🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. ما ذكر في عائشة ﵂
ان روایات کا بیان جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مذکور ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32945 ترقیم الشثری: -- 34454
٣٤٤٥٤ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن مسروق قال: اخبرتني عائشة قالت: بينا رسول الله ﷺ جالس في البيت إذ دخل الحجرة علينا رجل على فرس فقام إليه رسول الله ﷺ فوضع يده على معرفة الفرس فجعل يكلمه، قالت: ثم رجع رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله من هذا الذي كنت تناجي؟ قال:"وهل رايت احدا؟"، قالت: قلت: نعم، رايت رجلا على فرس، قال:"بمن (شبهته) (٢) ؟، قالت: بدحية الكلبي، قال:"ذاك جبريل"، قال:"قد رايت خيرا"، قال: ثم (لبثت) (٣) ما شاء الله ان (البث) (٤) فدخل جبريل ورسول الله ﷺ في الحجرة، فقال رسول الله ﷺ:"يا عائشة"، قلت: لبيك وسعديك يا رسول الله، قال:"هذا جبريل وقد امرني ان اقرئك (منه السلام) (٥) "، قالت: قلت ارجع إليه مني السلام ورحمة الله وبركاته، جزاك الله من دخيل خير ما يجزئ الدخلاء، ⦗١٢٧⦘ قالت: وكان ينزل الوحي على رسول الله ﷺ وانا وهو في لحاف واحد (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، م، هـ]: (غالب).
(٢) في [أ، ب]: (شبهتيه).
(٣) في [أ، ب]: (لبث)
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (يلبث).
(٥) في [أ، ب]: (السلام منه).
(٦) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (٢٤٤٦٢)، والحاكم ٤/ ٧، والحميدي (٢٧٧)، والطبراني ٢٣/ (٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٤٦، والخطيب ٧/ ١٤٠، وابن سعد ٨/ ٦٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٠١٣)، وسبق ٨/ ٤٢٨ بسند صحيح وسبق ٨/ ٤٢٥ برقم [٢٧٣٥٣].

حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ اس درمیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ایک گھوڑے پر سوار آدمی حجرے میں ہم پر داخل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کی طرف گئے اور اپنا ہاتھ گھوڑے کی گردن پر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے بات کرنا شروع کردی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے۔ تو میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول 5! یہ کون شخص تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرگوشی فرما رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے کسی کو دیکھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے ایک آدمی کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے اس شخص کو کس کے مشابہہ پایا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے تحقیق تو نے خیر کی بات دیکھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ پھر وہ ٹھہرے جب تک اللہ نے چاہا کہ وہ ٹھہریں۔ پس حضرت جبرائیل علیہ السلام داخل ہوئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ! میں نے کہا: میں حاضر ہوں: اے اللہ کے رسول 5! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تحقیق انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان کی طرف سے سلام کہوں۔ میں نے کہا: آپ بھی میری طرف سے ان کو کہہ دیں، اللہ کی سلامتی، رحمت ہو اور برکتیں ہوں۔ اللہ مہمان کو جو تمام داخل ہونے والے مہمانوں میں سب سے بہتر مہمان ہے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تھی۔ اس حال میں کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بستر میں ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34454]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34454، ترقيم محمد عوامة 32945)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34454 in Urdu