🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. ما ذكر في العباس ﵁ عم النبي ﷺ
ان روایات کا بیان جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں منقول ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32875 ترقیم الشثری: -- 34385
٣٤٣٨٥ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن عبد الله بن الحارث قال: حدثني عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب ان العباس دخل على رسول الله ﷺ (وانا عنده) (١) ، فقال رسول الله ﷺ:"من اغضبك؟" ( (قال) (٢) : يا رسول) (٣) الله ما لنا ولقريش إذا تلاقوا (تلاقوا) (٤) بوجوه (مبشرة) (٥) ، وإذا لقونا (لقونا) (٦) بغير ذلك، قال: فغضب رسول الله ﷺ حتى احمر وجهه، وحتى استدر عرق بين عينيه، وكان إذا غضب استدر فلما سري عنه، قال:"والذي نفس محمد بيده، لا يدخل قلب رجل الإيمان حتى يحبكم لله ولرسوله"، ثم قال:"ايها الناس، من آذى العباس فقد آذاني، إنما عم الرجل صنو ابيه" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [م]: (فقال).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [جـ]: (بأمرنا تلاقوا)، وفي [هـ]: (بينهم تلاقوا).
(٥) في [ب]: (مبسرة).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أحمد (١٧٥١٥)، والترمذي (٣٧٥٨)، والنسائي في الكبرى (٨١٧٦)، والطبراني ٢٠/ (٦٧٢)، والحاكم ٤/ ٧٥، و ٣/ ٣٣٣، وابن شبه في تاريخ المدينة ٢/ ٦٣٩، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٣٩)، والبيهقي في الدلائل ١/ ١٦٨، ويعقوب بن سفيان ١/ ٢٩٥، وابن ماجه (١٤٠).

حضرت عبد المطب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس حال میں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کس نے آپ رضی اللہ عنہ کو غصہ دلایا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول 5! قریش کے لوگوں کو ہم سے کیا ہوا؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑے خوشگوار چہرے سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتے؟ راوی کہتے ہیں: یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان موجود رَگ پھڑکنے لگی۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوتے تو یہ رگ پھڑکتی تھی۔ پس جب آپ رضی اللہ عنہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد 5 کی جان ہے۔ ایمان ہرگز داخل نہیں ہوگا کسی آدمی کے دل میں یہاں تک کہ وہ تم لوگوں سے اللہ اور اس کے رسول 5 کی وجہ سے محبت کرے، پھر ارشاد فرمایا: اے لوگو! جس نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اذیت پہنچائی، تحقیق اس نے مجھے ایذا پہنچائی۔ بیشک آدمی کا چچا اس کے با پ کی مانند ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34385]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34385، ترقيم محمد عوامة 32875)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34385 in Urdu