🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. ما ذكر في عائشة ﵂
ان روایات کا بیان جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مذکور ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32944 ترقیم الشثری: -- 34453
٣٤٤٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن ابي خالد عن عبد الرحمن بن ابي الضحاك عن عبد الرحمن بن محمد بن زيد بن جدعان قال: حدثنا ان عبد الله، بن صفوان وآخر معه، اتيا عائشة فقالت عائشة: يا فلان هل سمعت حديث حفصة؟ فقال: نعنم يا ام المؤمنين، فقال لها عبد الله بن صفوان: وما ذاك يا ام المؤمنين؟ قالت: خلال في (تسع) (١) لم تكن في احد من الناس إلا ما آتى الله مريم ابنة عمران، والله ما اقول هذا اني افتخر على (صواحبي) (٢) قال: عبد الله بن صفوان: وما هي يا ام المؤمنين؟ قالت: نزل المك بصورتي، وتزوجني رسول الله ﷺ لسبع سنين، واهديت إليه لتسع سنين، وتزوجني بكرا لم يشركه في ⦗١٢٦⦘ احد من الناس، واتاه الوحي وانا وإياه في لحاف واحد، وكنت من احب الناس إليه، ونزل في آيات من القرآن كادت الامة تهلك فيهن، ورايت جبريل ولم يره احد من نسائه غيري، وقبض في بيتي لم يله احد غير الملك وانا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، م]: (سبع).
(٢) في [هـ]: (صواحباتي).
(٣) منقطع فيه جهالة؛ عبد الرحمن بن جدعان لم يدرك عائشة، وعبد الرحمن بن أبي الضحاك فيه جهالة، فيه جهالة، أخرجه الطبراني ٢٣/ (٧٧)، والحاكم ٤/ ١٠، وأبو القاسم الأصبهاني في الحجة (٣٦٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٠٣٦)، وابن جرير الطبري في التاريخ ٢/ ٩، والبخاري في التاريخ ٥/ ٣٤٥، والمؤلف في المسند كما في المطالب العالية (٤١٠٦).

حضرت عبد الرحمن بن محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن صفوان اور ان کے ساتھ ایک دوسرا آدمی یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے فلاں! کیا تو نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنی؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! ام المؤمنین، اس پر حضرت عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: اے ام المؤمنین! وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھ میں نو خصلتیں ایسی ہیں جو لوگوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں۔ سوائے ان کے جو اللہ نے حضرت مریم بنت عمران کو عطا فرمائیں۔ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کہتی کہ میں اپنی ساتھیوں پر فخر کرتی ہوں عبداللہ بن صفوان نے پوچھا: اے ام المؤمنین! وہ خصلتیں کیا ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فرشتہ میری تصویر لے کر اترا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی جب کہ میں سات سال کی تھی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نو سال کی عمر میں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ باکرہ سے شادی کی۔ اور اس میں میرا کوئی بھی شریک نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی اس حال میں کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بستر میں ہوتے۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور میرے بارے میں قرآن کی چند آیات اتریں۔ اور قریب تھا کہ امت ان کے بارے میں ہلاک کردی جاتی۔ اور میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا اور میرے علاوہ کسی عورت نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں ہوا جہاں میرے اور فرشتہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34453]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34453، ترقيم محمد عوامة 32944)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34453 in Urdu