مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
29. ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟
اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
ترقیم عوامۃ: 33406 ترقیم الشثری: -- 34930
٣٤٩٣٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن ابي هند قال: ثنا عامر ان انس بن مالك حدثه ان نفرا من بكر بن وائل ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقتلوا في القتال، فلما اتيت عمر بن الخطاب بفتح تستر قال: ما فعل النفر من بكر ابن وائل؟ قال: قلت: عرضت في حديث آخر (لاشغله) (١) عن ذكرهم، (قال) (٢) : ما فعل النفر من بكر بن وائل؟ قال: قلت: قتلوا يا امير المؤمنين، قال: لو كنت (اخذتهم) (٣) سلما كان احب إلي مما طلعت عليه الشمس من صفراء وبيضاء، قال: قلت: يا امير المؤمنين، وما كان سبيلهم لو اخذتهم إلا القتل، قوم ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالشرك، قال: كنت اعرض ان يدخلوا في الباب الذي خرجوا منه، فإن فعلوا قبلت منهم، وإن ابوا استودعتهم السجن (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (لأنسله)، وفي [ك]: (لأميله).
(٢) في [أ، ب]: (فقال).
(٣) في [جـ]: (أسرتهم).
(٤) صحيح.
حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: قبیلہ بکر بن وائل کے کچھ افراد اسلام سے مرتد ہوگئے اور مشرکین سے جا ملے۔ پھر ان کو جنگ میں قتل کردیا گیا۔ پھر جب میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تستر کی فتح کی خبر لے کر آیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قبیلہ بکر بن وائل کے لوگوں کا کیا معاملہ ہوا؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے دوسری بات شروع کردی تاکہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ان کے ذکر سے ہٹا دوں، لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا: قبیلہ بکر بن وائل کے گروہ کا کیا معاملہ ہوا؟ میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین! ان کو قتل کردیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں ان سے صلح کا معاملہ کرتا تو یہ بات میرے نزدیک اس سونا، چاندی سے زیادہ محبوب ہوتی جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! اگر آپ رضی اللہ عنہان لوگوں کو پکڑ لیتے جو اسلام سے مرتد ہوئے اور مشرکین سے جا ملے تو ان کے قتل کے سوا کیا راستہ ہوسکتا تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان کے سامنے یہ بات پیش کرتا کہ وہ اسی دروازے میں داخل ہوجائیں جس سے وہ نکلے ہیں پس اگر وہ ایسا کرتے تو میں ان کی طرف سے یہ چیزیں قبول کرلیتا اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کردیتے تو میں ان کو جیلوں میں قید کردیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34930]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34930، ترقيم محمد عوامة 33406)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34930 in Urdu