پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35453 ترقیم الشثری: -- 37031
٣٧٠٣١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن اشياخه قال: دخل سعد بن ابي وقاص على سلمان يعوده فبكى، قال: فقال له سعد: ما يبكيك ابا عبد الله؟ توفي رسول الله ﷺ وهو عنك راض، وتلقاه وترد عليه الحوض، فقال سلمان: اما إني لا ابكي جزعا من الموت، ولا حرصا على الدنيا، ولكن رسول الله ﷺ عهد إلينا فقال:" (لتكن) (١) بلغة احدكم مثل زاد الراكب"، قال: وحولي هذه ⦗٢٥٣⦘ (الاساود) (٢) ، قال: وإنما حوله وسادة وجفنة ومطهرة، فقال سعد: يا ابا عبد الله اعهد إلينا عهدا ناخذ به من بعدك، فقال: يا سعد اذكر الله عند همك إذا هممت، وعند حكمك إذا حكمت، وعند يدك إذا قسمت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (لكن)، وفي [س، ع]: (ليكن).
(٢) في [ط، هـ]: (الأساودة).
(٣) مجهول؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٥٢)، وابن سعد ٤/ ٩٠، والحاكم ٤/ ٣١٧، وأبو عبيدة ٤/ ١٣٣ و ٤/ ١٣٧، وهناد في الزهد (٥٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ١٩١، والبيهقي في الشعب (١٠٣٩٥)، كما أخرجه أحمد (٢٣٧١١)، وابن حبان (٧٠٦)، وابن ماجه (٤١٠٤)، ووكيع في الزهد (٦٧)، وعبد الرزاق (٢٠٦٣٢)، وابن سعد ٤/ ٦١، والمروزي في زيادات زهد ابن المبارك (٩٦٦)، والطبراني (٦٠٦٩)، وابن أبي عاصم في الزهد (١٦٩)، والدولابي ١/ ٧٨.
حضرت ابو سفیان اپنے مشایخ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے وہ رونے لگے۔ راوی کہتے ہیں: تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا: آپ کو کس بات نے رلا دیا؟ حالانکہ رسول اللہ e نے اس حال میں رحلت فرمائی کہ وہ آپ سے راضی تھے، آپ (روز قیامت) ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کریں گے اور حوض کوثر پر بھی ان کے پاس تشریف لے جائیں گے۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: میں موت سے وحشت یا دنیا سے لگاؤ کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ (مجھے تو یہ بات غمگین کئے ہوئے ہے کہ رسول اللہ e نے ہمیں (یہ) وصیت فرمائی تھی: تمہارے گزر بسر کا انحصار صرف اتنی مقدار پر ہونا چاہئے جتنا ایک سوار (مسافر) کا توشہ ہوتا ہے۔ جب کہ میرے اردگرد یہ تکئے رکھے ہوئے ہیں (جو کہ مسافر کے توشہ سے زائد چیز ہے)۔ راوی کہتے ہیں: حالانکہ ان کے پاس صرف ایک تکیہ، ایک بڑا پیالہ اور ایک لوٹا رکھا تھا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو عبداللہ! آپ بھی ہمیں کوئی وصیت فرمائیں جسے ہم آپ کے بعد اپنائے رکھیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے سعد! (تین موقعوں پر) اللہ تعالیٰ کو (خصوصیت سے) یاد رکھو، (اول) اس وقت جب تمہیں کوئی غم لاحق ہو، (دوسرا) اس وقت جب تم کوئی فیصلہ کرنے لگو، اور (تیسر ١) اس وقت جب تم (شرکاء کے درمیان کوئی ایسی) تقسیم کرنے لگو (جس میں شرعا برابری لازم ہو)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37031]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37031، ترقيم محمد عوامة 35453)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37031 in Urdu