🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. كلام سلمان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35813 ترقیم الشثری: -- 37395
٣٧٣٩٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش (عن شمر) (١) عن شهر بن حوشب قال: جاء سلمان إلى ابي الدرداء فلم يجده، فسلم على ام الدرداء وقال: اين اخي؟ قالت: في المسجد، وعليه عباءة له قطوانية، فالقت إليه خلق وسادة، فابى ان يجلس عليها ولوى عمامته فطرحها فجلس (عليها) (٢) ، قال: فجاء ابو الدرداء معلقا لحما بدرهمين، فقامت ام الدرداء فطبخته وخبزت، ثم جاءت بالطعام وابو الدرداء صائم، فقال سلمان: من ياكل معي؟ فقال: تاكل معك ام الدرداء، فلم يدعه حتى افطر، فقال سلمان لام الدرداء ورآها سيئة الهيئة: مالك؟ قالت: إن اخاك لا يزيد النساء، يصوم النهار ويقوم الليل، فبات عنده، فجعل ابو الدرداء يزيد ان يقوم فيحبسه، حتى كان قبل الفجر فقام (فتوضا) (٣) وصلى ركعات، (٤) فقال له ابو الدرداء: (حبستني) (٥) عن صلاتي، فقال له سلمان: صل ونم، وصم وافطر، فإن لاهلك عليك حقا، ولعينيك عليك حقا (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (عليهما).
(٣) في [ب]: (وتوظأ).
(٤) في [جـ، ع]: زيادة (قال).
(٥) في [ع]: (أحبستني).
(٦) منقطع؛ شهر لا يروي عن سلمان وأبي الدرداء، أخرجه الطبراني في الأوسط (٧٦٣٧).

حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان، حضرت ابوالدرداء کے ہاں تشریف لے گئے لیکن انہیں موجود نہ پایا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ام درداء رضی اللہ عنہا کو سلام کیا اور کہا: میرا بھائی کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا مسجد میں اور ان پر اہلیہ کا قطوانی چوغہ تھا۔ ام درداء رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف پرانا تکیہ پھینکا۔ انہوں نے اس پر بیٹھنے سے انکار کردیا اور اپنے عمامہ کو اتارا اور اس کو نیچے ڈال کر اس پر بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ دو درہموں کا گوشت اٹھائے ہوئے۔ چناچہ حضرت ام درداء کھڑی ہوئیں انہوں نے اس کو پکایا اور روٹی پکائی۔ پھر کھانا لے کر آئی۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ حضرت سلمان نے کہا میرے ساتھ کون کھائے گا؟ انہوں نے کہا تمہارے ساتھ ام درداء کھائیں گی۔ حضرت سلمان نے ان کو روزہ افطار کروائے بغیر نہ چھوڑا۔ پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ام درداء سے کہا۔ آپ نے ان کی خستہ حالت دیکھی تھی۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ آپ کا بھائی عورتوں کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔ چناچہ آپ نے ان کے ہاں رات گزاری۔ اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہاٹھنے کا ارادہ کرتے تو حضرت سلمان ان کو روک دیتے یہاں تک کہ فجر سے پہلے کا وقت ہوگیا تو آپ کھڑے ہوئے وضو کیا اور چند رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت ابوالدراء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ آپ نے مجھے میری نماز سے روکا ہے۔ حضرت سلمان نے ان سے کہا۔ نماز پڑھو اور سو جاؤ۔ روزہ رکھو اور افطار کرو کیونکہ تمہارے اہل خانہ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37395]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37395، ترقيم محمد عوامة 35813)

Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37395 in Urdu