🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35443 ترقیم الشثری: -- 37019
٣٧٠١٩ - (حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة قال) (١) : حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن بعض (المدنيين) (٢) عن عطاء بن يسار قال: تعرضت الدنيا للنبي ﷺ فقال:"إني لست (اريدك) (٣) "، قالت: إن لم تردني (فسيريدني) (٤) غيرك (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [هـ]: (الدينين).
(٣) في [أ، ب]: (مريدك).
(٤) في [س]: (فيريدني).
(٥) مرسل مجهول؛ عطاء تابعي وبعض المدنيين مبهم.

حضرت عطاء بن یسار کہتے ہیں: نبی اکرم 5 کی خدمت میں دنیا (کی غیرضروری مادی نعمتیں) پیش ہوئیں تو آپ e نے فرمایا: یقینا مجھے تمہاری کوئی خواہش نہیں ہے۔ تو اس نے کہا: اگر آپ کو میری خواہش نہیں ہے تو عنقریب آپ کے سوا دیگر لوگ میری خوہش کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37019]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37019، ترقيم محمد عوامة 35443)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35444 ترقیم الشثری: -- 37020
٣٧٠٢٠ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن عمرو بن مرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما مثلي ومثل الدنيا كمثل (راكب) (١) قال في ظل شجرة في يوم (صائف) (٢) ثم راح وتركها" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الراكب).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (صايف).
(٣) صحيح؛ سماع وكيع من المسعودي جيد، أخرجه أحمد (٤٢٠٨)، وابن ماجه (٤١٠٩)، وأبو يعلى (٤٩٩٨)، والترمذي (٢٣٧٧)، وأبو نعيم ٢/ ١٠٢، والحاكم ٤/ ٣١٠، والشاشي (٣٤١)، والطبراني (١٠٣٢٧)، والطيالسي (٢٧٧).

حضرت عبد اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ e نے فرمایا: میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سوار سخت گرم دن میں کسی درخت کے نیچے رکے، پھر اسے چھوڑ کر (اپنی اصل منزل کی جانب) چل دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37020]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37020، ترقيم محمد عوامة 35444)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35445 ترقیم الشثری: -- 37021
٣٧٠٢١ - حدثنا ابو معاوية عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال: اخذ النبي ﷺ بيدي او ببعض جسدي فقال لي:"يا عبد الله بن عمر كن (في الدنيا) (١) غريبا او عابر سبيل، وعد نفسك في اهل القبور" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٢) ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (٥٠٠٢)، والترمذي (٢٣٣٣)، وابن ماجه (٤١١٤)، وأصله عند البخاري (٦٤١٦).

حضرت مجاھد سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: حضور اکرم e نے میرا ہاتھ۔ یا مجھے۔ پکڑا اور مجھ سے فرمایا: اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی پردیسی یا راہ رو کی مانند زندگی گزار، اور خود کو اہل قبور میں شمار کر۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں: (یہ روایت بیان کرنے کے بعد) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب صبح ہوجائے تو تم آئندہ شام کے بارے میں مت سوچو اور جب شام ہوجائے تو تم آئندہ صبح کے بارے میں مت سوچو۔ اور اپنی موت (کے آنے) سے پہلے اپنی زندگی سے فائدہ اٹھا لو، اور اپنی بیماری (کے آنے) سے پہلے اپنی صحت سے نفع اٹھا لو، کیونکہ یقینا تم نہیں جانتے کہ کل تمہارا کیا نام ہوگا (زندہ یا مردہ)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37021]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37021، ترقيم محمد عوامة 35445)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 37022
٣٧٠٢٢ - قال (١) مجاهد: وقال لي عبد الله ابن عمر: إذا اصبحت فلا تحدث نفسك بالمساء، وإذا امسيت فلا تحدث نفسك بالصباح، وخذ من حياتك قبل موتك، ومن صحتك قبل سقمك، فإنك لا تدري ما اسمك غدا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (لي).
(٢) ضعيف؛ لضعف ليث.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37022، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35446 ترقیم الشثری: -- 37023
٣٧٠٢٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي السفر عن عبد الله بن عمرو قال: مر علي رسول الله ﷺ ونحن نصلح خصا لنا فقال:"ما هذا؟" قلت: خص (١) لنا وها نصلحه، فقال رسول الله ﷺ:"ما ارى الامر إلا اعجل من ذلك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) الخص: بيت يصنع من خشب.
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٥٠٢)، وأبو داود (٥٢٣٥)، والترمذي (٢٣٣٥)، وابن ماجه (٤١٦٠)، وابن حبان (٢٩٩٦)، والبغوي (٤٠٣٠)، والبخاري في الأدب (٤٥٦).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ e کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے۔ آپ e نے دریافت فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہمارا جھونپڑا ہے جسے ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ تو آپ e نے فرمایا: امر (قیامت یا موت) تو اس (کے صحیح ہونے) سے بھی پہلے آجانے والا ہے (لہذا اس کی تیاری کے لئے اپنے اعمال کی اصلاح اور درستی کی بھی فکر کرنی چاہئے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37023]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37023، ترقيم محمد عوامة 35446)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35447 ترقیم الشثری: -- 37024
٣٧٠٢٤ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس قال: سمعت مستوردا (اخا بني) (١) (فهر) (٢) يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"والله ما الدنيا في الآخرة إلا كما يضع احدكم إصبعه في اليم ثم يرفعها فلينظر بم يرجع" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (أخي بني)، وفي [س]: (أخاني).
(٢) في [س]: (فهو).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٥٨)، وأحمد (١٨٠٠٨).

حضرت مستورد جو کہ بنی فہر سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ e کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کی قسم آخرت (کے مقابلے) میں (دنیا کی مثال) ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی کو دریا میں ڈبو کر نکال لے، پھر دیکھے کہ (اس دریا کے پانی میں سے اس کی انگلی کے ساتھ لگ کر) کتنا نکلا ہے (بس جو حیثیت دریا کے پانی کے مقابلے میں انگلی پر لگے ہوئے پانی کی ہے وہی حیثیت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37024]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37024، ترقيم محمد عوامة 35447)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35448 ترقیم الشثری: -- 37025
٣٧٠٢٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس عن المستورد عن النبي ﷺ مثله، إلا انه لم يقل: (ثم) (١) يرفعها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) صحيح؛ وانظر: ما قبله.

حضرت مستور د سے ایک اور روایت بھی اسی طرح کی منقول ہے لیکن اس میں نکال لے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37025]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37025، ترقيم محمد عوامة 35448)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35449 ترقیم الشثری: -- 37026
٣٧٠٢٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة (قالت) (١) : كان (اوساد) (٢) رسول الله ﷺ (٣) يتكئ عليه من ادم حشوه ليف (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، س]: (أساد)، وفي [ط، هـ]: (أساود).
(٣) في [هـ]: زيادة (الذي).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٥٦)، ومسلم (٢٠٨٢).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس تکیہ پر رسول اللہ e ٹیک لگایا کرتے تھے وہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37026]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37026، ترقيم محمد عوامة 35449)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35450 ترقیم الشثری: -- 37027
٣٧٠٢٧ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) يحيى بن جعدة قال: عاد ناس من اصحاب رسول الله ﷺ خبابا فقالوا: ابشر ابا عبد الله، ترد على محمد ﵊ الحوض، فقال: كيف بهذا وهذه اسفل البيت واعلاه وقد قال لنا رسول الله ﷺ:"إنما يكفي احدكم من الدنيا كقدر زاد الراكب" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في النسخ والمسند (٤٧٥): (بن)، والتصويب من كتب التخريج والتراجم.
(٢) صحيح؛ أخرجه الحميدي (١٥١)، وأبو يعلى (٧٢١٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٦٠، والطبراني (٣٦٩٥)، والبيهقي في الشعب (١٠٤٠١).

حضرت یحییٰ بن جعدہ کہتے ہیں: رسول اللہ e کے چند صحابہ کرام حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو ان سے کہا: اے ابو عبداللہ خوشخبری لیجئے کہ آپ (روز قیامت) حضور e کے پاس حوض کوثر پر تشریف لے جائیں گے۔ (یہ سن کر) حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ میرے گھر کی یہ شان و شوکت ہے، حالانکہ رسول اللہ e نے ہمیں (آگاہ کرتے ہوئے) فرمایا تھا: تمہارے لئے دنیا میں سے اتنا حصہ کافی ہے جتنا ایک مسافرکا توشہ ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37027]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37027، ترقيم محمد عوامة 35450)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35451 ترقیم الشثری: -- 37028
٣٧٠٢٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (شقيق) (١) قال: دخل معاوية على خاله ابي هاشم بن عتبة يعوده فبكى فقال له معاوية: ما يبكيك يا خالي، اوجع (يشئزك) (٢) (ام) (٣) حرص على الدنيا؟ فقال: كل لا، ولكن النبي ﷺ عهد إلينا (قال) (٤) :"يا ابا هاشم، إنها لعلها تدرككم (اموال) (٥) (تؤتاها) (٦) اقوام، ⦗٢٥٢⦘ فإنما يكفيك من جمع المال: خادم ومركب في سبيل الله"، فاراني قد جمعت (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سفيان).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (تشينك).
(٣) في [أ، ب، جـ، ع]: (أو).
(٤) في [أ، ب]: (فقال).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [ب]: (لوتها).
(٧) منقطع؛ شقيق يرويه بالواسطة كما سيأتي، أخرجه أحمد (١٥٦٦٤)، والترمذي (٢٣٢٧)، والنسائي في الكبرى (٩٨١٠)، والحاكم ٣/ ٦٣٨، والطبراني (٧٢٠٠)، وهناد في الزهد (٥٦٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٥٥٩)، والدولابي ١/ ٦٠، وابن عبد البر في الاستيعاب ١٢/ ١٦٦، والمزي ٣٤/ ٣٦٠.

حضرت شقیق کہتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہاپنے ماموں ابو ہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو ان کے ماموں رونے لگے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: اے میرے ماموں آپ کیوں رو رہے ہیں، کیا (مرض کی) تکلیف نے آپ کو رنجیدہ کر رکھا ہے یا دنیا سے (طبعی) لگاؤ نے۔ انہوں نے جواب دیا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ (مجھے تو اس بات نے رنجیدہ کر رکھا ہے کہ) نبی اکرم e نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! تمہیں بھی یقینا وہ مال و دولت میسر آئے گا جو دیگر (فاتح) اقوام کو میسر آتا ہے، مگر تمہارے لئے تو صرف ایک خادم اور راہ خدا میں (جہاد کے لئے) ایک سواری ہی کافی ہوگی۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میں (اس سے کہیں زیادہ) مال جمع کرچکا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37028]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37028، ترقيم محمد عوامة 35451)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں