🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
136. في الأمان ما هو وكيف هو؟
امان کیا ہے؟ اور کیسے ہو گی؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34084 ترقیم الشثری: -- 35638
٣٥٦٣٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن انس قال: حاصرنا تستر فنزل الهرمزان على حكم عمر، فبعث به ابو موسى معي، فلما قدمنا على عمر سكت الهرمزان فلم يتكلم، فقال عمر: تكلم، فقال: كلام حي او كلام ميت؟ قال: فتكلم فلا باس، فقال: (إنا) (١) وإياكم معشر العرب ما خلى الله بيننا وبينكم، (كنا نقتلكم) (٢) ونقصيكم، (فاما إذ) (٣) كان الله معكم لم يكن لنا بكم يدان، قال: فقال عمر: ما (تقول) (٤) يا انس؟ قال: قلت: يا امير المؤمنين تركت خلفي شوكة شديدة و (عددا) (٥) كثيرا، إن قتلته ايس القوم من الحياة، وكان اشد لشوكتهم، وإن استحييته طمع القوم، فقال: (يا) (٦) انس (استحيى) (٧) قاتل البراء بن مالك و (مجزاة) (٨) بن ثور، فلما ⦗٤٥٤⦘ خشيت ان يبسط عليه قلت له: ليس (لك) (٩) إلى قتله سبيل، فقال عمر: لم؟ اعطاك، اصبت منه، قلت: ما فعلت، ولكنك قلت له: تكلم فلا باس، فقال: لتجيئن بمن يشهد معك (وإلا بدات) (١٠) بعقوبتك، قال: فخرجت من عنده فإذا بالزبير بن العوام قد (حفظ) (١١) ما حفظت، فشهد عنده (فتركه) (١٢) ، (واسلم) (١٣) الهرمزان وفرض له (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فأنا).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط].
(٣) في [هـ] (فإذا) وفي [أ، ب]: (فأما إذا).
(٤) في [ب]: (يقول).
(٥) في [أ، ب، جـ]: (عدوا).
(٦) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٧) في [أ، ب]: (يستحي).
(٨) في [هـ]: (مجرأة).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [ط، هـ]: (أو لأبدأن).
(١١) في [أ، ب]: (حفظه).
(١٢) في [أ، ب]: (وتركه).
(١٣) سقط من: [أ، ب].
(١٤) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہرمزان اتر کر آیا اور گرفتاری دے دی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس کو میرے ساتھ بھیجا، جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ہرمزان خاموش ہوگیا اور کچھ نہ بولا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بولو، اس نے کہا زندوں والا یا مردوں والا کلام؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بولو کوئی حرج نہیں ہے ھرمزان نے کہا: اے قوم عرب، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ نے کچھ نہیں چھوڑا جیسا کہ ہم تم سے لڑتے ہیں اور تم کو قتل کرتے ہیں، بہر حال اگر اللہ پاک تمہارے ساتھ ہوتے تو ہمیں تم سے لڑنے پر قدرت نہ ہوتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے انس رضی اللہ عنہاپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ میں نے اپنے پیچھے بہت شوکت اور کثیر تعداد چھوڑی ہے، اگر آپ نے اس کو قتل کردیا تو قوم زندگی سے مایوس ہوجائے گی اور وہ ان کی شوکت کیلئے زیادہ سخت تھا، اور اگر اس کو زندہ رکھا تو قوم کو لالچ ہوگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے انس رضی اللہ عنہ! تجھے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت مجزاۃ بن ثور کے قاتل کو مارنے سے حیاء آرہی ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے اندیشہ ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو قتل کردیں گے، میں نے ان سے عرض کیا: آپ کیلئے اس کے قتل پر شرعی راستہ نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں؟ کیا آپ نے اس کو امان دی ہے؟ کیا آپ نے اس سے کچھ لیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں لیا، لیکن آپ نے خود اس سے فرمایا تھا بول تجھ پر کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا، تم ضرور کسی شخص کو لے کر آؤ جو تمہارے ساتھ گواہی دے، وگرنہ تمہیں سزا ملے گی، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس سے نکلا تو اچانک حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بن العوام ملے انہوں نے بھی وہی یاد کرلیا تھا جو میں نے یاد کیا تھا انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے گواہی دی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو چھوڑ دیا، ہر مزان مسلمان ہوگیا، اور اس کیلئے حصہ مقرر کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35638]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35638، ترقيم محمد عوامة 34084)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35638 in Urdu