🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32686 ترقیم الشثری: -- 34192
٣٤١٩٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين (عن) (١) عمر بن جاوان عن الاحنف بن قيس قال: قدمنا المدينة فجاء عثمان (فقيل: هذا عثمان) (٢) ، فدخل ⦗٣٨⦘ عليه (ملية) (٣) له صفراء قد قنع بها راسه، قال: هاهنا علي؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا طلحة؟ قالوا نعم، قال: هاهنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا سعد، قالوا: نعم، قال: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، (اتعلمون) (٤) ان رسول الله ﷺ قال:"من يبتاع (مربد) (٥) بني فلان غفر الله (له) (٦) "، فابتعته بعشرين الفا او خمسة وعشرين الفا فاتيت النبي ﷺ فقلت: قد ابتعته، فقال:"اجعله في مسجدنا واجره لك"، قال: فقالوا: اللهم نعم، قال: فقال: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو اتعلمون ان رسول الله ﷺ قال:"من يبتاع بئر رومة غفر الله له"، فابتعتها بكذا وكذا ثم اتيته فقلت قد ابتعتها، فقال:"اجعلها سقاية للمسلمين واجرها لك" (٧) ، قالوا: اللهم نعم، قال: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، اتعلمون ان رسول الله ﷺ نظر في وجوه القوم فقال:"من (جهز) (٨) هولاء غفر الله له"، -يعني جيش العسرة- فجهزتهم حتى لم يفقدوا عقالا ولا خطاما؟ قالوا: اللهم نعم، قال: قال: اللهم اشهد -ثلاثا (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بن).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [هـ]: (ملاءة).
(٤) في [أ، ب، م]: (تعلموا أن).
(٥) في [ب]: (من).
(٦) سقط من: [م].
(٧) في [م]: زيادة (قال).
(٨) في [هـ]: (يجهز).
(٩) مجهول؛ لجهالة عمر بن جاوان، أخرجه أحمد (٥١١)، والنسائي ٦/ ٤٦، وابن خزيمة (٢٤٨٧)، وابن حبان (٦٩٢٠)، كما أخرجه الترمذي (٣٧٠٣)، والضياء (٣٥٠)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٠٣)، والطيالسي (٨٢)، والبزار (٣٩١)، والدارقطني ٤/ ١٩٥، وابن عساكر ٣٩/ ٣٣١، وابن شبه (٤٤٤)، وابن سعد ٣/ ٥٦، والآجري في الشريعة (١٤١٦)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٢١٥، والخطابي في غريب الحديث ٣/ ٣٩.

حضرت عمر بن جاوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ مدینہ میں تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ کہا گیا کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ کی چادر تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص فلاں قبیلہ کے اونٹ کا باڑ ا خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے تو میں نے وہ باڑا بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خریدا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: تحقیق میں نے وہ باڑا خرید لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس جگہ کو ہماری مسجد کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر وثواب تمہیں ملے گا؟ راوی کہتے ہیں: ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر کہا: اللہ کی قسم! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو قسم دیتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے متعلق جانتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رومہ میٹھے پانی کا کنواں خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ تو میں نے اس کنویں کو اتنے اور اتنے روپوں میں خریدا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا: تحقیق میں نے اس کو خرید لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر تمہیں ملے گا؟ راوی کہتے ہیں: ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جانتے ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہ کون شخص ہے جو ان لوگوں کے سفر کا سامان مہیا کرے گا۔ اللہ اس شخص کی مغفرت فرما دیں گے۔ یعنی غزوہ تبوک میں۔ تو میں نے ان سب کے لیے سامان مہیا کیا یہاں تک کہ ان لوگوں کو اونٹ کی نکیل اور اونٹ کے پیر کی رسی کی بھی کمی نہیں ہوئی؟۔ ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! ایسی ہی بات ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34192]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34192، ترقيم محمد عوامة 32686)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34192 in Urdu