مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
58. ما قالوا: فيمن يبدأ (به) في الأعطية؟
اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
ترقیم عوامۃ: 33568 ترقیم الشثری: -- 35105
٣٥١٠٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (قال: حدثني موسى بن عبيدة) (٢) قال: حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي، وكان جده من المهاجرين عن ابي هريرة انه وفد إلى صاحب البحرين قال: فبعث معي بثمانمائة الف درهم إلى عمر بن الخطاب فقدمت عليه، فقال: ما جئتنا به يا ابا هريرة؟ فقلت: بثمانمائة الف درهم، فقال: اتدري ما تقول، إنك اعرابي؟ قال: فعددتها عليه بيدي حتى وفيت، قال: فدعا المهاجرين فاستشارهم في المال فاختلفوا عليه، فقال: ارتفعوا عني، حتى إذا كان عند الظهيرة ارسل إليهم، فقال: إني لقيت رجلا من اصحابي (فاستشرته) (٣) فلم ينتشر عليه رايه فقال: ﴿ما افاء الله على رسوله من اهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل﴾ [الحشر: ٧] ، فقسمه عمر على كتاب الله (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الخباب).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فاستشرتهم).
(٤) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة.
حضرت محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی رحمہ اللہ جن کے دادا مہاجرین میں سے تھے یہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں بحرین کے حاکم کی خدمت میں وفد لے کر گیا تو اس نے میرے ساتھ آٹھ لاکھ درہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجے۔ میں ان کو لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ابوہریرہ: تم کیا چیز لائے ہو؟ میں نے عرض کیا: آٹھ لاکھ درہم لایا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ یقینا تم تو دیہاتی ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اس مال کو شمار کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو پورا کیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کو بلایا اور ان سے مال کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ ان سب نے مختلف آراء دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قاصد بھیج کر بلایا۔ اور فرمایا: کہ میں اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی سے ملا تو اس کی رائے میں کوئی انتشار نہیں تھا۔ اس نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ: جو کچھ پلٹا دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے وہ مال اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ اور رسول کے رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے مطابق اس مال کو تقسیم فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35105]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35105، ترقيم محمد عوامة 33568)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35105 in Urdu