🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35522 ترقیم الشثری: -- 37100
٣٧١٠٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن عجلان عن عياض بن عبد الله عن ابي سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ وهو على المنبر:"إن اخوف ما اخاف عليكم ما يخرج الله من نبات الارض او زهرة الدنيا"، فقام رجل فقال: يا رسول الله (١) هل ياتي الخير بالشر؟ (فسكت) (٢) حتى ظننا انه ينزل عليه وغشيه ⦗٢٧٨⦘ (بهر) (٣) وعرق، ثم قال:"اين السائل؟" ولم يرد إلا خيرا (٤) . فقال:" (إن) (٥) الخير لا ياتي إلا بالخير، ولكن الدنيا خضرة حلوة، كل ما ينبت الربيع (يقتل) (٦) (حبطا) (٧) او يلم، إلا آكلة الخضر، تاكل حتى إذا امتلات خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت (٨) ، ثم بالت، ثم افاضت (فاجترت) (٩) ، من اخذ مالا بحقه بورك فيه، ومن اخذ مالا بغير حقه كان كالذي ياكل و (لا) (١٠) يشبع" (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة ﷺ.
(٢) في [س]: (سكتنا).
(٣) في [جـ، ع]: (لهر)، وفي [ب]: (لهز)، والبهر: تتابع النفس.
(٤) في [هـ]: زيادة (فقال: ها أنا ولم أرد إلا خيرًا).
(٥) سقط من: [أ].
(٦) في [س]: (يقبل).
(٧) في [س]: (حيف)، وفي [أ، ب]: (حطًا)، والحبط: التخمة.
(٨) أي: خرج الغائط كثيرًا.
(٩) في [أ، ب]: (فأخبرت)، وفي [س]: (فاجتبرت).
(١٠) سقط من: [س].
(١١) حسن؛ ابن عجلان صدوق، أخرجه البخاري (٦٤٢٧)، ومسلم (١٠٥٢).

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا … جبکہ آپ منبر پر تھے … مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ زمین کے نباتات میں یا زندگی کی رنگینی میں نکالیں گے۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر لاتا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور کپکپی ظاہر ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے خیر کا ہی ارادہ کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا خیر تو خیر ہی لاتی ہے لیکن یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ وہ پودے جو بہار میں اگتے ہیں وہ پیٹ کو خوب بھر لینے والے جانوروں کو یا تو مار ڈالتے ہیں یا مارنے کے قریب کردیتے ہیں، سوائے سبزہ کھانے والے ان جانوروں کے جو پیٹ کے معمولی بھر جانے کے بعد دھوپ میں چلے جاتے ہیں، جگالی کرتے ہیں، غذا کو نرم و ہضم کرتے ہیں، پاخانہ کرتے ہیں اور پھر کھانے کے لیے دوبارہ آجاتے ہیں۔ جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس مال میں برکت دی جاتی ہے اور جو شخص مال کو اس کے حق کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37100]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37100، ترقيم محمد عوامة 35522)

Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37100 in Urdu