]: (ونسلها).
(٢٩) سقط من: [هـ].
(٣٠) سقط من: [أ].
(٣١) مجهول، خليفة مجهول وانظر: المغني للذهبي ١/ ٢١٤، وميزان الاعتدال ٢/ ٤٥٨، ولسان الميزان ٢/ ٤٥٩.

خلیفہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر وہ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو محفوظ رہیں گے، ان سے کہا گیا کہ تم عنقریب آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، اور تمہیں اس دن کا علم ہوجائے گا جس میں تمہیں آزمائش میں ڈالا جائے گا، اس لیے احتیاط رکھو، چناچہ ان سے کہا گیا کہ آج تمہیں آزمایا جائے گا، چناچہ آپ نے زبور پکڑی اور اپنی بغل میں لی اور محراب کا دروازہ بند کردیا اور دروازے پر خادم کو بٹھایا اور فرمایا کہ آج کسی کو مت آنے دینا۔ (٢) چناچہ آپ زبور پڑھ رہے تھے کہ ایک خوبصورت پرندہ آیا جس میں مختلف رنگ تھے، اور وہ آپ کے پاس آنے لگا، اور قریب ہوگیا، اور آپ کو اسے اٹھانے کی قدرت ہوگئی، آپ نے اس کو ہاتھ میں لینے کا ارادہ کیا تو وہ کود کر آپ کے پیچھے چلا گیا، چناچہ آپ نے زبور بند کی اور اس کو پکڑنے کے لیے اٹھے، لیکن وہ اڑ کر محراب کے روشن دان پر بیٹھ گیا، آپ اس کے قریب ہوئے تو وہ ایک گھونسلے میں داخل ہوگیا، آپ نے اس کو جھانکا تاکہ اس کو دیکھیں کہ کہاں گیا ہے اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے حوض کے پاس حیض کا غسل کر رہی تھی، جب اس نے آپ کا سایہ دیکھا تو اپنے سر کو حرکت دی اور اپنے جسم کو اپنے بالوں سے چھپالیا حضرت داؤد علیہ السلام نے خادم سے کہا کہ جاؤ اور فلاں عورت سے کہو کہ میرے پاس آئے، اس نے جا کر اس عورت سے کہا کہ اللہ کے نبی تمہیں بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی کہ اللہ کے نبی سے مجھ کو کیا کام؟ اگر انہیں کوئی ضرورت ہے تو میرے پاس آجائیں، میں تو ان کے پاس نہیں جاتی، خادم آپ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی بات بتائی، آپ اس کے پاس گئے تو اس نے دروازہ بند کرلیا اور کہنے لگی داؤد علیہ السلام تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ جو ایسا کرتا ہے تم اس کو سنگسار کرتے ہو؟ اور اس نے آپ کو نصیحت کی تو آپ واپس لوٹ گئے۔ (٣) اور اس عورت کا شوہر اللہ کے راستے میں مجاہد تھا، چناچہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جہاد کے امیر کو حکم دیا کہ اوریا کو ”حملۃ التابوت“ میں شامل کردو، اور ”حملۃ التابوت“ وہ فوج تھی جن کو یا فتح حاصل ہوتی یا و ہ قتل ہوجاتے تھے، چناچہ اس نے اس کو ”حملۃ التابوت“ میں شامل کر کے آگے بھیج دیا، اور وہ قتل ہوگیا، جب اس عورت کی عدت ختم ہوئی تو آپ نے اس کو پیغام دیا، اس نے شرط لگائی کہ اگر اس کا لڑکا ہوا تو اس کو اپنے بعد خلیفہ بنائیں گے، اور اس پر بنی اسرائیل کے پچاس لوگوں کو گواہ بنایا، اور اس پر ایک تحریر لکھی، چناچہ آپ کو اپنی آزمائش کا احساس ہی نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جنا اور وہ جوان ہوگئے، پھر دو فرشتے ان کے پاس محراب پھلانگ کر آئے اور ان کا قصہ اللہ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے، اور داؤد علیہ السلام سجدے میں گرگئے، چناچہ اللہ نے ان کی مغفرت فرما دی اور ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (٤) چناچہ انہوں نے اس کو طلاق دے دی اور سلیمان علیہ السلام کو دور کردیا، چناچہ اس دوران ایک مرتبہ آپ ایک میدان سے گزر رہے تھے کہ اپنے لڑکوں کے پاس پہنچے جو کہہ رہے تھے، اے لادین! اے لادین! حضرت داؤد علیہ السلام ٹھہر گئے اور پوچھا کہ اس کا نام ”لادین“ کیوں رکھا گیا ہے؟ سلیمان علیہ السلام جو ایک کونے میں تھے کہنے لگے کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں ان کو بتادوں گا، داؤد علیہ السلام سے کہا گیا کہ سلیمان اس طرح کہہ رہے ہیں، آپ نے ان کو بلایا اور کہا کہ اس لڑکے کا نام ”لادین“ کیوں رکھا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں، حضرت سلیمان نے اس سے اس کے والد کے قصّے کے بارے میں پوچھا، تو ان کو بتایا گیا کہ اس کے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفر پر گئے تھے، اور وہ بہت مالدار تھے، لوگوں نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ان کو وصیت کی کہ میں نے اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑا ہے، اگر وہ لڑکا جنے گا تو اس سے کہنا کہ اس کا نام ”لادین“ رکھے، چناچہ حضرت سلیمان نے اس کے ساتھیوں کو بلایا، وہ آئے تو انہوں نے ان میں سے ایک کے ساتھ خلوت کی، اور اس سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اقرار کرلیا، اور دوسروں کے ساتھ خلوت کی تو ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ سب نے اقرار کرلیا، چناچہ انہوں نے ان کو حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیج دیا اور انہوں نے ان کو قتل کردیا، چناچہ آپ اس کے بعد ان پر کچھ مہربان ہوگئے۔ (٥) اور بنی اسرائیل میں ایک عابدہ عورت تھی اور وہ رہبانیت اختیار کیے ہوئے تھی، اس کی دو خوبصورت باندیاں تھیں، اور وہ عورت مردوں سے کوئی تعلق نہ رکھتی تھی، چناچہ ان میں سے ایک باندی نے دوسری سے کہا کہ ہم پر یہ مصیبت لمبی ہوگئی ہے، یہ تو مردوں کو چاہتی نہیں، اور ہم جب تک اس کے پاس رہیں گی بری حالت میں رہیں گی، کیا اچھا ہو اگر ہم اس کو رسوا کردیں اور اس کو سنگسار کردیا جائے اور ہم مردوں کے پاس پہنچ جائیں، چناچہ انہوں نے انڈے کا پانی لیا اور اس کے پاس آئیں [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34060]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34060، ترقيم محمد عوامة 32556)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34060 in Urdu