🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟
اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33407 ترقیم الشثری: -- 34931
٣٤٩٣١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن سعيد بن (حيان) (١) عن عمار الدهني قال: حدثني ابو الطفيل قال: كنت في الجيش الذين بعثهم علي ابن ابي طالب إلى بني ناجية، فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق، قال: فقال اميرنا لفرقة منهم: ما انتم؟ قالوا: نحن قوم (كنا) (٢) نصارى (واسلمنا) (٣) فثبتنا ⦗٢٥٩⦘ على إسلامنا قال: اعتزلوا، ثم قال للثانية: ما انتم؟ قالوا: (نحن قوم من النصارى لم نر دينا افضل من ديننا فثبتنا عليه، فقال: اعتزلوا، ثم قال لفرقة اخرى: ما انتم قالوا: نحن) (٤) قوم كنا نصارى فاسلمنا فرجعنا، فلم نر دينا افضل من ديننا فتنصرنا، قال لهم: اسلموا، فابوا فقال لاصحابه: إذا مسحت (٥) راسي ثلاث مرات فشدوا عليهم ففعلوا فقتلوا وسبوا الذراري، فجئت بالذراري إلى علي وجاء مصقلة بن هبيرة فاشتراهم بمائتي الف فجاء بمائة الف إلى علي، فابى ان يقبل، فانطلق مصقلة بدراهمه وعمد إليهم مصقلة فاعتقهم، ولحق بمعاوية، فقيل لعلي: الا تاخذ الذرية؟ فقال: لا، فلم يعرض لهم (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حبان).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (فأسلمنا).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ك، م].
(٥) في [هـ]: زيادة (على).
(٦) حسن؛ عمار الدهني صدوق.

حضرت عمار الدھنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الطفیل رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: میں اس لشکر میں موجود تھا جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ جب ہم ان کے پا س پہنچے تو ہم نے ان لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم پایا۔ پس ہمارے امیر نے ان کے ایک گروہ سے پوچھا: تمہارا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم عیسائی تھے اور ہم نے اسلام قبول کیا اور خود کو اسلام پر ثابت قدم رکھا۔ امیر نے کہا: تم الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے دوسرے گروہ سے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ان لوگوں نے کہا: ہم عیسائی لوگ تھے۔ ہم نے اپنے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا لہٰذا ہم نے خود کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھا تو امیر نے کہا: تم بھی الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے آخری گروہ سے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہم لوگ عیسائی تھی پس ہم نے اسلام قبول کیا پھر ہم اسلام سے پھرگئے کیونکہ ہم نے اپنے دین سے افضل کوئی دین نہیں سمجھا اور ہم عیسائی ہوگئے۔ امیر نے ان سے کہا: تم اسلام لے آؤ۔ انہوں نے انکار کردیا۔ تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیروں تو تم ان پر حملہ کردینا پس لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ پھر میں قیدی لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آگیا۔ اور معقلہ بن ھبیرہ آیا اور اس نے ان قیدیوں کو دو لاکھ میں خرید لیا پھر وہ ایک لاکھ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ معقلہ اپنے دراہم لے کر واپس چلا گیا اور ان غلاموں کے پاس آیا اور ان سب کو آزاد کردیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جا ملا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ اولاد کیوں نہ لے لی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34931]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34931، ترقيم محمد عوامة 33407)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 34931 in Urdu