🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. ما قالوا: فيمن يبدأ (به) في الأعطية؟
اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33566 ترقیم الشثری: -- 35103
٣٥١٠٣ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: ثنا القاسم بن معن عن (جعفر) (٢) عن ابيه ان عمر اراد ان يفرض للناس، وكان رايه خيرا من رايهم، فقالوا: ابدا بنفسك، فقال: لا، فبدا بالاقرب (فالاقرب) (٣) من رسول الله ﷺ، ففرض للعباس ثم علي حتى (والى) (٤) بين خمس قبائل، حتى انتهى إلى بني عدي بن كعب (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [ب]: (معفر).
(٣) في [أ، ب]: (والأقرب).
(٤) في [ب]: (وإلا).
(٥) منقطع؛ أبو جعفر لا يروي عن عمر.

حضرت جعفر کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے لیے عطیہ مقرر کرنے کا ارادہ فرمایا: اور آپ رضی اللہ عنہ کی رائے ان سب لوگوں کی رائے سے بہتر تھی۔ لوگوں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہاپنے آپ سے ابتدا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدا کی ان لوگوں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ میں قریب تھے اور پھر جو ان کے بعد قریب تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا حصہ مقرر فرمایا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے پانچ قبیلوں کے درمیان لگا تار حصہ مقرر فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو عدی تک پہنچے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35103]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35103، ترقيم محمد عوامة 33566)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33567 ترقیم الشثری: -- 35104
٣٥١٠٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا موسى بن علي بن رباح عن ابيه ان عمر بن الخطاب خطب الناس في الجابية فحمد الله واثنى عليه ثم قال: من احب ان يسال عن القرآن فليات ابي بن كعب، ومن احب ان يسال عن الفرائض فليات زيد بن ثابت، ومن احب ان يسال عن الفقه فليات معاذ بن جبل، ومن احب ان يسال عن المال فلياتني، فإن الله جعلني خازنا وقاسما، الا وإني بادئ بالمهاجرين الاولين، انا واصحابي فنعطيهم، ثم بادئ بالانصار الذين تبوءوا الدار والإيمان فنعطيهم، ثم بادئ بازواج النبي ﷺ (فنعطيهن) (١) ، فمن اسرعت به الهجرة اسرع به العطاء، ومن ابطا عن الهجرة ابطا به العطاء، فلا يلومن احدكم إلا مناخ راحلته (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (فنعطيهم).
(٢) منقطع؛ علي بن رباح لم يدرك عمر.

حضرت عُلَی بن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر لوگوں سے خطاب فرمایا: پس آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا: جو شخص چاہتا ہے کہ وہ قرآن کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت ابیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے۔ اور جو چاہتا ہے کہ وہ وراثت کے حصوں کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے۔ اور جو شخص چاہتا ہے کہ وہ فقہ سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور جو شخص چاہتا ہے وہ مال سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے پاس آئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے خزانچی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے۔ خبردار میں سب سے پہلے مہاجرین اولین سے ابتدا کروں گا۔ میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں انصار سے ابتدا کروں گا جنہوں نے ایمان کو جگہ فراہم کی اور ایمان پر قائم رہے۔ پس میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ابتدا کروں گا اور ان کو عطایا دوں گا۔ اور جس نے ہجرت میں جلدی کی تو عطیہ بھی اس کی طرف جلدی کرے گا۔ اور جو ہجرت میں سست ہوا تو عطیہ میں بھی سستی ہوگی۔ تم میں کوئی ہرگز ملامت نہیں کرے گا مگر اپنی سواری کے بیٹھنے کی جگہ پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35104، ترقيم محمد عوامة 33567)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33568 ترقیم الشثری: -- 35105
٣٥١٠٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (قال: حدثني موسى بن عبيدة) (٢) قال: حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي، وكان جده من المهاجرين عن ابي هريرة انه وفد إلى صاحب البحرين قال: فبعث معي بثمانمائة الف درهم إلى عمر بن الخطاب فقدمت عليه، فقال: ما جئتنا به يا ابا هريرة؟ فقلت: بثمانمائة الف درهم، فقال: اتدري ما تقول، إنك اعرابي؟ قال: فعددتها عليه بيدي حتى وفيت، قال: فدعا المهاجرين فاستشارهم في المال فاختلفوا عليه، فقال: ارتفعوا عني، حتى إذا كان عند الظهيرة ارسل إليهم، فقال: إني لقيت رجلا من اصحابي (فاستشرته) (٣) فلم ينتشر عليه رايه فقال: ﴿ما افاء الله على رسوله من اهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل﴾ [الحشر: ٧] ، فقسمه عمر على كتاب الله (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الخباب).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فاستشرتهم).
(٤) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة.

حضرت محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی رحمہ اللہ جن کے دادا مہاجرین میں سے تھے یہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں بحرین کے حاکم کی خدمت میں وفد لے کر گیا تو اس نے میرے ساتھ آٹھ لاکھ درہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجے۔ میں ان کو لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ابوہریرہ: تم کیا چیز لائے ہو؟ میں نے عرض کیا: آٹھ لاکھ درہم لایا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ یقینا تم تو دیہاتی ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اس مال کو شمار کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو پورا کیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کو بلایا اور ان سے مال کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ ان سب نے مختلف آراء دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قاصد بھیج کر بلایا۔ اور فرمایا: کہ میں اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی سے ملا تو اس کی رائے میں کوئی انتشار نہیں تھا۔ اس نے یہ آیت پڑھی: ترجمہ: جو کچھ پلٹا دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے وہ مال اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ اور رسول کے رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے مطابق اس مال کو تقسیم فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35105]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35105، ترقيم محمد عوامة 33568)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33569 ترقیم الشثری: -- 35106
٣٥١٠٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن جعفر عن ابيه قال: لما وضع عمر ابن الخطاب الدواوين استشار الناس فقال: بمن ابدا؟ قال: ابدا بنفسك، قال: لا ولكني ابدا بالاقرب فالاقرب من رسول الله ﷺ فبدا بهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، أبو جعفر لا يروي عن عمر.
حضرت جعفر رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیوان بنانے کا فیصلہ فرمایا: تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ طلب کیا اور پوچھا: کہ میں کس سے ابتدا کروں؟ کسی نے کہا: آپ خود سے ابتدا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! لیکن میں ابتدا کروں گا ان لوگوں سے جو رشتہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب تھے اور پھر جو ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے ابتدا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35106]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35106، ترقيم محمد عوامة 33569)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33570 ترقیم الشثری: -- 35107
٣٥١٠٧ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي قال: ثنا حبان عن (مجالد) (١) عن الشعبي ان عمر اتي من جلولاء (بستة) (٢) آلاف الف ففرض العطاء فاستشار في ⦗٣٠٦⦘ ذلك عبد الرحمن بن عوف، فقال عبد الرحمن بن عوف: ابدا بنفسك، فانت احق بذلك، قال: لا، بل ابدا بالاقرب من رسول الله ﷺ ممن شهد بدرا حتى ينتهي ذلك إلي، (قال) (٣) : فبدا ففرض لعلي في خمسة آلاف ثم لبني هاشم ممن شهد بدرا ثم لمواليهم ثم لحلفائهم ثم الاقرب فالاقرب حتى ينتهي ذلك (إليه) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مجاهد).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (بسبعة).
(٣) في [أ، ب]: (أن قال: بل أبدأ بالأقرب من رسول اللَّه ﷺ).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (إلي).
(٥) منقطع ضعيف، وحبان هو ابن علي العنزي، وسبب ضعفه مجالد، والشعبي لا يروي عن عمر.

امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حلولاء مقام سے چھ لاکھ آئے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے عطیات مقرر کرنا چاہے۔ تو اس بارے میں مشورہ مانگا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ خود سے ابتدا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! بلکہ میں ابتدا کروں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان قریبی رشتہ داروں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ مجھ تک پہنچ جائے۔ راوی کہتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ابتدا فرمائی اور ان کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ پھر بنو ہاشم میں سے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ پھر ان کے غلاموں کے لیے پھر ان کے حلیفوں کے لیے۔ پھر اقرب فالاقرب کے اعتبار سے۔ یہاں تک کہ یہ معاملہ آپ رضی اللہ عنہ تک پہنچ گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35107]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35107، ترقيم محمد عوامة 33570)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں